عالمی مالیاتی اداروں سے آزادی دہشت گردی سے نجات دلاسکتی ہے

عالمی مالیاتی اداروں سے آزادی دہشت گردی سے نجات دلاسکتی ہے

                                         لاہور(اے این این )جماعت اسلامی کے پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ملک میں بدامنی ، دہشتگردی ، غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری سمیت تمام مسائل کا حل آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے نجات اور خود انحصاری میں ہے ۔ حکومت سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں پڑے قوم کے 400بلین ڈالر واپس لائے۔ جس ملک کے حکمران خود اپنا سرمایہ باہر بھجوارہے ہوں تو اس ملک میں باہر کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کیسے کریں گے ؟۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے جب تک کراچی سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا خاتمہ نہیں ہوتا ، ملکی معیشت ترقی نہیں کر سکتی ۔ ٹارگٹڈ آپریشن عملاً ناکام ہو گیاہے نوازشریف نمائشی کے بجائے کراچی میں امن کے لیے ٹھوس اقدامات کریں ۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے جو آبی دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کو بنجر کر کے ہماری زراعت اور صنعت کو تباہ کر رہاہے ۔ حکومت آئندہ بجٹ میں اگر کالاباغ ڈیم نہیں تو کسی دوسرے بڑے ڈیم کے لیے فنڈز مختص کرے ۔ بھاشا ڈیم منصوبے کو ٹیکنیکل بنیادوں پر انجینئرز اور ماہرین نے ناکام قرار دیاتھا اب ورلڈ بنک نے بھی اس کے لیے فنڈز مہیا کرنے سے انکار کر دیاہے اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر اکوڑی ڈیم کے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ سیمینار سے جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری و مسلم لیگ ن پنجاب کے تاجر ونگ کے صدر محمد علی میاں ،سابق ممبر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور جماعت اسلامی کی معاشی امور کمیٹی کے سیکرٹری سرفراز احمد خان ، ابرار احمد مگوں ، کسان بورڈ پاکستان کے حاجی محمد رمضان اور فیصل جاوید نے خطاب کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ عوام نے ٹھیکیداروں کو تیسری بار بلایا ہے۔

 کہ وہ مکان کی تعمیر مکمل کریں مگر وہ ہر بار کام ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ، حکمرانوں نے انتخابات سے قبل بڑے دعوے کیے تھے کہ اس بار وہ انقلابی اقدامات کریں گے اور ملک میں بڑی تبدیلی لائیں گے ۔ عوام کی ساری پریشانیاں دور کریں گے مگر عملاً ایک سال کے اندر ہی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے ۔ بجلی ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کے بحران پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں ۔ حکمرانوں کی بے تدبیری ، کرپشن اور قومی وسائل کی بندر بانٹ نے قوم کے اندر مایوسی اور بداعتمادی پیدا کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے کرپشن کے پہاڑ کھڑے کر کے قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ میٹرو بس جیسے من پسند منصوبوں پر سینکڑوں ارب روپے خرچ کر رہے ہیں مگر ریلوے اور پی آئی اے جیسے قومی اداروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہاہے ۔انہو ں نے کہاکہ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ اور سودی نظام ناکامی سے دوچار ہے مگر ہمار ے حکمران سپریم کورٹ میں سود کے حق میں دائر کی گئی پٹیشن واپس لینے کے لیے تیار نہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ سود کی جکڑ بندی صنعت کو چلنے نہیں دے رہی ۔ غربت مہنگائی تعلیم اور صحت کے شعبوں کی زبوں حالی کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔

مزید : علاقائی