دنیا بھر میں 91 فیصد ا موات سڑک کے حادثات کے باعث ہوتی ہیں

دنیا بھر میں 91 فیصد ا موات سڑک کے حادثات کے باعث ہوتی ہیں
 دنیا بھر میں 91 فیصد ا موات سڑک کے حادثات کے باعث ہوتی ہیں

  



دنیا بھر میں 91 فیصد اموات ٹریفک کی وجہ سے رونما ہونے والے حادثات کی وجہ سے ہوتی ہیں اور یہ شرح کم آمدنی اور متوسط آمدنی والے ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہے۔حادثات کے اعدادوشمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اِن حادثات کا شکار 15-19 سال کے نوجوان زیادہ ہوتے ہیں۔یہ بھی المیہ ہے کہ کم آمدنی اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اوسطاََ آدھی دنیا کی گاڑیاں موجود ہیں۔ہر سال دنیا بھر میں12 لاکھ لوگ ٹریفک کے حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں، جبکہ 50 لاکھ معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ورلڈرپورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ دنیا بھر میں 2020 ء تک روڈ کے حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 60 فیصد ہو جائے گی۔

پاکستان میں ایمرجنسی سروس ریسکیو1122 کے اعدادوشمار کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں ایمرجنسی سروس نے گزشتہ بارہ سال میں 13لاکھ ٹریفک حادثات کے متاثرین کو بروقت ریسکیو سروسز فراہم کی، یہ بات بھی ان اعدادوشمار سے واضح ہے کہ اموات کی سب سے بڑی وجہ روڈ کے حادثات ہیں، جن میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے جو گھر کے واحد کمانے والے ہوتے ہیں۔ ہر دن ایمرجنسی سروس تقریباََ700َ روڈٹریفک کے حادثات کی کالز پر بروقت مدد فراہم کرتی ہے ۔ اگرچہ ٹریفک متاثرین کے دُکھ اور تکلیف کا شمار اعدادوشمار میں بیان نہیں کیا جاسکتا، لیکن گورنمنٹ آف پنجاب مبارکبادکی مستحق ہے۔ جس کی لگاتار سپورٹ سے ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا ایک منظم نظام پنجاب میں مؤثر طور پر کام کررہا ہے اور مختلف حادثات میں بروقت رسپانس سے 40 لاکھ افراد بشمول ٹریفک حادثات کے متاثرین کو ریسکیو کیا گیا ہے اور یہ وہ واحد معیاری ایمرجنسی سروس ہے جس کو دوسرے صوبوں نے نہ صرف سراہا، بلکہ پنجاب حکومت سے معاونت حاصل کرکے اپنے صوبے میں بھی یہ سروس قائم کی۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 اور دوسرے متعلقہ ادارے جیسے نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس اسلام آباد ٹریفک پولیس، سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی لاہور فیصل آباد ملتان اور گو جرانوالہ ، پنجاب ٹریفک پولیس عوام الناس کی روڈ سیفٹی کے حوالے سے تعلیم وتربیت کے لئے مسلسل کوشاں ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی نہیں آرہی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف سیفٹی ایجوکیشن کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ پائیدار جامع اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ سیفٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔روڈ سیفٹی کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہر شہری ایک ذمہ دار شہری کی طرح سڑک پر اپنے ذ مہ دار روئیے کو یقینی بنائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ٹریفک حادثات کی شرح کو کم نہ کیا جاسکے ۔ ٹریفک حادثات کی مختلف وجوحات سامنے آئی ہیں جن میں گاڑی میں خرابی، سڑک میں خرابی اور روڈ استعمال کرنے والے شہری کا رویہ شامل ہے، لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا روّیہ ہے، جس کی وجہ سے 80 سے 90 فیصد ٹریفک کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنے پرجوش روئیے کی وجہ سے ٹریفک قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، بسا اوقات سیٹ بلٹ نہیں پہنتے۔ تیز رفتاری سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نشہ آور چیز کا استعمال کر کے ٹریفک علامات کے سائن بورڈ کو نظر انداز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے حادثات رونما ہوتے ہیں، ایسے تمام حادثات سے بآسانی بچا جا سکتا ہے اور ایسے حادثات کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے اگر سرکاری، نیم سرکاری ادارے، نیشنل سوسائٹی جیسے پاکستان ریڈ کریسنٹ ، ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملکر کام کریں۔

مہذب قومیں اپنے ملک کے ٹریفک کے مزاج سے پہچانی جاتی ہیں اور ٹریفک کے مزاج میں نظم وضبط اور سیفٹی کلچر کے فروغ کے لئے، جامع اور پائیدار اقدامات بشمول کمیونٹی ایجوکیشن مندرجہ ذیل ہیں۔

1 ۔ روڈ سیفٹی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ بچوں کو ابتدائی مراحل سے سیفٹی کی آگاہی دے کر اُن کے رویوں میں تبدیلی لائی جائے۔

2 ۔ روڈ سیفٹی پالیسی بشمول پیدل چلنے والے کے حقوق اور قوانین واضح مرتب کئے جائیں ج کے تحت Non Motorized Vehicles اور پیدل چلنے والوں کے لئے بھی سزااور جزا مرتب کی جاسکے۔

3 ۔ لائسنس کا اجرا باقاعد ہ تر بیت اور ڈرئیونگ کے امتحان کے بعد کیا جائے۔

4۔ ٹریفک قوانین پر بلا تعصب سختی سے عملدرآمد یقینی بنا کر ٹریفک حادثات کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔

مزید برآں انفرادی سطح پر بھی مناسب حفاظتی اقدامات اختیار کر کے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے، ان اقدامات میں موٹر سائیکل چلانے کے دوران ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنانا ، گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بچوں کو نہ بٹھانا، اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، دائیں بائیں مڑتے ہوئے گاڑی کا واضح اشارہ دینا،سیٹ بیلٹ پہننا ، گاڑی کو اچھی حالت میں رکھنا ، تیز رفتاری اور اوورٹیکنگ سے گریز کرنا، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال سے اجتناب کرنا اور کم عمر بچوں کو تربیت اور لائسنس حاصل کرنے کے بغیر گاڑی چلانے پر حوصلہ شکنی کرنا شامل ہے۔ اگرچہ ریسکیو 1122 نے گزشتہ12 سال میں7 منٹ کا اوسط ریسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے مختلف حادثات میں40لاکھ سے زائد ایمرجنسی متاثرین کو بروقت ریسکیو کیا اور یہ صرف24گھنٹے عوام الناس کو سروسز مہیا کرنے کے لئے موجود ہے، لیکن ہر شہری کو ایک مہذب اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ٹریفک حادثات میں خاطر خواہ کمی لا کر محفوظ معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ذمہ دار شہری بننے او رایمرجنسی سروس ریسکیو1122 کو اسی طرح اپنا موُثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

مزید : کالم