جاوید ہاشمی کی سنیئے

جاوید ہاشمی کی سنیئے
جاوید ہاشمی کی سنیئے

  

جاوید ہاشمی ابھی ’’جوان‘‘ ہیں۔۔۔ ان کے اندر جو وطن پرستی ہے وہی ان کی خوش بختی بھی ہے اور مستی بھی۔ سچائی پر ان کا ایمان ہے۔۔۔گفتگو کرتے ہوئے خود کو بھی معاف نہیں کرتے، کسی کو کیا معاف کریں گے۔۔۔ اب وہ بزرگ ہو گئے ہیں، مگر ’’بہترے‘‘ نہیں ہوئے۔ ان کی گفتگو میں سوال ہوتے ہیں، جواب بھی ہوتے ہیں۔۔۔ اینکر نے پوچھا، اصغر خان کیس میں آپ بھی ایک مجرم ہیں۔۔۔ نقد پیسے لینے کا الزام ہے اس پر، اینکر نے ’’تڑکا‘‘ لگایا۔ ابھی کل ہی عمران نے ایک بار پھر آپ کا نام لیا ہے۔ اگر ان کی دماغی حالت ٹھیک نہ ہوتی(جیسا کہ ان کے مخالف کہتے ہیں) تو وہ بگڑ ہی نہیں باقاعدہ ’’بپھر‘‘ جاتے ہیں، مگر مسکرائے اور کہا۔۔۔ کس عمران خان کی بات کرتے ہوئے، اس عمران خان کی جس نے تحریک انصاف میں میری شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک صحافی، جس نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا کہ آپ تو اصغر خان کیس میں ’’مجرم‘‘ ہیں عمران خان نے مجھے روکتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔ مَیں نے اصغر خان کیس پڑھا۔اس میں کچھ بھی نہیں ہے، جاوید ہاشمی پاک صاف آدمی ہیں۔ جاوید ہاشمی نے اینکر سے اصرار کیا کہ اگر مَیں جھوٹ بول رہا ہوں تو پھر وہ پریس کانفرنس نکال کے خود دیکھ اور، سُن لیں۔ نیب کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے مکمل عدم اعتماد کیا اور کہا۔۔۔ نیب نے مجھے پانچ سال تک رسوا کیا۔۔۔ مجھ پر تشدد ہوا۔ میرے ناخن تک کھینچے گئے، میرے جسم پر بھنگڑے ڈالے گئے اور پھر آخر میں کہا آپ بری ہیں۔ نیب قطعی طور پر انصاف کا ادارہ نہیں ہے یہ مخالف سیاست دانوں کو رسوا کرنے کاایک پھندہ ہے، جسے رسوا کرنا ہو۔۔۔ بدنام کرنا ہو۔۔۔ نیب اس کے لئے استعمال کا ادارہ ہے۔جاوید ہاشمی ایک داستان ہیں۔ ان کی گفتگو میں بہت سے کردار نظر آتے ہیں۔ وہ جب ایک ایک کردار کو آگے بڑھاتے ہیں تو پھر بات کھلنے لگتی ہے، لفظ ’’غدار‘‘ پر انہوں نے تفصیلی گفتگو کی اور کہا ہم سب نے مل جل کے شیخ مجیب کو غدار کہا۔

میری موجودگی میں شیخ مجیب نے ولی خان سے کہا۔۔۔ آپ مجھے غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ مجھے۔۔۔؟۔۔۔ جب آپ کے والد تقسیمِ پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے،مَیں سائیکل پر پاکستان بناؤ تحریک میں شامل تھا۔ اب تحریک پاکستان کا ’’سائیکل سوار‘‘ غدار اور آپ محب وطن ہو گئے۔۔۔ کیا یہ انصاف ہے؟ جاوید ہاشمی نے اینکر پر سوال اٹھایا۔۔۔ جب مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اکثریت حاصل کر چکی تھی، یعنی متحدہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کے اُبھری تو پھر اُسے کونے میں کیوں لگایا؟۔۔۔ جب شیخ مجیب نے کہا، پارلیمینٹ کا اجلاس بلاؤ تو پارلیمینٹ کا اجلاس کیوں نہیں بلایا۔۔۔ کیا یہ ’’حق پرستی‘‘ تھی؟ جاوید ہاشمی نے تسلیم کیا۔۔۔ کہ سیاست دان استعمال ہو جاتے ہیں صرف اِس لئے استعمال ہو جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طور مُلک کے حالات بگڑنے نہ پائیں۔ سیاست دانوں کا بہت احتساب ہو چکا کیا، کوئی جنرل مشرف کا احتساب کر سکتا ہے؟جاوید ہاشمی نواز شریف کے ’’مقدمے‘‘ پر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔۔۔ کھل کے کہا۔۔۔ نواز شریف حکومت کو گرانے کے لئے ابتدا سے ہی سازش شروع کر دی گئی۔ یہ دھرنے، لانگ مارچ، جلاؤ گھیراؤ، سب کیا تھا یہ کھیل نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد شروع ہو گیا۔۔۔ نواز شریف نے ایسا کیا کر دیا تھا۔۔۔؟ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہمارے ہاں سازش ہوتی ہے، سیاست دانوں کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا رواج ہے۔ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔ جمہوریت کے سفر میں روڑے اٹکانے کا چلن ہمیں بدلنا ہو گا۔ عوام کے حقوق پر کسی بھی طرح کی ڈکیتی ِ قبول نہیں۔ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہنا ہو گا۔ اس مُلک میں اگر ’’سیلوٹ‘‘ کا کوئی سب سے بڑا حق دار ہے، تو وہ ’’عوام‘‘ ہیں۔۔۔ مَیں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ کھڑا ہوں اور نواز شریف میرے قائد ہیں۔ نواز شریف سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے اور مَیں نے کیا بھی۔۔۔ نواز شریف کو اکثر سمجھانے کی کوشش کی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ’’سرے‘‘ سے ہی غلط ہیں، ہم سب کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔۔۔ یہ مُلک سیاسی جدوجہد کے ذریعے وجود میں آیا۔ اُسے سیاسی لوگ ہی آگے لے جا سکتے ہیں۔ جاوید ہاشمی بولتے ہیں تو پھر بات کھلتی چلی جاتی ہے اور پھر ایک سوچ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل مشرف، اقتدار میں جتنے پاپولر تھے اقتدار سے اترتے ہی کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔

عوام دیوانہ وار سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے۔ انہیں پھر اقتدار دِلانے کے لئے تحریک کیوں نہیں چلاتے۔ ایک ’’مردہ‘‘ بھٹو کے مقابلے میں ایک ’’شہید‘‘ جنرل کے لئے لوگ باہر کیوں نہیں نکلتے؟ جنرل مشرف کے لئے عوامی حرکت نظر کیوں نہیں آتی۔ کیا وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو۔۔۔ عمران خان۔۔۔ نواز شریف، آصف علی زرداری جب باہر نکلتے ہیں تو ایک ہجوم ساتھ نکل پڑتا ہے۔ لوگ ان کے نام پر جانیں دیتے ہیں۔ سزائیں کاٹتے ہیں، ہر طرح کی قربانی دیتے ہیں۔۔۔ بار بار انہیں اقتدار میں لاتے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ نواز شریف، بے نظیر بھٹو دونوں ایک طویل عرصے تک مُلک سے جلاوطن رہے، مگر پاکستان میں ان کی پارٹی اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود رہی اور پھر جونہی یہ لوگ پاکستان واپس آئے لوگ ان کے اردگرد جمع ہو گئے۔۔۔ اور وہ لوگ بھی آ ملے جو بچھڑ گئے تھے یا ’’خوف‘‘ سے بدل گئے تھے۔ سوال ہے کہ لوگ جنرل مشرف کی واپسی کے لئے شور کیوں نہیں مچاتے؟ کیا کوئی بغیر سوچے بتا سکتا ہے کہ جنرل اسلم بیگ نے جو سیاسی پارٹی بنائی تھی،اس کا نام کیا تھا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جنرل مشرف کی سیاسی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا نام کیا ہے؟ یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں۔ مُلک کی مقبول قیادت کو دیوار سے لگانا۔۔۔ لزام تراشی سے ان کے کردار کو مسخ کرنا۔۔۔ انہیں ’’غدار‘‘ قرار دے کے پھانسی چڑھانا مُلک بدر کرنا۔۔۔ سزائیں سنانا، اس مُلک کے لئے مفید ’’ٹوٹکے‘‘ نہیں ہیں۔۔۔ یہ ’’ٹوٹکے‘‘ فیل ہو چکے ہیں ان ’’ٹوٹکوں‘‘ سے مُلک کا سیاسی، سماجی، معاشی نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ’’حالتِ جنگ‘‘ میں نواز شریف، عمران خان سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ ٹینک پر چڑھ کے دشمن کے علاقے میں گولے پھینک سکتا ہے؟ یہ کام نواز شریف یا عمران کے بس کا نہیں ہے یہ کام وہی کر سکتا ہے جو ’’ٹینک‘‘ سے واقف ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی سطح پر ایک ’’مکالمہ‘‘ کیا جائے، سچے دِل کے ساتھ تسلیم کیا جائے کہ غلط کوئی ’’ایک‘‘ نہیں ہے۔غلطیاں سب سے ہوئی ہیں اور سو رہی ہیں، لمحہ موجود غلطیاں دہرانے کا نہیں ہے۔ نواز شریف کو بھی اب مزید آگے نہیں بڑھنا چاہئے، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے خلاف اٹھایا جانے والا ’’قدم‘‘ بھی آگے نہ بڑھے۔ اس کا فیصلہ انتخابات کے دن پر چھوڑ دیا جائے اور دیکھا جائے کہ نواز شریف اب عوامی امنگوں کے ترجمان ثابت ہوتے ہیں یا نہیں،لیکن ان کے ’’ہاتھ پاؤں‘‘ باندھ کے میدان میں پھینکنے سے مسائل بڑھیں گے۔مُلک میں سیاسی افراتفری بڑھے گی۔ ان کے خیالات سے جہاں لوگ نفرت کریں گے۔ وہاں ان کی محبت میں لوگ دیوانے بھی ہو جائیں گے۔احتیاط لازم ہے۔

مزید :

رائے -کالم -