مارک اپ شرع برقرار رکھنے سے مایوسی ہوئی کاروباری طبقہ

مارک اپ شرع برقرار رکھنے سے مایوسی ہوئی کاروباری طبقہ

            لاہور ( اسد اقبال )ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور تاجروں نے سٹیٹ بنک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح برقرار رکھنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مارک اپ کی شرح کم از کم آٹھ فیصد تک لائی جائے تاکہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو، کاروباری شعبے میں استحکام آئے اورتجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوسکے۔جبکہ شر ح سو د کو نیچے لا نے کے لیے افراط زر کو کنٹرول کیا جائے مو بائل فورم سے گفتگو کرتے ہوئے انجمن تاجران پاکستان کے مر کزی جنرل سیکر ٹری نعیم میر، سارک چیمبرآف کامرس کے نائب صدر افتخار ملک، بزنس مین پینل کے چیئرمین طارق سعید ، لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر عرفان اقبال شیخ ، فلور ملز ایسو سی ایشن کے مر کزی رہنماءعاصم رضا ،مسلم لیگ (ن) ٹریڈرز ونگ کے سینئر نائب صدر ابوذرغفاری ، انجمن تاجران لاہور کے جوائنٹ سیکر ٹری میاں سلیم اور قو می تاجر اتحاد کے جنرل سیکر ٹری حافظ عابد علی نے کہا کہ غیر اعلانیہ طو یل لو ڈشیڈنگ نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ہزاروں کارخانے توانائی بحران کے باعث بند ہو چکے ہیں جس سے بے روزگاری کا سیلاب امڈآیا ہے اور صنعتکا روں میں تشو یش کی لہر دوڑ چکی ہے ۔انھو ں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے انڈسٹر ی کو ریلیف دینا پڑتا ہے جبکہ صنعت سازی کا عمل تیز اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی شعبے کو سستے قرضوں کی فراہمی بہت ضروری ہے لیکن سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح برقرار رکھ کر مایوس کیا ہے حالانکہ کاروباری برادری امید کررہی تھی کہ مارک اپ کی شرح میں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بحرانوں کی وجہ سے صنعتیں بندش یا پھر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں لہذا سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مارک اپ کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔صنعتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی میں تب تک کمی ممکن نہیں جب تک افراط زر کو کنٹرول نہ کیا جائے جس کو کنٹرول کر نے کے لیے حکومتی ٹیکسو ں میں کمی جبکہ سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے نیچے لا تے ہوئے سنگل ڈیجیٹ پر لائے اور ملکی کر نسی کو چھا پنے سے گز یز کرے جس سے افرط زر کنٹرول اورشرح سو د میں یقینی کمی واقع ہو گی ۔

مایوسی

مزید : صفحہ آخر