سیلائن ایگریکلچر سے کلراٹھی زمینوں سے بہتر پیداوارکا حصول ممکن ہے :ماہرین

سیلائن ایگریکلچر سے کلراٹھی زمینوں سے بہتر پیداوارکا حصول ممکن ہے :ماہرین

راولپنڈی(اے پی پی ) زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیلائن ایگریکلچر کے جدید طریقہ کاشت سے کلراٹھی اور تھور زدہ زمینوں سے پیداوار حاصل کر سکتے ہیں ۔ماہرین نے کہاکہ زرعی سائنسدانوں نے کلر اور تھور زدہ رقبوں پر فصلات کی کامیاب کاشت کے کچھ جدید طریقے متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے کم خرچ سے اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کو سیلائن ایگریکلچر (Saline Agriculture) کا نام دیا گیا ہے۔ سیلائن زراعت کا مقصد شور زدہ اراضیات اور کھارے پانی کا بہتر طریقہ سے استعمال ہے۔یہ ایک آسان اور سستا جدید طریقہ ہے جس کے ذریعے کلر اور سیم کے خلاف فصلات اور ان کی بہتر اقسام کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں کلر اور تھور سے متاثرہ رقبہ کم و بیش پونے دو لاکھ ایکڑ ہے۔ اس میں سے کچھ رقبہ زیر کاشت لایا گیا ہے جبکہ زیادہ تر رقبہ ویران اور خالی پڑا ہے۔

(tca/mik/mrn 1

مزید : کامرس