شرح سود کو مزید کم کرکے 4فیصد کی سطح پر لایا جائے، راجہ عدیل

شرح سود کو مزید کم کرکے 4فیصد کی سطح پر لایا جائے، راجہ عدیل

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)تاجر رہنما انجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے سینئر نائب صدرراجہ عدیل و سابق ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹرنگ پالیسی میں شرح سود 1فیصد کم کرکے 8فیصد مقرر کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں کمی اور معاشی سست روی کے باعث شرح سود مزید کم کرکے 4فیصد کی سطح پر لائی جائے کیونکہ 8فیصد شرح سود اب بھی بہت زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں تمام ممالک نے شرح سود میں 4فیصد سے زائد کمی کی ہے اس لیے پاکستان میں بھی شرح سود میں مزید کمی کرے4فیصد کی سطح پر لائی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید گنج کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ راجہ عدیل اشفا ق نے کہا کہ 8فیصد مارک اپ انڈسٹریز کے لیے پریشانی کا باعث ہے پاکستان میں بلند شرح سود نئی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ شرح سود سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جارہی امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستان ایشیاء میں سب سے زیادہ شرح سود کے حامل ممالک میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتیں لگانے سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لائی جائے اور نئی صنعتوں کو رعایتیں دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -