پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ چل سکی، خیبر پختونخوا میں بحال، کورونا سے پاکستان میں مزید 41افراد جاں بحق، دنیا بھر میں اموات 3لاکھ 19ہزار سے تجاوز کر گئیں

  پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ چل سکی، خیبر پختونخوا میں بحال، کورونا سے ...

  

لاہو (خبر نگار ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ نہ چل سکی، پردیسی انتظار کرتے رہ گئے لیکن بسیں نہ چلیں، مسافر شکوے کرتے رہے۔لاہور سے بسیں منزل کی جانب روانہ نہ ہوسکیں، لاری اڈے پر ایک دو بسوں کے علاوہ کوئی بس موجود نہیں تھی، اورہو کا عالم تھا، چند مسافر آئے اور واپس لوٹ گئے۔فیصل آباد میں بس اڈوں پر آنیوالے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا،۔ ملتان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں بھی ٹرانسپورٹ نہ چل سکی، ہر اڈے پر ویرانی چھائی رہی۔ جبکہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بسوں کا پہیہ چل پڑا، ایک دھڑے نے بسیں چلا دیں، ایس او پیز پر عملدر آمد بھی نہ ہوسکا، مسافروں سے ڈبل کرائے بھی وصول کئے جاتے رہے۔دوسری طرف سندھ حکومت نے عید سے پہلے ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں بھی بسیں چلانے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ٹرانسپورٹرز نے حکومتی ایس اوپیز پر گاڑیاں چلانے سے انکارکردیاہے۔ آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن کا ہنگامی اجلاس پیر کے روز زیر صدارت مرکزی چیئرمین حاجی اکرم ذکی جنرل بس سٹینڈ بادامی باغ لاہور میں ہوا جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کیلئے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ طے کئے گئے مختلف نکات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ ہم حکومت کی جانب سے نان اے سی بسوں کے کرایہ میں 15فیصد اور اے سی بسوں کے کرایہ میں 20 فیصد تک کمی کا فیصلہ قبول کرتے ہیں لیکن کچھ تحفظات ہیں، ہمارا پنجاب حکومت سے مطالبہ ہے کہ میٹنگ کرکے ایس او پیز پر اعتماد میں لے اور ہمیں تحریری طور پر ایس او پیز جاری کرے جس کے تحت ہم پبلک ٹرانسپورٹ چلائیں گے۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ حکومت ٹال پلازوں کی شرح میں کمی، ٹوکن ٹیکس ایک سال کیلئے موخر اورآئندہ ٹوکن ٹیکس 50 فیصد کمی کے ساتھ وصول کرے اور اس حوالے سے کوئی انتقامی کارروائی یا رشوت کا بازار گرم نہیں ہونا چاہئے بصورت دیگر ٹرانسپورٹ کھڑی کردی جائیگی، حکومت گارنٹی دے کہ جو گاڑی بس سٹینڈ سے روانہ ہوگی اس کو دوران سفر چالان و جرمانہ نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں گاڑیوں میں مسافروں کی عمر پر ابہام کو دور کیا جائے کرایوں میں 20 فیصد، مسافروں میں 50فیصد کمی اور ٹال پلازہ، اڈا پرچی و دیگر اخراجات ڈال کر 90 فیصد خسارے کے ساتھ ٹرانسپورٹ چلانا ناممکن ہے لہٰذا واضح پالیسی جاری کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ چلانے کا حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔اجلاس کے بعد چیئرمین پنجاب ٹرانسپورٹ اتحاد عصمت اللہ نیازی نے پریس کانفرنس میں حکومتی شرائط پر ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ کم سواریوں سے پٹرول کا خرچہ پورا نہیں ہوگا، مشترکہ ایس اوپیز بنائے جائیں، ہم پورے ملک کی تنظیموں سے رابطے میں ہیں، حکومت کے ساتھ مشترکہ ایس اوپیز ہونے تک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، جب تک اگلا فیصلہ نہیں آتا، پنجاب بھر میں کوئی ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی، ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ٹرانسپورٹرز کا دوسرا گروپ موجودہ حکومتی شرائط کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کیلئے تیار ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ سروس مکمل طور پرنہ چل سکی۔ لاری اڈے سے چند ایک بسیں ہی روانہ ہوسکیں۔ مختلف علاقوں کو جانیوالے اکثر مسافر کم سواریوں کے باعث بس نہ چلنے پر واپس لوٹ گئے۔یاد رہے انصاف ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے گزشتہ روز ایس او پیز کے مطابق ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کیا تھا جبکہ چیئرمین آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کم کرایہ اور کم سواریاں قبول نہیں، اس لیے ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔

ٹرانسپورٹ بند

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 41 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 936 ہو گئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 43798 تک پہنچ گئی۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 334 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ سندھ میں 280 اور پنجاب میں 273 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 37، اسلام آباد 7، گلگت بلتستان میں 4 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔گزشتہ روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 2633 کیسز اور 41 ہلاکتیں سامنے آئیں جن میں سندھ سے 864 کیسز 3 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 169 کیسز 16 ہلاکتیں، پنجاب 1392 کیسز 21 ہلاکتیں، بلوچستان 148 کیسز ایک ہلاکت، گلگت بلتستان سے 10 کیسز اور اسلام آباد سے مزید 50 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 864 کیسز سامنے آئے اور 3 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں 4679 کورونا کیٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 864 نئیکیسز آئے اور 3 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔صوبے میں نئے کیسز کے بعد کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 17241 اور ہلاکتیں 280 ہوگئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے مزید بتایا گزشتہ روز280 مزید مریض صحتیاب ہوئے جس کے بعد صحتیاب ہونیوالے مریضوں کی تعداد 4489 ہوگئی۔پنجاب میں پیر کو کورونا کے مزید 1392 کیسز اور 21 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جن کی تصدیق صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 15976 ہوگئی ہے جب کہ 273 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔ صوبے میں اب تک 4918 سے زیادہ افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔اتوار کے روز صوبہ پنجاب کے اعداد و شمار رات گئے جاری کیے گئے تھے اسلئے انہیں گزشتہ روز کی رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا اور پیر کے روزکی مجموعی تعداد میں جمع کردیا گیا، لہٰذا 1392 کیسز اور 21 اموات اتوار اور پیر کی مشترکہ تعداد سمجھی جائے۔بلوچستان میں اب تک کورونا کے مزید 148 کیسز سامنے آئے اور ایک ہلاکت ہوئی ہے جس کی تصدیق صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی۔ترجمان محکمہ صحت ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 2692 ہوگئی ہے جبکہ 37 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ 454 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 50 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 997 ہو گئی جبکہ دارالحکومت میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 113 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پیر کو کورونا وائرس سے مزید 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 334 ہوگئی۔169 کیس سامنے آئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی کل تعداد 6230 ہوگئی۔ کے پی میں 1944 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔پیر کو گلگت بلتستان میں مزید 10 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 550 ہو گئی۔گلگت بلتستان میں وائرس سے اب تک 4 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ کورونا سے متاثرہ 368 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے پیر کو کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا البتہ اتوار کو کورونا کے مزید 4 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے تھے۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 112 ہے جبکہ علاقے میں اب تک وائرس سے ایک ہلاکت ہوئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 77 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔دوسری طرف کورونا وائرس اس وقت 190 سے زائد ممالک اور علاقوں میں پھیل چکا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد3لاکھ 19ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 48 لاکھ 65 ہزار سے بھی زائد ہوگئی۔ اب تک 18 لاکھ سے زائد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔ابھی تک اس وائرس کو ختم کرنے کیلئے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے اور واحد سماجی دوری اور لاک ڈاؤن ہے مگر دنیا بھر میں سائنسدان مسلسل ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر ہے ہیں مگر یہ ایک طویل کام ہے تاہم کچھ ممالک میں ویکسینز کا انسانوں پر ٹرائل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری، ٹیسٹنگ اور پھر مارکیٹ میں آنے میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا۔اب تک کورونا وائرس کووِڈ 19 کے سب سے زیادہ مریض امریکہ میں سامنے آئے ہیں۔

پاکستان ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -