سیاسی عدم استحکام کے باعث ہچکوالے کھاتی ہوئی معیشت

سیاسی عدم استحکام کے باعث ہچکوالے کھاتی ہوئی معیشت

  

کراچی(تجزیہ مبشر میر)

قومی اسمبلی سے فنانس بل 2018-19 منظورہونے کے روز معاشی طور پر بہتری کے اشاریئے دکھائی نہیں دے رہے ۔گزشتہ روز سٹیٹ بینک کی ایک پریس ریلیز میں انکشاف ہوا کہ رواں سال کے پانچویں ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر پانچ ارب ڈالرسے زائد تک گرچکے ہیں ۔گزشتہ برس جولائی 2017میں زرمبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالرسے زائد تھے جبکہ آج یہ 10ارب ڈالرسے زائد ہیں جن میں کمرشل بینکوں کے 6ارب ڈالر شامل ہیں ۔ملک کے معاشی ہب کراچی میں سرمایہ کار سخت تذبذب کا شکار ہیں ۔نگران حکومت کے اعلان میں تاخیر سے وسوسے جنم لے رہے ہیں جس سے کاروباری سرگرمیوں پر برے اثرات ظاہر ہورہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ بھی عروج پر ہے ۔گزشتہ کئی دنوں سے افواہیں گردش میں تھیں کہ بدین سے مرزا فیملی جس کے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے ماضی میں دیرینہ مراسم تھے بعد میں ذوالفقارمرزا کے اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے اب وہ اپنے راستے جدا کررہے ہیں ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے متعدد رہنماؤں نے سیاسی جلسہ میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی پیپلزپارٹی کے خلاف تقریر کو ہدف تنقید بنایا ہے ۔سوشل میڈیا پر مرزا فیملی کی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ تصاویر بھی زیر گردش ہیں جس سے قرین قیاس یہی ہے کہ مرزا خاندان کا سیاسی سفر تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہوجائے ہوگا ۔اندرون سندھ سے باخبر ذرائع یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ سندھ کی کئی سیاسی شخصیات تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی نئی قیادت شہباز شریف سے رابطے میں ہیں ۔دادو کا لُنڈ قبیلہ جو کہ سیاسی طور پر مضبوط خاندان ہے رئیس احمد خان لُنڈ کی قیادت میں تحریک انصاف میں شامل ہوسکتا ہے ۔2002ء کے جنرل الیکشن میں سردار احمد خان لُنڈ نے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور دوسرے نمبر پر رہے جبکہ 42000ووٹ ان کے حصے میں آئے ۔تحریک انصاف کو دادو میں رئیس احمد خان لُنڈ کی صورت میں مضبوط امیدوار میسر آسکتا ہے ۔

تجزیہ مبشر میر

مزید :

تجزیہ -رائے -