لاک ڈاؤن میں گھر کے مصلے میں اعتکاف؟

لاک ڈاؤن میں گھر کے مصلے میں اعتکاف؟

  

اس رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسجدیں بند ہیں اور لوگوں کی طرف سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا موجودہ صورتحال میں گھر کے مصلے میں اعتکاف ہو سکتا ہے؟جہاں لوگوں کی طرف سوشل میڈیا یا موبائل پر مذکورہ سوال گردش کر رہا ہے وہیں بعض فتویٰ کمیٹیوں اور بعض افراد کی طرف سے اس کا جواب بھی نشر کیا جا رہا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ فتویٰ کمیٹیوں اور علماء کے جوابات مذکورہ مسئلہ میں مختلف ہیں، ایک فریق یہ کہہ رہا ہے کہ گھروں کے مصلوں میں اعتکاف نہیں ہو سکتا جبکہ دوسرا فریق یہ کہہ رہا ہے کہ ہو سکتا ہے۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بعض فتویٰ کمیٹیوں اور بعض علماء حضرات نے مذکورہ مسئلے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اعتکاف صرف اور صرف مسجد ہی میں ہو سکتا ہے کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے اور انہوں نے علامہ ابوالحسن ابن القطان، علامہ ابن عبدالبر، علامہ ابن قدامہ اور ابو بکر رازی رحمہم اللہ کے حوالے سے اجماع نقل کیاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اسلام کے عہد اول سے اختلاف رہا ہے، اگر صحابہ کے دور کو دیکھا جائے تو حضرت عائشہؓ کا اختلاف ملے گا اور اگر تابعین کے دور کو دیکھا جائے تو حضرت ابراہیم نخعی، عامر بن

شراحیل الشعبی اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے شاگرد حضرت ابوالاحوض رحمہم اللہ وغیر ہم کا اختلاف ملے گا اور اگر تبع تابعین کے دور کو دیکھا جائے تو سفیان ثوری، ابو حنیفہ اور شافعی رحمہم اللہ وغیر ہم کا اختلاف ملے گا، مذکورہ تمام حضرات عورت کے اعتکاف کے لئے مسجد کی شرط نہیں لگاتے۔مزید تعجب اس پر ہوا کہ انہوں نے اعتکاف کو حج اور عمرہ پر قیاس کیا اور کہا کہ جس طرح حج اور عمرہ کے لئے مسجد حرام شرط ہے اسی طرح اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے، غور کیا جائے تو یہ قیاس مع الفارق ہے، کیونکہ مسجد حرام حج اور عمرہ کے لئے بالا جماع شرط ہے اور اس میں امت کے کسی بھی عالم کا اختلاف نہیں، جبکہ عورتوں کے اعتکاف کے لئے بہت سارے علماء کے نزدیک مسجد شرط نہیں ہے بلکہ بعض علمائے مالکیہ اور شافعیہ کے یہاں مرد کے حق میں بھی مسجد شرط نہیں ہے۔

اب آتے ہیں مسئلے کی طرف کہ کیا موجودہ صورتحال میں اگر کوئی اپنے گھر کے مصلے میں اعتکاف کرے تو آیا اس کا اعتکاف ہوگا یا نہیں؟اس مسئلے کی تخریج دور حاضر کے بعض علماء نے بعض علمائے سابقین کے اس قول پر کی ہے جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت کے لئے مسجد شرط نہیں ہے، لہٰذا وہ اپنے گھر کے مصلے میں اعتکاف کر سکتا ہے، دیکھا جائے تو یہ تخریج الفروع علی الفروع کے باب سے ہے اور یہ تخریج استاد محترم ڈاکٹر سعد بن ناصر ششری کی ہے جو مملکت سعودی عرب کے دیوان شاہی کے مشیر ہیں اور جدید مسائل کے سلسلے میں اچھی مہارت رکھتے ہیں۔اس تخریج کی وضاحت یہ ہے کہ بعض علمائے امت نے عورتوں کے اعتکاف کے لئے مسجد کی شرط نہیں لگائی ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ اپنے گھر کے مصلے میں اعتکاف کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی نماز ان کے گھر میں افضل ہے اور اس پر جمعہ اور جماعت فرض نہیں ہے اور اب جبکہ تمام مسلمان اپنے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں اور اپنے گھر کے مصلے پر نماز پڑھ رہے ہیں لہٰذا وہ بھی اگر اپنے گھر کے مصلے پر اعتکاف کرتے ہیں تو ان کا اعتکاف صحیح ہوگا۔

جواز کے کچھ قائلین نے اس مسئلہ کی تخریج اس اصل پر کی ہے کہ مسجد کی شرط اللہ کے رسولؐ کے فعل سے ثابت ہے اور شارع کی طرف سے مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ اعتکاف کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے، لہٰذا موجودہ صورت حال کے پیش نظر گھر کے مصلے میں اعتکاف جائز ہے، یہ تخریج شیخ مصطفیٰ العدوی حفظ اللہ کی ہے، نیز انہوں نے بعض فقہاء کے اس قول پر تخریج کی ہے جس میں انہوں نے عورت کے لئے مسجد کی شرط نہیں لگائی بلکہ بعض علماء نے مطلق طور پر مرد اور عورت دونوں کے لئے مسجد کی شرط نہیں لگائی ہے۔شیخ مصطفیٰ العدوی نے مشہور اصولی و فقہی قاعدہ: ”المشقۃ تجلب التیسیر“ سے بھی مذکورہ مسئلہ کے لئے استدلال کیا ہے۔بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ گھر کے مصلے میں اعتکاف کسی بھی صورت میں نہیں ہو سکتا ہے اور انہوں نے اس کے لئے اللہ کے فرمان(سورہ البقرہ 187) سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ مسجد اعتکاف کے لئے شرط ہے۔ابو حیان اندلسی نے اس استدلال پر اعتراض کیا ہے، وہ رقمطراز ہیں:”اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ظاہری معنی یہ نکلتا ہے کہ مسجدیں اعتکاف کے لئے شرط نہیں ہیں۔“ (دیکھیں: البحر المحیط فی التفسیر 221/2)اور علامہ ابن بدران مذکورہ استدلال پر اعتراض کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

”شربینی شافعی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت ہے کہ اعتکاف صرف مسجدوں میں ہو سکتا ہے اس کے علاوہ کہیں اور نہیں، جبکہ یہ دلالت غیر مسلم ہے کیونکہ یہ ممانعت اس حالت کے ساتھ مقید ہے جس سے وہ متعلق ہے، جو اس بات پر دلالت نہیں کرتا ہے کہ وہ حالت جب ممنوع افراد سے سرزد ہو گی تو وہ متعلق اس کے وقوع کے لئے شرط ہوگا، اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کوئی کہے: جب تم گھوڑے پر سوار ہو تو زید کو مت مارو، اس سے قطعی طور پر یہ لازم نہیں آتا ہے کہ آپ جب بھی سوار ہوں تو گھوڑے پر ہی سوار ہوں، لہٰذا اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس آیت سے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہونے کی دلیل پکڑنا ضعیف ہے۔“ دیکھیں: تفسیر ابن بدران= جواہر الافکار و معاون الاسرار المتخرجۃ من کلام العزیز الجبار (ص: 523)عدم جواز کے قائلین کی دوسری دلیل یہ ہے کہ علمائے امت کا اجماع ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے۔اس دلیل پر اعترض یہ ہے کہ یہ اجماع ثابت نہیں ہے کیونکہ اس مسئلے میں حضرت عائشہ، ابراہیم نخعی، حضرت شعبی، حضرت عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص، سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام خطابی اور حافظ ابن عبدالبر سے اختلاف منقول ہے، یہ حضرات عورت کے اعتکاف کے لئے مسجد کی شرط نہیں لگاتے ہیں بلکہ بعض مالکیہ و شافعیہ نے اعتکاف کے لئے مسجد کی شرط مطلقا نہیں لگائی ہے۔ (ملاحظہ ہو: شرح الزرقانی علی الموطا (275/2)، فتح البارک لا بن حجر (273/4)، نیل الاوطار (317/4)۔

امام نووی فرماتے ہیں:

”بعض مالکیہ اور شافعیہ نے مردوں کے لئے بھی اپنے گھر کے مصلے میں (اعتکاف) کرنے کو جائز قرار دیا ہے، جو کہ خطابی کے اس قول پر رد ہے کہ: ”اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ گھر میں اعتکاف کرنا ناجائز ہے“ (شرح النوی علی صحیح مسلم: 68/8)اور حافظ ابن رجب فرماتے ہیں: ”کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابو الاحوص نے اپنے گھر میں اعتکاف کیا، اور شعبی نے بھی اس کی رخصت دی“ (فتح الباری لابن رجب: 170/3)البتہ امام شافعی کے سلسلے میں امام نووی اور امام رافعی نے یہ ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے قول قدیم میں کہا ہے کہ: عورت اپنے گھر کے مصلے میں اعتکاف کرے گی جبکہ امام ابن الرا فعہی اور امام زرکشی نے امام نووی اور امام رافعی کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ امام شافعی نے اپنے قول جدید میں مذکورہ بات کہی ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح العزیز از رافعی (502/6)المجموع(480/6)کفاتہالنبیہ (428/6 اعلامہ الساجد با حکام المساجد (ص: 387)

عدم جواز کے قائلین کی تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”محلے کی مسجدوں میں اعتکاف کرنا بدعت ہے“ السنن الکبری للبیہقی (8836,316/4)۔اس دلیل پر اعتراض یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے منی کے قریب ثبیر نامی مقام پر اعتکاف کیا تھا جیسا کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (1618,187/2) نیز مذکورہ اثر کو عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں اور ابن حزم نے المحلی میں ذکر کیا ہے۔خلاصہ یہ کہ موجودہ صورتحال میں گھر کے مصلے میں اعتکاف کرنا جائز ہے۔ واللہ اعظم۔

مزید :

رائے -کالم -