کیا سعودی عرب نائن الیون کے واقعہ میں ملوث ہے؟

کیا سعودی عرب نائن الیون کے واقعہ میں ملوث ہے؟
کیا سعودی عرب نائن الیون کے واقعہ میں ملوث ہے؟

  



جیسا کہ گزشتہ ایک کالم (مورخہ 29اپریل 2016ء) میں بیان کیا گیا تھا، آج کل سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات نہایت سرد مہری کا شکار ہیں۔ ساٹھ سال سے زیادہ عرصے پر محیط دوستی کے نام پر قائم دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی مثالی سمجھا جاتا رہا ہے ، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ان تعلقات میں بہت خلیج واقع ہو چکی ہے۔ دیگر اسباب کے علاوہ ایک سبب 9/11 کمیشن کی رپورٹ کے وہ 28صفحات ہیں، جنہیں ابھی تک پوشیدہ رکھا گیا ہے۔۔۔ یاد رہے کہ 9/11کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ امریکی کانگریس کو 2003ء میں پیش کی گئی تھی، لیکن امریکی صدر نے رپورٹ کے 28صفحات کو شائع کرنے سے منع کر دیا تھا۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان 28صفحات میں جو معلومات درج ہیں، ان کے افشاء سے امریکی سلامتی کو خطرا ت لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض امریکی حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاہے کہ ان حذف شدہ صفحات میں سعودی حکومت کے 9/11 واقعہ میں ملوث ہونے کا ذکر ہے ۔ اگرچہ امریکہ نے دنیا بھر سے بالخصوص مسلم ممالک سے ہزاروں افراد کو گرفتار کر کے گوانتا ناموبے میں کئی سال قید رکھا ، کئی افراد کو سزائیں ہوئیں اور سینکڑوں افراد کوکئی برسوں کی قید و بند کے بعد بعض ممالک کو واپس کر دیا گیا،لیکن ان قیدیوں میں نہ تو کوئی سعودی شہری شامل تھا اور نہ ہی کبھی امریکہ نے سعودی حکومت کو موردِالزام ٹھہرایا، جس کی دو وجوہات تھیں۔

اول تو یہ کہ سعودی عرب کے 9/11 کے واقعے میں ملوث ہونے کی بات تب تک یقین سے نہیں کہی جا سکتی، جب تک یہ حذف شدہ 28صفحات شائع نہ ہوں۔ دوسرا ایک امریکی قانون کے تحت غیر ملکی حکومتوں اور ان کے سرکردہ افراد کو ایک استثنا حاصل ہے، جس کے تحت غیر ملکوں کی حکومتوں کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمات نہیں چلائے جا سکتے، اس لئے امریکی ایوان میں چند سال قبل ایک بل پیش کیا گیا، جو اگر پاس ہو گیا تو غیر ملکی حکومت یعنی سعودی عرب کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمات قائم کئے جاسکیں گے ۔ پہلے یہ بل دو بار ناکام ہو چکا ہے۔ اب یہ تیسری بار پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کو دونوں سیاسی جماعتوں، یعنی کنزرویٹو پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبران کی حمایت حاصل ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ بل کی حمایت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اوباما حکومت پر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ9/11کمیشن ان 28صفحات کو افشا یا منتشر کیا جائے جو ابھی تک مخفی رکھے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے بعض تبصروں میں اس بات کا اظہار کیا جار ہا ہے کہ امریکی حکومت زیادہ عرصے تک ان صفحات کو صیغہ راز میں نہیں رکھ سکے گی۔ ان خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے، چونکہ کمیشن کی رپورٹ کے ان صفحات میں سعودی حکومت کے ملوث ہونے کا ذکر ہے، اس لئے اگر یہ صفحات شائع کردئیے گے تو مستقبل میں امریکی اور سعودی حکومت کے مابین ان دوستانہ تعلقات کا قائم رہنا اگر نا ممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہو گا ، جن تعلقات کو ماضی میں مثالی سمجھا جاتا رہا ہے، اسی لئے امریکی صدر باراک اوبامااور سعودی فرماں روا کے مابین گزشتہ ماہ ہونے والی دو گھنٹے سے طویل ملاقات میں یہ امر خاص طور پر زیر بحث آیا۔۔۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی حکومت واقعی 9/11کے واقعے میں ملوث ہے؟ اگر نہیں تو پھر دوسرا کون ساملک یا ممالک اس واقعے میں ملوث ہو سکتے ہیں؟

یہاں اس بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عمومی تاثر کے بر عکس امریکی ذرائع ابلاغ میں جتنی تنقید سعودی عرب پر یا سعودی حکومت کے تصورِ اسلام پر کی جاتی ہے، اتنی تنقید شاید ہی کسی اور ملک کے بارے میں ہوتی ہو۔ اسی طرح امریکی عوام میں بھی پاکستان کی طرح سعودی عرب کے بارے میں بہت منفی جذبات پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف اگر چہ سعودی حکومت امریکہ سے اپنے اختلافات کا اظہار سفارتی سطح پر کرتی رہتی ہے، لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کا اظہار شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ بہرحال سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو حکومتی سطح پر 9/11کے واقعے میں کیوں ملوث قرار دیا جا رہا ہے؟ اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر جن 19 افراد کو اس واقعہ میں ملوث قرار دیا جاتا ہے، یعنی وہ افراد جنہوں نے امریکی جہاز اغوا کر کے مختلف جگہوں پر گرائے، ان میں سے 15کا تعلق سعودی عرب سے بتایا جاتا ہے، لیکن اس بات میں کہا ں تک صداقت ہے، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ وہ قارئین جنہوں نے اس واقعے کی خبر براہِ راست بی بی سی یا سی این این پر اس وقت دیکھی تھی، جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا ، تو انہیں یاد ہو گا کہ 11ستمبر 2001ء کے چند دن کے بعد ان ہائی جیکرز کے بظاہر سرغنہ کی ایک ویڈیو دکھائی گئی تھی، جو اپنی ایک رشتہ دار کی شادی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں مخلوط ڈانس میں حصہ لے رہا تھا۔ اس وقت اس کو فلسطینی شہری بتایا گیا تھا، لیکن بعد میں بتایا گیا کہ وہ سعودی شہری ہے۔ اس بات کا بھی واویلا کیا جاتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے اُسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ کا ہاتھ تھا، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم جن اسلامی نظریات کا پرچار کرتی رہی ہے، کیا اس میں اس قسم کی مخلوط محفلوں اور لہو و لعب کی سرگرمیوں کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد ایسی مخلوط محفل میں شریک ہوں جو اسلام کی تعلیمات تو ایک طرف، خود عرب معاشرے میں بھی غیر اخلاقی سمجھی جاتی ہوں۔

دوسری بات جو محل نظر ہے، وہ یہ کہ جب 2003ء میں کمیشن کی رپورٹ شائع ہوئی تھی اور ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان 28حذف شدہ صفحات میں سعودی حکومت کے ملوث ہونے کا ذکر ہے تو اس وقت سعودی وزیر خارجہ نے خود اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ اگر ایسا ہے تو سعودی حکومت کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ سعودی عرب حکومتی سطح پر یا اس کی کوئی اعلیٰ شخصیت اس واقعے میں ملوث نہیں ہے، اگر نچلی سطح کا کوئی فرد یا افراد ملوث ہیں تو سعودی حکومت کو اس سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ موثر طریقے سے کردار ادا کیا جا سکے، لیکن سعودی حکومت کے مطالبے کے باوجود ان صفحات میں درج معلومات کا سعودی عرب سے تبادلہ نہیں کیا گیا۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ امریکی حکومت نے سعودی عرب کی محبت میں ان 28صفحات میں درج معلومات کو مخفی رکھا ہو، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ان معلومات کو ابھی تک افشا نہیں کیا گیا؟

اس ضمن میں دو باتوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے ، جن سے اس پہلو پر کچھ روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 9/11 کمیشن جب اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا تھا تو اس کے سامنے کچھ افراد نے ایسے شواہد رکھے تھے جن سے اس بات کو تقویت ملتی تھی کہ اس واقعہ میں اسرائیل ملوث ہو سکتا ہے، لیکن 9/11کمیشن نے ان معلومات کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ جن لوگوں نے یہ معلومات 9/11 کمیشن کو فراہم کی تھیں، انہوں نے ان معلومات کو 9/11کمیشن کے میمو کے نام سے انٹرنیٹ پر عام افراد کی دلچسپی کے لئے ڈال دیا تھا۔ ان معلومات کے مطابق مبینہ طور پر 9/11 واقعے میں ملوث افراد اس واقعے سے قبل امریکہ کے جن جن شہروں میں رہے، انہی شہروں میں اور انہی اوقات میں ہائی جیکروں کی رہائش گاہ کے قریب اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کے تقریباً 150 افراد بھی رہائش پذیر رہے۔ ان میں سے کچھ افراد نے کچھ امریکی خفیہ معلومات تک رسائی کی بھی کوشش کی اور پھر جس روز نیو یارک میں دو جہازوں کے ٹکرانے سے دو عمارتیں تباہ ہوئیں، عین اسی وقت جائے حادثہ کے قریب نیو جرسی میں واقع ایک مکان میں کچھ افراد خوشی میں ناچتے اور جشن مناتے پائے گئے۔ ایک خاتون نے اپنے قریبی مکان کی چھت سے یہ سب کچھ دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے فوری طور پر ان افراد کو گرفتار کیا، لیکن راتوں رات کچھ امریکی سینٹرز نے ان کو رہا کرا کر اسرائیل روانہ کر دیا۔ ان کا تعلق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں کافی تفصیلی معلومات اس میمو میں درج ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

دوسری بات خود امریکی ذرائع ابلاغ میں بعض سائنس دانوں اور ماہرین کی طرف سے چلائی گئی ایک ایسی مہم ہے، جس میں اس واقعے کے سائنسی بنیادوں پر صحیح ہونے پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اتفاق سے ایسے افراد میں امریکہ کے بعض چوٹی کے سائنس دان ، ہوا بازی کے ماہرین اور دیگر سر کردہ افراد شامل ہیں، جن کا قطعاً کوئی تعلق کسی بنیاد پرست مسلم تنظیم یا اسلام پرست گروہ سے نہیں ہے۔ ان واقعات کی روشنی میں بعض حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ 9/11 کے واقعے میں اسرائیل براہ راست ملوث ہو سکتا ہے اور اگر ایساہے تو یہ سب کچھ خود امریکی حکومت کے ایما اور تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ تو پھر کچھ بعید نہیں کہ یہ ڈرامہ واقعی خود امریکی حکومت نے رچایا ہو اور اسرائیلی حکومت اس میں معاون رہی ہو۔

مزید : کالم