پاکستان میں سیاحتی سرگرمیاں بھی جلد بحال ہونے کا امکان

  پاکستان میں سیاحتی سرگرمیاں بھی جلد بحال ہونے کا امکان

  

اسلام آباد(آئی این پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دنیا بھر کے لیے اپنے دروازے کھول دئیے ہیں، بھارت نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے خود کو تنہا کرلیا، مرحلہ وار فضائی حدود کھولی جائینگی، کرونا کے دوران سیاحتی شعبے سے منسلک متاثرہ افراد کے لیے اقدامات کررہے ہیں، ادائیگیوں کو موخر کرنے سمیت ٹیکس چھوٹ اور ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے، کرونا کا خطرہ کم ہوتے ہی سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی کے ایکشن پلان پر کام ہوگا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروبار کے ساتھ سیاحتی سرگرمیاں بھی جلد بحال ہونے کا امکان ہے۔ پیرکو زلفی بخاری نے ورلڈ ٹورازم فورم کے ورچوئل ٹاؤن ہال سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے خود کو تنہا کرلیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے مرحلہ وار فضائی حدود کھولے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ کرونا کے دوران سیاحتی شعبے سے منسلک متاثرہ افراد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔زلفی بخاری نے کہا کہ ادائیگیوں کو موخر کرنے سمیت ٹیکس چھوٹ اور ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے، کرونا کا خطرہ کم ہوتے ہی سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی کے ایکشن پلان پر کام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم کو ایک ساتھ دو چیلنجز کا سامنا تھا، کرونا سے بچا، عوام کو بھوک سے بچانے کے لیے اقدامات میں توازن لانا تھا۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کیفیصلیدوسرے ترقی پذیرممالک کی نسبت متاثرکن ثابت ہوئے، سیاحتی شعبے کے فروغ کیلئے مرحلہ وار فضائی حدود کھولنے کے اقدامات کرینگے، وزیراعظم کی پاک بھارت بارڈرکو ای یو بارڈر کے طرز پر دیکھنے کی خواہش تھی، عمران خان کی خواہش ہے سیاحت اورکاروباری مقاصد کیلئے بارڈرز کھل سکیں۔زلفی بخاری نے کہا کہ بدقسمتی سیحالات و واقعات کے پیش نظرایسا نہیں ہوسکا بہتر تعلقات نہ ہونے کے باجود پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کھولا، سکھوں کومودی کی غلط پالیسوں کے باعث مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نیسرمایہ کاری میں آسانی کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے، پاکستان پہلا ملک ہے جس نے ان حالات میں تعمیراتی صنعت کو بحال کیا۔

سیاحتی سرگرمیاں

مزید :

صفحہ آخر -