’مجھے 100 سے زائد مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن پولیس نے اُلٹا مجھے گرفتار کرلیا‘

’مجھے 100 سے زائد مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن پولیس نے اُلٹا مجھے ...
’مجھے 100 سے زائد مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن پولیس نے اُلٹا مجھے گرفتار کرلیا‘

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں کچھ عرصہ قبل ایک گینگ پکڑا گیا جس میں شامل بدطینت مرد کم عمر لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھانس کر نہ صرف خود زیادتی کا نشانہ بناتے بلکہ انہیں جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتے تھے۔ اب اس گینگ کی متاثرہ ایک لڑکی نے اپنی بپتا دنیا کو سنا دی ہے۔ دی مرر کے مطابق کیسی پائیک نامی اس لڑکی نے بتایا ہے کہ اس وقت وہ 11سال کی تھی جب گینگ کے ایک رکن نے اسے اپنے چنگل میں پھنسایا اور ایک فلیٹ میں لیجا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ اس کے بعد اس نے مجھے دیگر لوگوں کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ اگلے پانچ سالوں میں اس گینگ کے لوگوں سمیت 100مردوں نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی لیکن پولیس نے انہیں پکڑنے کی بجائے الٹا مجھے ہی گرفتار کر لیا۔“

کیسی پائیک کا کہنا تھا کہ ”ویسٹ یارک کے شہر ہیلی فیکس کے پولیس آفیسرز جانتے تھے کہ وہ لوگ مجھے پورے ملک میں مختلف جگہوں پر لیجا رہے ہیں اور جسم فروشی کروا رہے ہیں لیکن انہوں نے میری کوئی مدد نہیں کی۔ گینگ کے لوگوں نے مجھے شروع سے منشیات پر لگا دیا کیونکہ اس سے ان کا کام آسان ہوگیا۔ جب وہ مجھے منشیات دے دیتے تو آسانی کے ساتھ مجھ سے جسم فروشی کرواتے۔ ایک بار میں اور ایک اور کم عمر لڑکی گینگ کے ایک رکن کی کار میں سوار ہوئیں جس پر پولیس والوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔ انہوں نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں اس کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروا رہی ہوں۔ حالانکہ میں تو خود جسم فروشی کے دھندہ کرانے والوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی۔“ واضح رہے کہ اس گینگ کے درجن سے زائد لوگوں کو اب عدالت سے قید کی سزا سنا کر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس