سپریم کورٹ کا حکم، پورا ہفتہ کاروبار، شاپنگ مالز 24گھنٹے، دکانیں شام 5بجے تک کھلیں گی، کل سے 30ٹرینیں چلانے کی اجازت، اربوں روپے ٹین کی چار پائیوں پر خرچ ہو رہے ہیں لگتا نہیں انسداد کورونا کیلئے پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے: چیف جسٹس

          سپریم کورٹ کا حکم، پورا ہفتہ کاروبار، شاپنگ مالز 24گھنٹے، دکانیں شام ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے مارکیٹیں اور کاروباری سرگرمیاں ہفتہ اور اتوار کو بند کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے کراچی کی تمام مارکیٹس بھی کھولنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس گلزارا حمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی، کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں، کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے، ہم تحریری حکم دیں گے ہفتے اور اتوار کو تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا زینب مارکیٹ کھولی جائے، اس میں زیادہ تر غریب لوگ آتے ہیں، زینب مارکیٹ میں لوگوں کو ایس او پیز پر عمل کرائیں، ایس او پیز پر عمل کرانا ہے، لوگوں کو ڈرانا نہیں، تاجروں سے بدتمیزی کرنی ہے نہ رشوت لینی ہے، دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل کرائیں، جو دکانیں سیل کی گئی ہیں انہیں بھی کھول دیں، چھوٹے تاجر کورونا کے بجائے بھوک سے ہی نہ مر جائیں۔عدالت نے کہا وزارت قومی صحت کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے، جن چھوٹی مارکیٹس کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں؟ کیا زینب مارکیٹ اور راجہ بازار چھوٹی مارکیٹیں ہیں؟ کیا طارق روڈ اور صدر کا شمار بھی چھوٹی مارکیٹس میں ہوتا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں جس پرچیف جسٹس نے ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے سندھ حکومت سے بڑے شاپنگ مالز کھولنے کے حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ کو فوری طلب کر کے ہدایات طلب کرلیں۔ عدالت نے کہا باقی مارکیٹس کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیا جواز ہے؟ عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتہ، اتوار کو بھی مارکیٹس بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔سپریم کورٹ نے استفسار کیا حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ ممبر این ڈی ایم اے نے کہا حاجی کیمپ قرنطینہ پر 59 ملین خرچ ہوئے جس پر فاضل جج نے کہا، قرنطینہ مراکز پر اتنا پیسہ کیسے لگ گیا؟ کیا قرنطینہ مراکز کیلئے نئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں؟ اتنی رقم کے بعد بھی 600 لوگ جاں بحق ہوگئے، کوششوں کا کیا فائدہ؟ ممبر این ڈی ایم اے نے کہا حکومت کی طرف سے صرف 2.5 ارب روپے ملے۔چیف جسٹس نے استفسار کورونا کے ایک مریض پر اوسطً کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟ 500 ارب مریضوں پر خرچ ہوں تو ہر مریض کروڑ پتی ہو جائے گا، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا 25 ارب سے آپ کثیرالمنزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟ نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا پوری رقم نہیں ملی، اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا عوام حکومت کے غلام نہیں، عوام پر حکومت آئین کے مطابق کرنی ہوتی ہے، پاکستان میں غربت بہت ہے لوگ روزانہ کما کر ہی کھانا کھا سکتے ہیں، کراچی پورٹ پر اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو باہر نہیں آ رہا، لگتا ہے کراچی پورٹ پر پڑا سامان سمندر میں پھینکنا پڑے گا، کیا کسی کو معلوم ہے 2 ماہ بعد کتنی بے روزگاری ہوگی؟ بند ہونے والی صنعتیں دوبارہ چل نہیں سکیں گی، کیا کروڑوں لوگوں کو روکنے کیلئے گولیاں ماری جائیں گی؟ سنا ہے ہولی فیملی ہسپتال سے لوگوں کو نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری صحت پنجاب نے کہا اگر مریض منتقل ہو رہے تو یہ ڈاکٹرز کا مس کنڈکٹ ہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے حوالے سے آنے والے اربوں روپے کہاں جارہے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) حکومت پاکستان اور مختلف اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی 123 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ادارے کے لیے 25 ارب 30 کروڑ روپیمختص کیے، وزارت صحت کی جانب سے 50 ارب روپے مختص ہوئے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب این ڈی ایم اے کو 8 ارب روپے ملے جب کہ چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امداد صرف سامان کی صورت میں وصول کی جاتی ہے، نقد رقم کی صورت میں نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے امداد کا آڈٹ کرانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کر چکی ہے۔بارڈرز پر قرنطینہ مراکز کے حوالے سے تفصیلات بھی این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تفتان پر 1300 افراد، چمن میں 900 اور طورخم پر 1200 افراد کو قرنطینہ مراکز میں رکھنے کی گنجائش ہے، طورخم پر قرنطینہ مرکز کے لیے 300 کمرے تعمیر کر لیے گئے ہیں جب کہ 1200 اضافی کمروں کی تعمیر کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ تفتان میں 600 میں سے 202 کمرے تکمیل کے قریب ہیں، لوکل ملٹری اتھارٹی کے مطابق مزید کمروں کی ضرورت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق لوکل ملٹری اتھارٹی نے ٹینٹ ولیج کی صورت میں 1300 کمروں کی سہولت فراہم کر رکھی ہے جب کہ پاکستان ریلویز نے بھی 2 ٹرینیں بطور قرنطینہ مختص کر رکھی ہیں۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کی رقم ماسک اور دیگر چھوٹی اشیا پر خرچ کی گئی ہے، کورونا کے حوالے سے اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟ رقم کا حساب رکھا جائے۔نمائندہ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہمارے لیے 25 ارب مختص ہوئے ہیں، یہ تمام رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 25 ارب تو آپ کو ملے ہیں، صوبوں کو الگ ملے ہیں اور احساس پروگرام کی رقم الگ ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ 500 ارب روپے کورونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائے گا، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر 600 لوگ جاں بحق ہوگئے تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟ کیا 25 ارب کی رقم سے آپ کثیر المنزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ رقم ابھی پوری طرح ملی نہیں اور اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے۔جسٹس گلزار احمد نیریمارکس دیے کہ ہمارے ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہورہے ہیں، ہمارا ملک کورونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت ابھی تک حاصل کیوں نہیں کرسکا؟ اس ملک کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے غلام نہیں ہیں، آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں، عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، آپ کسی پر احسان نہیں کررہے۔اس پر نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا کہ اس کا جواب وزارت صحت زیادہ بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہیکہ کورونا وائرس بظاہر پاکستان میں وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا اور پاکستان ایک ایسا ملک نہیں جو کورونا وائرس سے زیادہ بری طرح متاثر ہو۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہیکہ ملک میں ہزاروں افراد دل، جگر،گردوں، برین ہیمرج اور دیگر امراض کے سبب مرجاتے ہیں، حکومت کورونا کے علاوہ دیگر بیماریوں اور مسائل پر بھی توجہ دے۔عدالت کا اپنے حکم میں کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے، ایس او پیزکی خلاف ورزی کی صورت میں دکان سیل نہیں کی جائے گی اور نہ کسی کو ہراساں کیا جائے گا، صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، نہیں لگتا کورونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کورونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔عدالت نے ہفتہ اور اتوارکو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہیکہ دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر آج ہی سے کھلیں گے جب کہ سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا اور وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی، کاروبار کھول دے گی، تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔عدالت نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

کراچی،اسلام آباد، لاہور (سٹاف رپورٹر، لیڈی رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)) سپریم کورٹ کی ہدایت پرپنجاب، سندھ اور اسلام آباد کی تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھول دیئے گئے، پنجاب حکومت نے شاپنگ مالز 24 گھنٹے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم مارکیٹوں کو شام 5 بجے تک ہی کھولنے کی اجازت ہو گی۔وفاقی دارالحکومت میں چھوٹی بڑی تمام مارکیٹیں کھول دی گئیں، تمام ہیئر سیلونز اور باربر شاپس کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔پنجاب حکومت نے پورا ہفتہ کاروبار کرنے کی اجازت دے دی یے۔اب جمعہ۔ہفتہ اور اتوار کو بھی مارکیٹوں بازاروں اور شاپنگ مالز کو کھولنے کی اجازت دے دی گی ہے۔جس جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں تین دن کا لاک ڈاؤن سخت رکھنے کے احکامات کو واپس لے لیا گیا ہے اور لاہور سمیت پنجاب بھر میں آج سے چار روز کی بجائے پورا ہفتہ کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور پورا ہفتہ مارکیٹوں بازاروں اور شاپنگ مالز کھلے رہیں گے جس میں صبح 8بجے سے لیکر شام 5بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت ہوگئی تاہم اس میں حکومتی ایس او پی پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے حکم پر اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی اقدامات عیدالفطر کی شاپنگ کے لیے کیے گئے ہیں تاہم عیدالفطر کے بعد کاروبار کے حوالے سے نئے سرے سے ایس او پی بنایا جائے گا جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کاروباری زندگی بحال کرنے کے لیے پورا ہفتہ مارکیٹوں۔بازاروں اور شاپنگ مالز کو جاری رکھا جائے گا یا کہ نہیں۔جبکہ صنعتوں اور فیکٹریوں سمیت ورکشاپوں کارخانوں اور دکانوں کے بارے بھی عیدالفطر کے بعد نئے سرے سے ایس او پی بنایا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے بعد لاک ڈاؤن سخت کردیا جائے گا اور اس حوالے سے نئے سرے سے ایس او پی بنایا جائے گا جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ عیدالفطر کے بعد کون سا کاروبار کھولا جائے گا، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ شاپنگ مالز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے تاہم مارکیٹوں کو شام 5 تک کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی۔ حکومت کی جانب سے صارفین کو ایس اوپیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے داخلی راستوں پر ڈس انفیکٹ ٹنلز لگا دی گئیں، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی شاپنگ مالز کھول دئیے گئے ہیں، پنجاب بھر میں چھوٹے بڑے کاروباری مراکز میں تین روز بعد کا روبار چل پڑا۔سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر ہفتہ اور اتوار کر بھی مارکیٹیں کھولنے کا اعلان کردیا۔ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نیکہا کہ پورا ہفتہ مارکیٹیں کھولنیکے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں لہٰذا عدالتی حکم کے مطابق ہفتے اور اتوارکو مارکیٹیں کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ خواتین چند مہینوں کے بچوں کوبھی مارکیٹیں میں لے کر آرہی ہیں جس سے گریز کرنا چاہیے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بزرگ بھی مارکیٹوں میں بغیر ماسک کے نظر آئے، دکانداروں کو چاہیے کہ جو حفاظتی اقدامات پورے نہ کرے اسے دکان کے اندر نہ ا?نے دیں، اس صورتحال میں شہریوں کو بھی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔دوسری طرف وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے بدھ 20 مئی سے ایس او پیز کے تحت ٹرینیں چلانے کی اجازت دیدی ہے۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 30 ٹرینیں چلانے کی اجازت دی ہے۔ یکم جون تک حالات بہتر ہوئے تو مزید ٹرینیں چلائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے پہلے ہی آن لائن بکنگ کرا رکھی ہے۔ شہری کسی مسافر کو چھوڑنے یا لینے نہ آئیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ریجنل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف کارروائی ہوگی۔ تاہم ریلوے میں عمر کی کوئی قید نہیں، سب سفر کر سکتے ہیں۔ن کا کہنا تھا کہ کراچی کا ٹریک کھلا تو ریلوے چلے گی، ریلوے صرف پنجاب کی نہیں پورے پاکستان کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کورونا از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ(کل) 20مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دی جارہی ہے،یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے،کورونا وباء سے بچنے کے لیے ایس او پی پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا،شاپنگ مالز اور بازاروں میں سماجی فاصلوں پر عمل یقینی نائیں،کوروناہمارے کنٹرول میں ہے،،مطلب یہ نہیں کہ وباختم ہوگئی ہے،آنیوالے وقت کیلئے تیاررہناچاہیے،صحت کاسسٹم بہترہوناچاہیے۔ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ 20مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ریلوے ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز کو ایس او پی پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی گئی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے انڈسٹری کو بھی کام کرنے کی اجازت ہے،عید کی چھٹیوں کے دوران بھی انڈسٹری چلانے کی اجازت ہو گی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ کورونا وباء سے بچنے کے لیے ایس او پی پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ملک کے اندر بھی کورونا حفاظتی لباس کی پروڈکشن شروع ہو چکی ہے،شاپنگ مالز اور بازاروں میں سماجی فاصلوں پر عمل یقینی بنائیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہمیں کورونا کے ساتھ ساتھ بھوک کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ کوروناسے بے روزگارافراد کیلئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے،حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔۔ جزوی طور پر شروع کی جانے والی ٹرینوں میں پشاور۔کراچی۔پشاور(خیبر میل اور عوام ایکسپریس)، کوئٹہ۔پشاور۔کوئٹہ (جعفر ایکسپریس)، کراچی۔راولپنڈی۔کراچی(تیزگام، گرین لائن، پاکستان ایکسپریس)، راولپنڈی۔ملتان۔راولپنڈی(مہر ایکسپریس)، راولپنڈی۔لاہور۔راولپنڈی(سبک رفتار، اسلام آباد ایکسپریس)، کراچی۔لاہور۔کراچی(پاک بزنس، قراقرم ایکسپریس، شاہ حسین)، کراچی۔لالہ موسی۔کراچی(ملت ایکسپریس)، کراچی۔سیالکوٹ۔کراچی(علامہ اقبال ایکسپریس)، جیکب آباد۔کراچی۔جیکب آباد(سکھر ایکسپریس)شامل ہیں۔ان ٹرینوں کی بحالی کا مقصد لوگوں کو عید کے موقع پر سہولت مہیا کرنا ہے۔ مسافروں سے درخواست ہے کہ ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ انتہائی ایمرجنسی میں کم سے کم افراد کے ساتھ سفر کریں۔ ٹرین پر سفر کرنے کیلئے مسافروں کو درج ذیل ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوگا۔ ٹرینوں کی بکنگ صرف آن لائن ٹکٹنگ کے ذریعے ہوگی۔ بکنگ آفسز بند رہیں گے۔ 60فی صد اکوپنسی کے بعد بکنگ بند کردی جائے گی۔مختلف سٹیشنوں پر سینیٹائزر واک تھرو گیٹوں کی تنصیب کی جائے گی۔مسافروں کو ٹرین کی روانگی سے ایک گھنٹہ پہلے اسٹیشن میں داخلہ کی اجازت ہوگی۔مسافروں کی فیملی انہیں چھوڑنے نہیں آسکتی۔ریلوے اسٹیشن سے 200میٹر تک ایریا غیر ضروری افراد کیلئے بند کردیا جائے گا۔ ٹرین کے سٹاپ والے اسٹیشنوں پر میڈیکل آفیسر اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کیلئے سٹاف کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ دورانِ سفر تمام مسافروں کا ٹمپریچر چیک کیا جائے گا۔ ماسک، سینیٹائزر، دستانے اور صابن اپنے ہمراہ رکھیں۔ یہ واضح رہے کہ اگر کوئی مسافر ان ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھے گا تو اسے پہلی دفعہ 500روپے جرمانہ، دوسری دفعہ 1000روپے اور تیسری دفعہ اسے اگلے سٹاپ کرنے والے سٹیشن پر ٹرین سے اتار دیا جائے گا۔ ہم مسافروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے پاکستان کو اس وباء سے محفوظ رکھنے کیلئے پاکستان ریلوے کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

شیخ رشید

مزید :

صفحہ اول -