گاڑیوں میں جاسوسی کے آلات لگانے کا فیصلہ

گاڑیوں میں جاسوسی کے آلات لگانے کا فیصلہ
 گاڑیوں میں جاسوسی کے آلات لگانے کا فیصلہ

  

بوسٹن (نیوز ڈیسک)تیز رفتاری خطرہ جان ہے ، آپ نے ٹریفک پولیس کا یہ پیغام اکثر پڑھا ہوگا لیکن بد قسمتی سے کچھ بد دماغ ڈرائیور اس پیغام کو ہر گز قابل توجہ نہیں سمجھتے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی موت کے منہ میں لے جاتے ہیں ۔ یورپی یونین کے ممالک نے تیز رفتاری اور ٹریفک کے دیگر مسائل سے نمٹنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سال اکتوبر سے ہر نئی بننے والی کار میں جاسوسی کا ایک ایسا آلہ لگایا جائے گا جو رفتار ، جگہ، سمت اورروٹ جیسی معلومات حکام کو فراہم کرتا رہے گا۔ طیاروں کے بلیک باکس کی طرز پر بنایا جانے والا ٹریکنگ کا یہ آلہ پرانی کاروں میں بھی لگانا ضروری ہوگا اور ایسا نہ کرنے پر گاڑی کی انشورنس بھی نہیںہو سکے گی ۔ ٹیلی میٹکس نامی اس ٹیکنالوجی کوپہلے ہی کئی گاڑیوں میں استعمال کرکے ان کے سفر کی معلومات سفر کے وقت اور ڈرائیونگ کے روئے جیساکہ رفتار اور بریک لگانے کے عمل جیسی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ نامی ادارے کے ایک اندازے کے مطابق 2020تک تمام گاڑیوں کی تقریباً نصف تعداد میں یہ نظام موجود ہوگا۔انشورنس کمپنیاں یہ آلات لگوانے والوں کو خصوصی رعایت دیں گی ۔ دوسری طرف ذاتی معلومات کے تحفظ کے حامیوں نے اس قسم کے ٹریکنگ آلات کی شدید مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈرائیوروں کو معلوم نہیںہوگا کہ کون ان کا ڈیٹا حاصل کر رہا ہے اور اس ڈیٹا کا کیا استعمال کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی