اور اب عثمان بزدار نمبر ون وزیر اعلیٰ

اور اب عثمان بزدار نمبر ون وزیر اعلیٰ
اور اب عثمان بزدار نمبر ون وزیر اعلیٰ

  

گیلپ سروے نے بالفاظ دیگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کارکردگی کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جگہ دے دی ہے۔اسی سروے کے مطابق ایک عرصہ تک شہباز شریف نمبر ون وزیر اعلیٰ تھے ۔بہرحال وقت وقت کی بات ہے ۔ویسے عثمان بزدار کے حوالے سے نمبر ون وزیر اعلیٰ ہونے کی جو سروے رپورٹ جاری کی ہے،کچھ لوگوں کو اس پر حیرت ہے مگر مجھے نہیں ،اس حوالے سے آپ باقی صوبوں کے وزراٗ اعلیٰ کو بھی سامنے رکھیں ۔نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو کے مصداق عثمان بزدار نے اپنی کارکردگی اور محنت سے ثابت کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ان پر جو اعتماد کیا وہ اس کے حقدار تھے۔ روایتی سیاسی خانوادوں اور موروثی سیاسی رجواڑوں کا وزیر اعلیٰ سردارعثمان بزدار کو پسند نہ کرنے کی بڑی وجہ عثمان بزدار کا ایک عام آدمی ہونا ہے۔میری نظر میں یہی انکی خوبی ہے ۔وہ ایک آدمی کے دکھ اور مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کی طرف سے سرمایہ داروں،جاگیرداروں،انگریز دور سے مراعات یافتہ طبقات کے بجائے غریب اور حقیقی ضرورت مندوں کی سہولت اور آزمائش کیلئے اقدامات بروئے کار لانا ان کی اسی خوبی کا نتیجہ ہے۔ انکی مخالفت کی ایک دوسری وجہ ، پنجاب حکومت سے ہر دور میں سرکاری خزانے پر عیاشی کرنے والوں کی مزید آسائش کیلئے کوئی اقدام نہ کرنا ہے،اب مراعات یافتہ طبقہ کے گھروں کے چولہے،گاڑیوں کی مرمت اور پٹرول وغیرہ،بیرون ملک علاج کے بہانے عیاشی کیلئے جانے کی سہولت دستیاب نہیں،اب یہ سارے اخراجات ان اصحاب کو اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں،اسی وجہ سے ان لوگوں کو تحریک انصاف کی حکومت اور سردار عثمان ایک آنکھ نہیں بھاتے،وہ جن کے کتے بھی علاج کیلئے ماضی میں سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھیجے جاتے تھے اب اپنا علاج بھی ان کو اپنے ذاتی اخراجات سے کرانا پڑتا ہے،وہ لوگ عثمان بزدار کو ٹھنڈے پیٹ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ماضی میں سرکاری خزانہ سے مستفیذ ہونے والا طبقہ وہی تھا جو ہر دور میں مراعات یافتہ تھا یا پھر کچھ بلیک میلر،گدائے بے حیاء کی طرح ان کا کشکول ہر وقت پھیلا رہتا کسی نے خیرات ڈال دی تو ٹھیک ورنہ سیاسی راستے جدا کرنے کی دھمکی،کھیت ان کے نہ مٹی،ہل انکے نہ محنت،مگر پیداوار کے مالک مراعات یافتہ لوگ،ان کے اپنے کچن تو چلتے ہی سرکاری خزانے سے تھے مگر ان کے بچوں،رشتے داروں،دوستوں،سیاسی ساتھیوں حتٰی کہ ملازمین کے کچن بھی عوام کی جیب پر ڈاکہ مار کر چلائے جاتے تھے۔

عثمان بزدار ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیںجن کے دور میں جس کا کچن ہے وہی خرچ کرتا ہے جو بیمار ہوتا ہے اپنا علاج خود کراتا ہے،ان کا اپنا کچن بھی سرکار کا محتاج نہیں،اب تک ان کی زمین،جائیداد،بینک بیلنس میں غیر فطری اضافہ نہیں ہواء،جیسے آئے تھے ویسے ہی ہیں اسی لئے وزیراعظم عمران خان بھی ان کو پسند کرتے ہیں اور واشگاف کہتے ہیںکہ کرپٹ نہیں ہیں،اور اب تک کے ان کے اقدامات اس دعویٰ کا کھلا ثبوت ہے۔

وزیراعلی ٰعثمان بزدار نے اب تک جو کیا اس سے براہ راست غریب اور محروم الوسائل طبقہ مستفید ہواء،سر کاری ہسپتالوں میں مریضوں اور لواحقین کیلئے سہولیات کی فراہمی،علاج معالجہ کی مفت سہولیات،تیمار داروں کیلئے شیلٹر کی تنصیب،تعلیمی اداروں میں طالب علموں کیلئے مراعات بھی غریب شہریوں کیلئے نعمت غیر مترقبہ ہے،رمضان بازار وں میں سستی اشیاء کی فراہمی کا پیکیج بھی غریبوں کیلئے ہے ،جس سے لاکھوں روزہ داروں کو سہولت ملی،حال ہی میں ایسے غریب قیدیوں جو صرف معمولی جرمانہ کیادائیگی کی وجہ سے قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے تھے ان کے جرمانہ کی ادائیگی کے بعد رہائی اور عید اہل خانہ کیساتھ کرنے کا موقع دینے سے ہزاروں قیدی مستفید ہوں گے۔صوبہ کے سرکاری ملازمین کے بچوں کے تعلیمی سکالر شپ میں اضافہ سے لاکھوں ملازمین کو سہولت ملے گی اوران کیلئے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ممکن ہو سکے گا،سرکاری ملازمین کے بچوں کی شادی گرانٹ میں اضافہ سے بیٹیوں کے بوجھ سے جن والدین کے کندھے جھکے ہوئے ہیں ان کو سر اٹھانے کا موقع مل جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی بیواوں کی گرانٹ میں اضافہ اور تا حیات گرانٹ دینے کا اعلان بھی بیوائوں کیلئے زندگی کا پیغام ہے،سب سے اہم کام جو عثمان بزدار حکومت نے کیا وہ جنازہ گرانٹ میں اضافہ ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ