کچھ فارن اور ملکی میڈیا کے بارے میں (2)

کچھ فارن اور ملکی میڈیا کے بارے میں (2)
کچھ فارن اور ملکی میڈیا کے بارے میں (2)

  

کورونا وائرس نے اگرچہ پوری دنیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے لیکن انسان اپنی تاریخ کی جبلّی خباثت کے ہاتھوں مجبور ہے۔To err is human والے مقولے کا ترجمہ ہم نے اردو میں یہ کر رکھا ہے کہ: ”انسان خطا کا پتلا ہے“…… میں نے پہلے بھی اپنے کسی کالم میں اس طرف اشارہ کیا تھا کہ جب تک کارکنانِ فطرت، ابنِ آدم کو مکمل طور پر بے دست و پا کرکے غاروں کے زمانے میں نہیں دھکیل دیتے تب تک وہ اپنی تباہی اور خودکشی کا ارتکاب کرتا رہے گا۔ اپنے خطے (Region) پر نظر ڈالیں۔ ایران ان ممالک میں شامل ہے جن پر کورونا وائرس نے اپنے عالمگیر حملے کی ابتداکی تھی۔ اب تک ہزاروں ایرانی اس وباء کے ہاتھوں تہہ خاک جا چکے ہیں لیکن اب بھی بلوچستان لبریشن آرمی کے بعض کیمپ سیستان (پشین وغیرہ) میں موجود بتائے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان آرمی کے 5جوان اور ایک فیلڈ آفیسر BLA کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اس میں ایرانی حکومت ملوث ہے۔ پاکستانی بلوچستان میں بھی اسی طرح کے حملے، ایرانی پاسداران اور بسیج پر ہوتے رہے ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان ان حملوں میں ملوث ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف ایران میں کورونا اموات کا زور ہے اور دوسری طرف ایرانی سرزمین سے برادر اسلامی ملک (پاکستان) پر یہ ترکتا زیاں بھی جاری ہیں۔ مشرقی سرحد کی بات کریں تو انڈیا، لائن آف کنٹرول پر جو کچھ کر رہا ہے اس سے یہ مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کورونا نے ابھی بھارتی قیادت کو اس مسئلے پر سربگریبان ہونے کی اجازت نہیں دی کہ کم از کم اس عالمی وبا کے خاتمے تک اپنی جارحانہ حرکتوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے یا ان کو کسی آنے والے مخصوص وقت تک ملتوی کر دیا جائے۔

اور یہ مسئلہ ہمارے ریجن تک محدود نہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی بڑی پاورز بھی اپنی جبلّی حرام زدگیوں سے باز نہیں آتیں۔ مغرب کی اشرافیہ لاکھ کہتی پھرے کہ آج کے انسان کو آتشیں اور جوہری اسلحہ جات کے انبار لگانے کی بجائے کورونا سے نمٹنے کے لئے تحفظی ساز و سامان کے ڈھیر لگانے چاہئیں۔ لیکن اس کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوگا۔

امریکہ، یورپ، اسرائیل، چین اور روس کی اسلحہ ساز کمپنیاں بند نہیں کی جا سکیں۔ اگر یہ چار پانچ ممالک ہی مہلک سلاحِ جنگ کی پروڈکشن پر لاک ڈاؤن لگا دیں تو شائد اس سے خلقِ خدا کا کچھ بھلا ہو جائے۔ لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا۔ کورونا کے خلاف ویکسین کی تیاری کے بارے میں خبریں آ جا رہی ہیں۔ لیکن یہ مستقبل کے ممکنات ہیں۔ شائد اگست / ستمبر 2020ء یا اواخر 2022ء تک یہ ویکسین مارکیٹ میں آ جائے لیکن تب تک گولہ بارود اور دوسرے آلاتِ جنگ کی پروڈکشن پر تو پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کسی جگہ پڑھا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے ”فی الحال“ اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں، کارخانوں اور فرموں کو قرنطینہ میں ڈال دیا ہے۔ قارئین کرام دیکھتے جائیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

اگر ایسا کچھ کرنا ہے تو فطرت (Nature) کو کورونا وائرس دوم لانچ کرنا ہوگا!…… یہ وائرس ایک ایسا وائرس ہو جو چپکے سے پہلا کام یہ کرے کہ دنیا بھر کی جوہری قوتوں کے جوہری پیداوار کے کارخانوں پر ”چپکے سے“ شب خون مارے اور ان تمام جوہری وار ہیڈز کو ناکارہ کر دے جو جوہری قوتوں نے اپنی اپنی ٹکسالوں میں بھر رکھے ہیں (پاکستان بھی ان میں شامل ہے)…… یہ ”کورونا وائرس دوم“ اسی مرحلے میں دنیا بھر کے میزائل گوداموں کو بھی بے اثر کر دے یعنی ان میں جو ہزاروں لاکھوں میزائل ذخیرہ کئے ہوئے ہیں وہ اس کورونا دوم سے بے اثر ہو جائیں اور متعلقہ حکومتوں کو یہ تمام میزائل اپنے ہاتھ سے تباہ کرنے کی نوبت آ جائے تو اگلا مرحلہ ان اسلحہ ساز فیکٹریوں کی بربادی ہو جن سے امنِ عالم آج بُری طرح لرزاں و ترساں ہے۔ لیکن فی الحال تو کورونا اول ہی کسی کو نہیں بخش رہا۔ جو ڈاکٹر اس وائرس کا علاج کرنے پر مامور ہیں وہ خود مارے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی یہ مسیحا تاحال صرف ایک قلیل تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ اللہ کریم ان کو غریقِ رحمت کرے۔ لیکن اگر آپ فارن میڈیا کو دیکھ اور پڑھ رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ترقی یافتہ مغربی اور مشرقی ممالک (امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، سویڈن ،اٹلی، سپین، چین اور روس) سب کے سب ان شاء اللہ خان انشاء کے اس شعر کو اپنے طبی عملے (ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف) کے سامنے بطور وارننگ رکھ رہے ہیں:

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

فارن میڈیا سے میری مراد انگریزی زبان کا میڈیا ہے۔ جس خطے میں ہم بس رہے ہیں اس میں انڈیا، چین، افغانستان اور ایران ہمارے ہمسائے ہیں۔ ان کی اپنی اپنی قومی زبانیں ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ چینی زبان کے سوا مجھے اپنے ہمسایوں کی زبانوں سے کافی حد تک شُدبُد ہے۔ چونکہ انگریزی گلوبل زبان بن چکی ہے اس لئے باوجود اس کے کہ امریکی اور برطانوی پریس مسلمانوں اور پاکستانیوں سے ایک حد تک اللہ واسطے کا بیر رکھتا ہے مجھے فارسی اور دری زبانوں کے توسط سے اپنے خطے کی ہمہ جہتی صورت حال کی کچھ نہ کچھ آگہی ملتی رہتی ہے۔ افغانستان اور ایران کی قومی زبانوں (دری، فارسی) سے کماحقہ یہ شناسائی مجھے علاقائی تفہیم میں بہت مدد دیتی ہے۔گزشتہ قسط میں، میں نے بیجنگ اور ماسکو میں تعینات انگریزی زبان کی ابلاغی ٹیموں کا ذکر کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ انگلش میڈیا روس اور چین کی میڈیائی عکاسی میں تعصب اور جانبداری سے کام لیتا ہے لیکن اس کا یہی متعصبانہ رویہ ایک غیر جانبدار مبصر اور تجزیہ نگار کو صورتِ حال کی درست تفہیم میں بھی مدد دیتا ہے۔

مثال کے طور پر ”دی نیویارک ٹائمز“ کے نامہ نگار مقیم ماسکو کو جب اس کے اخبار نے کورونا وائرس کے ان ایام میں روس کی میڈیکل صورت حال کی خبر لگانے کا مشن سونپا تو اس نے رپورٹ دی کہ اب تک روس کے 180ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل سٹاف موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے ایام میں ان اموات میں اضافہ ہوگا۔ جس تعداد میں روس میں کورونا پھیل رہا ہے اس کو کم کرنے کے لئے طبی عملہ کو سنگدلانہ حد تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک روسی ڈاکٹر (اس کا نام Zeltynبتایا گیا ہے) نے ڈرتے ڈرتے اخبار والے کو بتایا کہ ایک دن اسے 102بخار ہو گیا اور وہ ہسپتال ہی میں گر گیا۔ تاہم 5،6 روز بعد جب اس کا بخار نارمل ہو گیا تو اسے حسبِ معمول اسی جگہ دیوٹی پر بھیج دیا گیا جہاں وہ تیز بخار کی وجہ سے Collapse ہو گیا تھا!…… ایک اور ڈاکٹر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پچھلے دنوں ایک بڑے ہسپتال کے تین ڈاکٹروں نے اپنے سینئر ڈاکٹروں کے خلاف شکائت کی کہ وہ لوگ ان کی قوتِ برداشت سے بڑھ کر کارکردگی مانگتے تھے۔ اگلے روز ان تینوں کو ہسپتال کی تیسری منزل سے گر کر آدھی رات کے وقت مردہ پایا گیا۔ حکومتی میڈیا نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا اور کہا کہ یہ ڈاکٹر اپنے فرائض کے بوجھ کے سبب سخت اضطراب اور گھٹن (Stress) کا شکار ہوئے ہیں۔ روس کے محکمہ صحت میں 75فیصد لوگ خود اس بیماری کا شکار ہیں۔ دو روز پہلے روس میں 10ہزار کیسز روزانہ پازیٹو شمار ہو رہے تھے۔ آج تک روس میں کورونا کے مریضوں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے(لیکن یہ تعداد پھر بھی امریکی تعداد سے کم ہے)۔ روسی حکومت کی جانب سے ابھی تک تمام روس میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 2400بتائی جا رہی ہے جو اصل تعداد سے بہت کم ہے…… اصل تعداد کیا ہے اس کی خبر کسی کو بھی نہیں۔

روس اور چین کی مشترکہ سرحد 2600میل طویل ہے لیکن اس کے باوجود روس کی 85ریاستوں (Regions) میں سے 28ریاستوں میں تحفظی لباسوں، وینٹی لیٹروں اور ٹیسٹنگ کٹس کی شدید کمی ہے۔ اس تناظر میں اگر پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہم ہر لحاظ سے روس سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ روس کی طرح پاکستانی حکومت لاک ڈاؤن کی پابندی پر عمل نہیں کروا سکی۔روس کی آہنی پردے کی ایک روائت ہے۔ وہاں حکومت کی رٹ (Writ) کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ یہ تو امریکہ کا فارن میڈیا ہے جو اندر کی خبریں باہر لا کر دنیا کو بتاتا ہے اور اپنی خبریں بھی بتانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتا۔ ہمارے ہمسائے بھارت میں بھی اعداد و شمار کو پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اس قسم کی پوشیدگی کی ابھی تک کوئی خبر منظر عام پر نہیں آئی(اوئے مختیاریا والی بات اب قصہ ء پارینہ ہو چکی ہے) (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -