گیند عدلیہ کی کورٹ میں

گیند عدلیہ کی کورٹ میں
گیند عدلیہ کی کورٹ میں

  

رفتہ رفتہ تمام اندرونی محاذوں پر مخالفین کو پچھاڑنے کے بعد اب18ویں آئینی ترمیم کو بھی علانیہ ٹارگٹ کر لیا گیا ہے۔اس نظام حکومت میں کسی کو اس بات پر شبہ نہیں کہ سب ایک پیج پر ہیں پھر بھی اداروں کا نام لے کر اگلی منصوبہ بندی کی نشا ندہی کرنا ملکی استحکام و ہم آہنگی کے لئے کسی طور مناسب نہیں۔ویسے ایک راستہ تو یہ بھی ہے کہ 18ویں ترمیم میں مطلوبہ تبدیلی کے لئے نیب وغیرہ کو متحرک کردیا جائے جو کہ ہو بھی چکا ہے۔ دوسرا طریقہ وہی ہے جو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت اختیار کیا گیا، یعنی دھونس یا لالچ دے کر ارکان پارلیمنٹ کے ضمیر خرید لئے جائیں،چونکہ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے اِس لئے اب تک تو یہی لگتا ہے کہ مطلوبہ تعداد کے حوالے سے مشکل پیش آ رہی ہے۔تیسرا طریقہ کیا ہوگا،وہ خود حکومت نے واضح کردیا ہے۔فرزند ِ راولپنڈی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے وارننگ دی ہے کہ اگر اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر سپریم کورٹ حرکت میں آئے گی۔اس بیان کے بعد ایک کارندے صحافی نے لکھا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس معاملے پر زیادہ دیر تک خاموش نہیں بیٹھ سکتے،گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ آئینی ترمیم میں مطلوبہ تبدیلی کا حکم عدالت عظمیٰ جاری کرے گی۔ارکان پارلیمنٹ اپنی پارٹی لائن کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔

یہ علیحدہ سے ایک موضوع ہے کہ آیا پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے خواہ وہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو کو آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے؟ غیر جمہوری ادوار کی بات اور ہے۔جنرل مشرف کے لئے تو اس وقت کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے باقاعدہ حکم جاری کرکے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم اور تنسیخ کے دروازے کھول دئیے تھے۔ موصوف اپنا منہ چھپا کر گوشہ نشین ہونے کی بجائے آج کل ایک اخبار میں کالم لکھ کر قوم کی ”رہنمائی“ کا گرانقدر فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔2014ء کے عمرانی وقادری دھرنوں کے بعد سے اب تک جاری کھیل میں عدلیہ کے کردار کے حوالے سے متنازعہ باتیں بار بار سامنے آ رہی ہیں۔دھرنوں کے عین عروج میں جاوید ہاشمی نے عوام کو بتایا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ا نہیں دھرنا دینے کا کہنے والوں نے یہ یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ نواز حکومت کو عدلیہ رخصت کرے گی۔یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس تصدق جیلانی جن کی ریٹائر منٹ قریب تھی کے جانے کے بعد جو اگلے جج آئیں گے یہ تاریخی کا رنامہ ان کے حصے میں آئے گا۔ اگلے چیف جسٹس ناصر الملک آئے، مگر حکومت رخصت نہ ہو سکی۔کیا دلچسپ اتفاق ہے کہ حکومت گئی اور عدالت کے ذریعے ہی گئی،مگر یہ سب کچھ چند سال کے بعد ممکن ہو سکا۔ آج ملک جن حالات سے دوچار ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپانہیں۔معیشت کا کباڑا،بد انتظامی،سیاسی خلفشار،میڈ یا پر بد ترین دور،عدلیہ کے حوالے سے متنازعہ چیزیں اور اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر درپیش چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں،ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستانی عدلیہ آگے بڑھ کر مضبوطی کے ساتھ فیصلے کرے۔ ملک میں جاری افراتفری ختم کرنے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔

یہ تاثر دور بلکہ ختم کیا جائے کہ عدلیہ ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جاتی ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ اگر عدلیہ ڈٹ جائے تو پاکستان کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لاناممکن ہے۔یہ تو طے ہو چکا کہ سیاستدان کمزور اور مصلحت کے مارے ہیں۔ ملک میں نظام کی تبدیلی تو کیا وہ خود کوانتقامی ہتھکنڈوں سے بچانے کے لئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔میڈیا جس حد تک زور لگا سکتا تھا لگا چکا،اب اسے بھی کنارے لگایا جا رہا ہے۔ایسے میں عدلیہ کے دونوں پہیے بنچ اور بار انصاف فراہم کرانے کے لئے اپنا بھرپور کردار اداکرنے پر آمادہ ہو جائیں تو تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہماری تاریخ اس حوالے سے تاریک ہے۔جسٹس منیر نے جو کچھ کیا وہ سیاہ باب ہے۔وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی آمر جنرل ضیاء کے حکم پر پھانسی کی سزا دینے کے کئی سال بعد چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اعتراف کرتے رہے کہ سپریم کورٹ پر دباؤ تھا۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ا کثر جج حضرات انصاف فراہم کرنے کی بجائے اپنی نوکریاں بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آصف علی زرداری،نواز شریف وغیرہ کے کیس ہوں تو عدلیہ کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔اگر کرپٹ فوجی آمر کا کیس اس کی فراغت کے بعد بھی آ جائے تو چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔جنرل مشرف غداری کیس میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔اب تازہ ترین معاملہ ہی دیکھ لیں۔مشرف کو قصہ پارینہ ہو کر فرار ہوئے مدت گزر گئی، مگر ہیبت کا یہ عالم ہے کہ باورچی سمیت اپنے سول خد مت گاروں کو 800ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی انعام کے طور پر دی،شہباز شریف نے وزیراعلیٰ بن کر یہ الاٹمنٹ کینسل کردی۔بزدار سرکار آئی تو جنرل مشرف کا حکم پھر سے بحال کردیا۔مجال ہے جو کسی نے نوٹس لینے کا تردد کیا ہو۔ثاقب نثار کے دور میں عدالتوں کے نام پر تماشا ہوتا رہا۔باہر بیٹھے افسر پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ کون نا اہل ہوگا،کون جیل جانے والا ہے۔کھوسہ چیف جسٹس بنے تو اپوزیشن جماعتوں کایہ عالم تھا کہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کر نے سے گریز کیا جانے لگا۔ماضی ئ قریب میں ایسا مشرف دور میں ہواتھا جب اس وقت کے صدر سپریم کورٹ بار حامد خان ایڈووکیٹ نے اعلان کیا تھا کہ کسی آئینی درخواست کے لئے عدالت سے رجوع نہیں کریں گے،کیونکہ خدشہ ہے کہ جج صاحبان الٹا اپنی مہر لگا کر غیر قانونی کو بھی قانونی بنا دیں گے۔مگر۔احتساب کا کھیل اس بھونڈے طریقے سے کھیلا جارہا تھا کہ کھوسہ جیسے جج کو بھی کہنا پڑا یکطرفہ احتساب کا تاثر نظام انصاف اور معاشرے کے لئے تباہ کن ہے۔

ثاقب نثار نے اپنے دور میں ازخود نوٹسوں کے ذریعے خوب نام کمایا۔یہ الگ بات ہے کہ ان کی ہر حرکت کے نتیجے میں نقصان صرف اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ عناصر کو ہی پہنچا۔باقی نوٹس ٹی وی اور اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی خبریں بن کرٹائیں ٹائیں فش ہو گئے۔ اب کئی حیرت انگیز واقعات ہو رہے ہیں مگر کوئی نوٹس لینے والا نہیں، ثاقب نثار کے دور میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے حنیف عباسی کو آدھی رات کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تو مقصد واضح تھا۔کسی نے عدلیہ سے توقع بھی نہیں رکھی۔سیاسی مقدمات کا تو ذکر ہی کیا،سانحہ ساہیوال ہوا،جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے شادی پرجانے والے خاندان کو بلا وجہ گولیوں سے چھلنی کردیا۔یہ بہت سنگین جرم تھا۔گاڑی سے زخمی بچوں کو نکالا گیا تو تین چھوٹے بچوں کو قریبی پٹرول پمپ پرچھوڑ کر ان کی بارہ سالہ بہن کو یہ کہہ کر دوبا رہ گاڑی میں ڈالا گیا کہ یہ زندہ رہے گی تو سب کو سچ بتا دے گی،اس کے بعد گاڑی پر ایک بار پھرسے گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی،رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے ہیروئن برآمد ہونے کا کلاسیکل واقعہ بھی اس امر کی مثال ہے کہ ملک میں سیاسی حریفوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ویسے کمال نہیں کہ ایک طرف تو450سے زائد افراد کا قاتل،بیرون ملک کرپشن کی بے پناہ دولت رکھنے والا ایس ایس پی راؤ انوار اپنے گھر میں نام نہاد قید کاٹنے کے بعد با عزت بری ہو جا تا ہے۔دوسری جانب سب سے بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک کو ایک انتہائی بودے مقدمے میں نیب کے ہاتھوں گرفتارکرا کے جیل میں پھینک دیا جاتا ہے۔آٹا،چینی سکینڈل آتا ہے،کھربوں کے فراڈ کا انکشاف ہوتا ہے پھر معاملہ دبتا چلا جاتا ہے، ادویات کا گھپلا پکڑا تو کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔

بی آر ٹی میں کرپشن کا معاملہ تو انٹرنیشنل میڈیا میں بھی آ چکا، مگر سب کی آنکھیں بند ہیں آئی پی پیز کا معاملہ اٹھا تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔چلیں کوئی ہمیں ہی بتا دے کہ آخر قابل ِ اعتراض ویڈیو آنے کے بعد یک طرفہ احتساب کے علمبردارچیئر مین اپنے عہدے سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں،اس کا نوٹس کسی عالمی ادارے نے لینا ہے کیا؟ نواز شریف کو سزا سنانے والا جج اعتراف جرم اور ویڈیوز کے باوجود آزاد گھوم رہا ہے،خود حکومت کا یہ حال ہے کہ عدالتی نظام پراعتماد ہی نہیں کرتی،پنجاب اور کے پی کے میں جعلی پولیس مقابلے اس امر کا ثبوت ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کو یہ اعتماد ہی نہیں کہ مجرموں کو عدالتوں کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔یہ تمام صورتِ حال شدید مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے،یہ توقع تقریباً ختم ہو چکی کہ ملک میں کوئی خوشگوار تبدیلی اور یگانگت اداروں کے ذریعے آئے گی۔سیاسی جماعتوں نے بھی اس حوالے سے کوتاہی برتی،انہیں وکلاء برادری کے اندر زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہئے تھا تاکہ عدلیہ پر نادیدہ قوتوں کا دباؤ کم ہوتا اور ملک میں انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکتا۔

آج حالات یہ ہیں کہ سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ملک میں نظام عدل ختم ہوتا جا رہا ہے۔اگرچہ انہوں نے یہ بات ضمانت قبل از گرفتاری کے قانون کے حوالے سے کہی ہے،مگر یہ پہلوبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس ملک میں سیاسی انتقام والی پالیسی ہو،امیروں کو غریبوں پر رعب جمانے کا شوق ہو،طاقت ور عناصر کمزوروں کو کچلنا مشغلہ بنا لیں وہا ں جعلی مقدما ت کا اندراج معمول بن جاتا ہے۔ توہین عدالت کی تلوار کو ایک طرف رکھ کر اعلیٰ عدلیہ کو ملکی مسائل کے حوالے سے سب سے رائے حاصل کر کے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستانی عدلیہ پر اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے،آئین اور قانون کی بالا دستی کو یقینی نہ بنایا گیا تو جو کچھ آگے ہونے جا رہا ہے وہ قلم لکھ نہیں سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -