سکھ کا سانس لینے کا موقع

سکھ کا سانس لینے کا موقع
سکھ کا سانس لینے کا موقع

  

مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں جب یہ کہا تھا کہ ”آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے“ تو ہمارے سمیت بیشتر لوگوں نے اسے ایک فوجی آمر کا بیان سمجھا جو سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لئے دیا گیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے وقت نے ثابت کر دیا کہ معاملہ صرف سیاستدانوں کا نہیں واقعی کرپشن کے حمام میں سب ننگے ہیں اور اس طرح ننگے ہیں کہ شرم بھی نہیں آتی۔ تاجروں، صنعتکاروں، نجی و سرکاری ملازمین سمیت تمام طبقات میں کرپشن کے دریا بہہ رہے ہیں۔ اس کرپشن نے ہماری اخلاقیات، معاشیات، سیاسیات سبھی کا حشر نشر کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ جو ملک 1960ء کے عشرے میں سب سے تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا ایشیائی ملک تھا وہ بد حالی کے سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا ہے کبھی ملائشیاء، چین اور سنگا پور ہم سے پیچھے تھے۔ ان کی کرنسیاں تو بہت ہی نیچے تھیں۔ پھر سب آگے نکل گئے اور کرپشن ہماری رفتار ترقی کا پہیہ جام کر گئی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم انفرادی و اجتماعی طور پر کرپشن کو برا نہیں سمجھتے بہت برا سمجھتے ہیں مگر کرپشن کا خود موقع ملنے پر باز بھی نہیں رہتے۔

خلاف شرع تو جناب شیخ تھوکتے بھی نہیں

اندھیرے اجالے میں مگر وہ چوکتے بھی نہیں

ہماری سیاست میں ”روٹی کپڑا اور مکان“ کے بعد جو نعرہ مقبول ہوا وہ کرپشن کے خاتمے کا ہی ہے۔ اسی نعرے نے ماضی کے پلے بوائے کرکٹر کو آسمانِ سیاست کا روشن آفتاب بنا دیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد محسوس ہونے لگا کہ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ تو غالباً مخالفین کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے تھا ورنہ یہ کیا کہ ڈیڑھ دو سال میں کرپشن کے بلے لوٹنے والوں سے کچھ نکلوایا جا سکا نہ عوام کو کوئی فائدہ پہنچایا جا سکا۔ سیاسی مخالفوں کو رلانے کا دعویٰ تو سچا دکھائی دینے لگا لیکن اس کا خوفناک نتیجہ یہ نکلا کہ کاروباری طبقہ صنعتکار، سرمایہ دار اور تاجر خوفزدہ ہو گئے سہم گئے۔ سرمایہ کاری رک گئی۔ معیشت سکڑ گئی، بیروزگاری پھیل گئی مہنگائی بڑھ گئی، اپوزیشن تو اپوزیشن عوام کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ تاہم اب ایک موقعہ ایسا ضرور دکھائی دے ر ہا ہے کہ عوام کی معاشی مشکلات میں کچھ کمی کا امکان ہے۔ اس کی ایک وجہ تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بے تحاشا کمی ہے۔ اس سے بڑھتی مہنگائی کو بریکیں لگ جائیں گی۔ ذرائع آمد و رفت کے کرائے کم ہو جائیں گے۔ اگر منافع خوری پر خدا خوفی غالب آ گئی تو اشیاء ضرورت کی قیمتیں کم نہ بھی ہوئیں تو مستحکم ضرور ہو جائیں گی۔ یہ تو وہ عامل ہے جس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔ البتہ ایک کام ایسا ہونے جا رہا ہے کہ جس سے بجلی سستی ہونے کا امکان روشن ہے وہ ہے بجلی پیدا کرنے کے نجی کارخانوں کا معاملہ جن کو آئی پی پیز (انڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کہا جاتا ہے۔ ان کا آغاز تب ہوا تھا جب وطن عزیز میں بجلی ا بحران شدید ہو گیا تھا۔

بیس بیس گھنٹے (بعض علاقوں میں) لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ ایسے میں نجی شعبے کو سہولتیں دی گئیں۔ فارمولا یہ دیا گیا کہ بجلی کا کارخانہ (پاور پلانٹ) لگانے میں 80 فیصد سرمایہ حکومت دے گی۔ سرمایہ کار کو صرف 20 فیصد سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔ اس میں بھی بنکوں سے تعاون کرنے کو کہا گیا۔ ان کارخانوں سے پیدا ہونے والی ساری کی ساری بجلی حکومت خریدنے کی پابند ہو گی۔ لاگت پر پندرہ فیصد منافع سرمایہ کار کما سکیں گے۔ یوں ان کارخانوں کو فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔ اس سے یہ تو ہوا کہ بجلی کی پیداوار بڑھ گئی۔ لوڈ شیڈنگ کم ہوتے ہوتے نوازشریف کے آخری دور میں ختم ہی ہو گئی آئی پی پیز کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2003-4 میں ہوا پھر زداری دور اور نوازشریف دور میں بھی معاہدے ہوتے رہے کارخانے لگتے رہے مگر یہاں سرمایہ کاروں نے جو ہاتھ دکھایا اس کو عرف عام میں کرپشن نہ بھی کہیں تو یہ بہت بڑی ہیرا پھیری تھی جس نے بجلی اتنی مہنگی کر دی کہ ہماری صنعتی پیداوار عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل ہی نہ رہی۔ ورنہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں پاکستانی سرمایہ کاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہاں بجلی مقابلتاً سستی اور مزدوری کم تھی۔ سلے سلائے کپڑوں کی لاگت پاکستان سے کم تھی چنانچہ پاکستان سے سوتی دھاگہ لے کر بھی بنگلہ دیش سستے کپڑے برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ گیا۔

پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے لئے 42 کمپنیاں میدان میں اتریں۔ موجودہ حکومت نے ان میں سے دس کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا جن میں سے 6 کارخانے تیل پر چلتے ہیں اور چار ایل این جی پر۔ انہی میں چونیاں میں میاں منشاء کی کمپنی کا پاور پلانٹ ہے۔ سب سے پہلے اس کا آڈٹ کیا گیا اور اس کی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی۔ اس میں ہیرا پھیری یا کرپشن کے ہوشربا انکشافات ہوئے۔ میاں منشاء کا قریبی تعلق سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کے ساتھ رہا ہے۔ سب سے پہلی ہیرا پھیری تو پاور پلانٹ کے مینوئل بک کے ساتھ کی گئی پاور سپلائی کمپنی کے اس پلانٹ کی مینوئل بک مقامی پریس کی چھپی ہوئی پائی گئی۔ جس میں پلانٹ کی قیمت خاصی بڑھا کر درج کی گئی تھی۔ اس طرح حکومت کے فراہم کردہ 80 فیصد سرمائے میں ہی قیمت پوری ہو گئی اور میاں منشاء کو اپنے پاس سے کچھ سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑی۔

رپورٹ کے مطابق بات یہیں نہیں رکی پلانٹ میں تیل کی کھپت بھی بڑھا چڑھا کر درج کی گئی یوں حکومت سے کھپت کی نسبت تیس فیصد زیادہ تیل رعایتی قیمت پر لیا جاتا رہا۔ اضافی تیس فیصد تیل لاہور کے سٹی ٹاور میں بیٹھے ایک بروکر کے ہاتھ فروخت کیا جاتا رہا جو مختلف تیل کمپنیوں اور پٹرول پمپوں کو سپلائی کرتا رہا۔ اس کے علاوہ مجموعی لاگت پر پند رہ فیصد منافع کی جو شرط تھی اس کی بھی خلاف ورزی کی گئی ا ور منافع بھی چالیس سے پچاس فیصد تک کمایا جاتا رہا۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ہیرا پھیری بھی کی گئی معاہدوں کے مطابق لین دین خصوصاً بجلی کی قیمت کی ادائیگی ملکی کرنسی روپے میں کی جاتی تھی مگر اندر ہی اندر اسکو ڈالر میں تبدیل کر دیا گیا اور گزشتہ پندرہ سال میں ڈالر کی قیمت دوگنا ہو گئی۔ یوں چوپڑیاں اور دو دو ہی نہیں چار چار پانچ پانچ ہو گئیں تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق یہ صورتحال ایک پلانٹ کی نہیں سبھی کی ہے یہی وجہ ہے کہ سب اکٹھے ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کر دیا ہے کہ ان کا فرانزک آڈٹ کسی عالمی شہرت کی حامل حساب کتاب کی فرم سے کرایا جائے۔ دریں اثناء ان آئی پی پیز نے حکومت کو پیغامات بھجوانا شروع کر دیئے ہیں کہ آئیں مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کر لیتے ہیں۔

اس تحقیقات کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس سے پہلے جب بھی حکومت بجلی کی قیمتوں اور بنیادی شرائط پر نظرثانی کی بات کرتی تھی تو آئی پی پیز دھمکیوں پر اتر آتی تھیں کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں معاملہ لے جائیں گیا ور سرمایہ نکالنے کی بات بھی کرنے لگتیں اس بار وہ خود مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمت کم کرنے، گردشی قرضوں میں تعاون کے اشارے دے رہی ہیں حکومت کے اندر بھی آئی پی پیز کے لوگ بیٹھے ہیں۔ اس سارے معاملے میں جن شخصیات نے فائدہ اٹھایا ہے ان میں وفاقی مشیر ندیم بابر، رزاق داؤد، وزیر عمر ایوب اور سابق سینٹر اور میاں نوازشریف کے رشتہ دار سیف الرحمن بھی شامل ہیں۔ بظاہر عمران خان کے سامنے اس مسئلے کے دو راستے دکھائی دیتے ہیں یا تو وہ اس ہیرا پھیری کے ذمہ داروں کی پکڑ دھکڑ کر کے انہیں ”تن کے رکھ“ دیں یا ان سے مذاکرات کر کے بجلی سستی کرالیں۔ پہلی صورت میں نجی بجلی گھر بند ہونے اور بجلی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری صورت میں عوام میں ”بہہ جا بہہ جا“ ہو جائے گی۔ بجلی سستی اور گردشی قرضے کم ہو گئے تو روپیہ مستحکم ہو جائے گا۔ برآمدات بڑھ جائیں گی روز گار بڑھ جائے گا عالمی قرضوں کا حجم کم ہو جائے گا اور سب سے بڑھ کر عوام کو اس حکومت میں پہلی بار سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا۔ عام تاثر تو یہی ہے کہ کپتان اس موقع سے فائدہ اٹھانے اور مقبول ہیرو بننے کی جانب قدم بڑھائیں گے مگر جس کا نام عمران خان ہے وہ ہے ذرا وکھری ٹائپ کا۔ اس لئے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ وہ کب کیا کر ڈالے۔؟

مزید :

رائے -کالم -