ڈرامے کی کامیابی اور مقبولیت کے بے شمار عناصر ہیں،فصیح باری

ڈرامے کی کامیابی اور مقبولیت کے بے شمار عناصر ہیں،فصیح باری

  

لاہور(فلم رپورٹر)ڈرامے کی کامیابی اور مقبولیت میں جہاں بے شمار عناصر ہیں وہیں سب سے اہم چیز اس کی کہانی ہوتی ہے جو ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے بہت خوش قسمت ملک ہے کیونکہ ڈرامہ نگاری کے شعبے میں ہمارے پاس بڑے بڑے نام موجود ہیں لیکن جس شخص نے حالیہ چند سالوں میں ڈرامہ نگاری کی دنیا میں نہایت تیزی سے جگہ بنائی انہیں پیسے بنانے کی خواہش نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے شوق کے لئے لکھتے ہیں انہوں نے ڈرامہ ہی نہیں بلکہ ٹیلی فلم اور فیچر فلمیں بھی لکھیں۔ان کی کامیابی کا سکور بہت زیادہ ہے۔جو بات انہیں دوسروں سے ممتازکرتی ہے وہ ان کا منفرد انداز ہے جو ہمیں عام طور پر نہ تو کتابوں میں ملتا ہے اور نہ ہی کہانیوں میں۔ انہیں ہر طرح کی کہانی لکھنے میں مہارت ہے۔ جب کامیڈی لکھتے ہیں تو لوگ ہنستے نہیں تھکتے اور جب سنجیدہ ڈرامہ لکھتے ہیں تو ناظرین کو رونے پر مجبور کردیتے ہیں۔ بات ہورہی ہے فصیح باری خان کی ہے جن کے کریڈٹ پر ایک دو نہیں بلکہ درجنوں کی تعداد میں سپرہٹ سیریلز ہیں۔ ان کی کہانیوں نے بے شمار لوگوں کو راتوں رات سپرسٹار بنادیا۔

فصیح باری خان کے ڈراموں میں برنس روڈ کی نیلوفر،باولی بٹیا،بہکاوا، پچھل پیریاں،رونق جہاں کا نفسیاتی گھرانہ،محبت جائے بھاڑ میں،خالہ کلثوم کا کنبہ،شکور صاحب،خاتون منزل،تارعنکبوت،فالتو لڑکی،قدوسی صاحب کی بیوہ اور موہنی مینشن کی سنڈریلائیں شامل ہیں جس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوفلموں ’جیون ہاتھی‘اور’سات دن محبت ان‘ کے سکرپٹ بھی تحریر کئے۔فصیح باری خان نے گفتگو کے دوران کئی اہم انکشاف کئے۔

مزید :

کلچر -