پٹواری اور تھانہ کلچر تبدیل، کرپشن ختم ، جو چاہے ، دیکھ لے : وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے چیلنج کردیا

پٹواری اور تھانہ کلچر تبدیل، کرپشن ختم ، جو چاہے ، دیکھ لے : وزیراعلیٰ ...
پٹواری اور تھانہ کلچر تبدیل، کرپشن ختم ، جو چاہے ، دیکھ لے : وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے چیلنج کردیا

  

  لاہور(خصوصی رپورٹر) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق حکومتی ڈھانچے اور معاشرے میں تبدیلی کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجے میں تھانوں پٹوار خانوں، سکولوں اور ہسپتالوں میں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔ جو چاہے آکر دیکھ لے،وہ لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما خورشید قصوری کی رہائش گاہ پر سینئر ایڈیٹرز اور اینکر پرسنز سے گفتگو اور تحریک انصاف پنجاب کی طرف سے ایک ہوٹل میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کررہے تھے۔سینئر ایڈیٹرز اور اینکر پرسنز سے بات چیت کرتے ہوئے پرویزخٹک نے اپنیحکومت کی طرف سے ایک سال میں کی گئی بہت سی اصلاحات کا ذکر کرلیا اور کہا کہ زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا، عام آدمی کے حالات بدلنے کے لئے نظام بدلنا ضروری تھا جس کے ان کی حکومت نے مطلوبہ اقدامات شروع کئے انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو خیبرپختونخوا کو پاکستان کے سب سے کرپٹ صوبے کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔ سرکاری ملازمین کے تقرر تبادلوں سے لے کر تعمیراتی کاموں کے ٹھیکوں تک کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا تھا لیکن آج کوئی شخص ان پر یا ان کے وزراءپر اس حوالے سے انگلی نہیں اٹھا سکتا۔پرویز خٹک نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عمران خان کے دیئے ہوئے دو اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک یہ کہ اگر لیڈر کرپٹ نہ ہوتو نیچے کرپشن نہیں ہوسکتی اور دوسرا یہ کہ اگر لیڈر کمزور ہوتو سخت فیصلے نہیں کرسکتا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پنجاب میں سوائے بڑی بڑی سڑکیں بنانے کے نظام کی تبدیلی کے لئے کوئی اقدمات نہیں کئے گئے۔پنجاب میں آج بھی تھانیدار فرعون ہے اور یہاں اور عام آدمی کی تذلیل ہوتی ہے جس سرمایہ اداروں کے لئے یہ نظام کام کررہا ہے۔یہ نظام کام کررہا ہے وہ تو بڑی بڑی سڑکوں سے خوش ہوتے ہیں لیکن انہیں صحت تعلیم اور انصاف کے لئے مارے مارے پھرنے والے لاکھوں غریب نظر میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت کرنے والے تیس چالیس سال سے حکمران ہیں۔ پھر بھی انہوں نے نظام کی تبدیلی کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ جبکہ ہمیں تو صرف 8، 9ماہ ہی ہوئے یں۔ لیکن اس عرصے میں ہم نے وہ کام کر دکھائے ہیں۔ جو اس ملک کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوئے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے ذریعے 25نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ جن میں اطلاعات تک رسائی ، بنیادی سروسز تک رسائی صوبائی احتساب کمیشن اور پولیس بلدیات کے قوانین بہت اہم ہیں انہوں نے پولیس صحت، تعلیم اور ریونیو کے شعبوں میں حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی سیمینار اصلاحات کا تفصیلاً ذکر کیا۔پرویز خٹک نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک غریب صوبہ ہے۔ ان کی حکومت وسائل میں اضافے کے لئے کوشاں ہے اور ریونیو کو لیکشن میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عوام سے اپیل کی جارہی ہے خصوصیاً سکلوں کی تعمیرنوکے کام میں حکومت کا ساتھ دیں ایسا نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ کہ پیسہ دینے والے یہ معلوم کرسکیں گے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے لیکن چونکہ سپریم کورٹ نے حلقہ بندیاں دوبارہ کرنے کا کام الیکشن کمیشن کوتفویض دیا ہے اس لئے انتخابات التواءکا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا کہ اگر چہ حلقہ بندیوں کے بارے میں بدمعاشی اور دھوکہ بازی صرف پنجاب اور سندھ میں ہوئی تھی جبکہ خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے ایک بھی شکایت نہیں ہے لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی الیکشن کمیشن سے دوبارہ حلقہ بندیا ںکرانا پڑیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات اکتوبر ،نومبر تک ہوسکتے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ جس تبدیلی کی تحریک انصاف داعی ہے وہ خیبرپختونخوا سے شروع ہوچکی ہے۔ اور وہ تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں اور خود نظام کی تبدیلی دیکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے عوام سے کمٹمنٹ پوری نہ کی تو لوگوں کو ہمیں ٹھکرانے کا پورا حق ہے اور اگر ایک پیسہ بھی حرام ہمارے گھر جائے تو اللہ تعالیٰ ہمیں برباد کردے۔نہ ہم وہ ڈاکو ہیں جنہوں نے گزشتہ برسوں میں قومی خزانے پر اربوں کے ڈاکے ڈالے اور نہ وہ بزنس مین ہیں جو اربوں میں کھیلتے ہیں لیکن ان کے کام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔جنرل رپورٹر کے مطابق استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امیر و غریب کا فرق ملک کو تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے، اگر غریبوںکو سہولتیں نہ دی گئیں تو ایک دن انقلاب آئے گا ۔ اس موقع پر خیبر پختوانخواکی صوبائی کابینہ کے اراکین ،پنجاب کے صدر اعجازچودھری ‘ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسمین راشد‘ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ خود کو تبدیل کئے بغیر ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی ۔ میں وزیر اعلیٰ ہوں اور دیکھ لیں میں جب آیا ہوں تو یہاں پر کوئی سکیورٹی اور پروٹوکول نہیں ۔ اگر ہم خود وی آئی پی کلچر ختم نہیں کریں گے تو یہ کیسے ختم ہوگا۔ جب تک لیڈر کرپٹ ہوں گے ملک سے کرپشن ختم نہیں ہو سکتی اسی لئے ہم ایسا قانون لا رہے ہیں جس سے کوئی افسر یا بیورو کریٹ وہ کاروبار نہیں کر سکے گا کہ اسکی کرسی سے اسے کوئی فوائد حاصل ہو سکیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان نے غریبوں کا سوچا ۔ تحریک انصاف کا منشور غریب او رکمزور لوگوں کے لئے ہے، ہم اس طبقے کو پولیس ، پٹوار خانوں اور سرکاری دفاتر میں انصاف دلانا چاہتے ہیں ۔ باتیں کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ اسکے لئے مستحکم قانون سازی کرنا پڑتی ہے۔ اگر میں بھی کچھ غلط کروں تو میرا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ اسی لئے ہم خیبر پختوانخوا میں احتساب کا ایسا نظام لا رہے ہیں جو کسی بھی غلط کام پر بڑے سے بڑے آدمی پر ہاتھ ڈال سکے گا چاہے اس میں میں بھی کیوں نہ ہوں۔پرویز خٹک نے کہا کہ خیبر پختوانخوامیں ایمر جنسی ہسپتالوں کی میں ادویات بالکل مفت فراہم کی جارہی ہیں اسکے علاوہ ڈائلائسزانجیو گرافی، کا علاج بالکل مفت کر دیا ہے ۔ہم باقی کام بند کر دیں گے لیکن غریبوں کی مدد ضرور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سے معاہدہ کیا ہے کہ انہیں تمام اختیارات دئیے جائیں گے لیکن وہ صرف تھانہ کلچر کو تبدیل کر دیں ۔ ہمارے صوبے میں زمینوںکا ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ ہو رہا ہے لیکن جب تک یہ نظام مکمل ہوگا کیا لوگ اسی طرح لٹتے رہیں گے اس لئے ہم نے وہاں پر خریدو فروخت کے کاغذات میں ایک حلف نامہ تیار کرایا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ اس سودے میں کوئی کرپشن نہیں۔ انہوںنے کہا کہ میں نے ایک ریسٹ ہاﺅس چیک کیا جہاں پر آمدن صرف دو لاکھ جبکہ اس کا خرچہ پچاس لاکھ روپے تھا ہم نے خیبر پختوانخوا میں تمام ریسٹ ہاﺅسز محکمہ سیاحت کو دیدئیے ہیں اور اب وہاں جو بھی آ کر ٹھہرے گا وہ اس کا خرچہ دے گا ۔ اب صوبے میں سرکاری افسروں کی گاڑیاں اور بنگلے بھی ختم ہو جائیں گے ۔ ہم انکی تنخواہ ضرور بڑھائیں گے لیکن گاڑیاں واپس لے لی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاق کو جو بجلی پیدا کرکے دیتے ہیں ہمیں اس کے دو روپے فی یونٹ دئیے جاتے ہیں جبکہ آگے اسے مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے ،وزیر اعظم اور متعلقہ وزیر سے ملا قات کی کہ ہمیں ہمارا حق استعمال کرنے کی اجازت دی جائے وہ مان بھی گئے لیکن عملی اقدامات کے لئے خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریٹس ہمیں تباہی کی طرف لے گئے اب ہم ٹیکنو کریٹس کو سامنے لائیںگے۔ انہوںنے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم مولانا فضل الرحمن کی دو نشستیں جیتیں گے تو کیا وہ ہماری تعریفیں کریں گے؟۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو اللہ ہی سمجھائے کہ پلوں اور سڑکوں سے ملک نہیں بنتے ۔ میں ڈمی وزیر اعلیٰ نہیں ، حکومت کے معاملات میں پارٹی چیئرمین ہرگز مداخلت نہیں کرتے ۔ جہاں بھی دھاندلی ہوئی ہم اسکی مخالفت کرتے ہیں اگر کسی کو میرے صوبے کے بارے میں شک ہے تو میں سب سے پہلے اپنا حلقہ پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ہر صورت آگے بڑھائے جائیں۔ ورنہ دوبارہ اے پی سی میں یہ وضاحت کی جائے کہ حکومت کیا اقدام کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ یقین دہانی کر ادی جائے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہرہ اور خیبر پختوانخواہ نہیں ڈوبے گا تو میں خود اس کے مخالفوں کو اس کےلئے راضی کر سکتا ہوں۔

مزید : لاہور /اہم خبریں