آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کم کررہے ہیں: حفیظ شیخ

        آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کم ...

  

سلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر نئے بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے نظام میں موجود خامیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں چیئرپرسن ایف بی آر،سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ڈاکٹراکرام الحق سے ویڈیولنک کے ذریعے ٹیکس اسٹرکچر پر بات چیت کی گئی۔ڈاکٹر اکرام الحق نے مارکیٹوں اور چیمبرز کے جمع کردہ ڈیٹا پر روشنی ڈالی۔اجلاس میں ڈیٹا کے ذریعے ٹیکس وصولی میں اضافے، نظام میں بہتری کی تجاویز پیش کی گئیں۔اس موقع پر مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولیوں کے نظام میں موجود خامیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں،معیشت کو درپیش مشکلات ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔عبدالحفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر نئے بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں،حکومت فریقین سے بات چیت کر کے ان کی تجاویز پر غور کریگی۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ جی20 سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کے بہتر نتائج آئیں گے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکسز نہیں لگائے گی، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کو بھی کم کیا جارہا ہے،تحریک انصاف کی حکومت بجٹ خسارے کو 9 فیصد کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اکانومی کو بڑھانے کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے والے سیکٹرز کو پیکیجز دیں گے، کورونا کے دور میں جوسبسڈیز دی ہیں اس کو بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں گے، اور تیل کی قیمتوں میں کمی کو ایک لیول پر برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ پیر کونجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی برآمدات نہیں بڑھا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 20 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ ملا تاہم اسے کم کر کے 3 ارب ڈالر تک لایا گیا۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)کے ذخائر کو 12 ارب ڈالر تک لے جایا گیا۔انہوں نے مستقبل کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے بجٹ میں کافی چیزوں پر ڈیوٹیز کو کم کرنے جارہے ہیں۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ بنیادی ڈیمانڈ لوگوں کو ریلیف دینا ہے، کوشش ہے کہ فزیکل اسٹیمولس پیکیج سے لوگوں کے ہاتھ میں کیش پہنچایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت بیروزگاروں کو فی کس 12 ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ورثے میں بڑے قرض ملے، ہمیں موبلائز کرنا پڑا، ساڑھے چار ارب اضافی موبائلائز کر رہے ہیں۔بیرون ملک سے پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے متعلق مشیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سالے کے مقابلے میں ترسیلات زر زیادہ ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ رواں مالی سال کے تخمینے کے مطابق ان ترسیلات میں 6 فیصد کمی آئی ہے۔احساس پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت 90 ارب تک روپے ضرورتمندوں کو پہنچائے جاچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت بجٹ خسارے کو 9 فیصد کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اس میں ہم اپنے اخراجات کو بھی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لائیں گے، اکانومی کو بڑھانے کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے والے سیکٹرز کو پیکیجز دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے دور میں جوسبسڈیز دی ہیں اس کو بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں گے، اور تیل کی قیمتوں میں کمی کو ایک لیول پر برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ تیل کی قیمتوں کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کب تک برقرار رہیں گی، دنیاکی معیشت سنبھلے گی تو تیل کی قیمتوں میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔

حفیظ شیخ

مزید :

صفحہ اول -