چاند رات تک مارکیٹ کو 24گھنٹے کھولا جائے، مقصد عوام کو ریلیف دلانہ ہے: خرم شیر زمان

چاند رات تک مارکیٹ کو 24گھنٹے کھولا جائے، مقصد عوام کو ریلیف دلانہ ہے: خرم شیر ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ ہم سندھ حکومت سے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دلانہ ہے۔ہم چیف جسٹس کے بے حد مشکور ہیں۔ہم نے آواز اٹھائی اور حکومت سندھ کی ذیادتیوں کے خلاف نوٹس کی اپیل کی تھی۔کے پی اور پنجاب نے دو دن قبل مالز کھول دیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ، رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، ترجمان کراچی جمال صدیقی، اراکین سندھ اسمبلی شہزاد قریشی، سدرہ عمران، پی ٹی آئی رہنما عمران صدیقی اور دیگر موجود تھے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وزیر اعلیٰ، سن کوٹا والے مشیر سب نکمے ہیں۔کیا یہ کورونا شام 5 بجے باہر نکلتا ہے؟کیا کورونا صرف تاجروں کے پاس جارہا ہے؟صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ نقصان پی پی نے پہچایا ہے۔ان لوگوں سے ابھی تک ایس او پیز نہیں بن سکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چاند رات تک مارکیٹ کو 24 گھنٹے تک کھولا جائے۔پیٹرول پمپ کو بند کرنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت ٹرانسپورٹ کو کھولا جائے۔مسجدوں کے لیے فوری نوٹیفکیشن نکالا جائے۔چیف سیکریٹری صاحب اس بات کا نوٹیفکیشن نکالیں۔چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ اس صوبے میں اور بھی نالائقیاں ہیں ان پر بھی نوٹس لیں،یہ حکومت صرف آپ کی زبان سمجھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا میں مبتلا ہونے والے صحافی حمید سومرو کی حالت سب دوستوں نے دیکھی۔انہیں ایک پیناڈول نہیں دی گئی۔وہ اسپتال سے گھر واپس چلے گئے ہیں۔جب ہم بات کررہے ہیں توکہتے ہیں تنقید کررہے ہیں۔حمید سومرو کے لیے ہم سب دعاگو ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم نااہل اور نالائق ہیں،لیکن آج چیف جسٹس نے فیصلہ دیا ہے انہیں دیکھیں پیپلز پارٹی کیا کہتی ہے۔پی پی اور پی ٹی آئی کے سوچنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ہم کبھی بھی ایک پیج پر نہیں آسکتے۔پی پی کورونا سے ڈرتی ہے۔پی پی نے ہر ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی پیسے بنائے ہیں۔ہم غریب کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ہم انہیں ان کی نااہلی کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہتے ہیں ٹرانسپورٹ عید کے بعد کھولو۔عید کے بعد کیوں عید سے پہلے کیوں نہیں؟اویس شاہ خود کو قابل کہتے ہیں۔اویس شاہ بتائیں 0 2 ہزار بسیں کہاں گئیں،اویس شاہ اور ناصر حسین شاہ جواب دیں۔27 ہزار بسیں لائی جائیں شہر میں۔میں مطالبہ کررہا ہوں 149 4 کے تحت صوبے کو وفاق سنبھالے،نہیں تو ایمرجنسی یا 234 لگایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورنر راج کی آج تک کوئی بات نہیں کی۔اب یہ کھیل شائقین نے مزے سے دیکھنا ہے۔میانداد والے چھکے لگنے والے ہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس وزیر اعظم نے طلب نہیں کیا تھا۔جس نے اجلاس بلوایا وہ خد اجلاس میں نہیں آیا۔پاکستان کا مقابلہ دو قسم کی اموات سے ہے۔ایک کورونا اور دوسرہ کورونا کے ری ایکشن سے۔وزیر اعظم روز اپنی پالیسی ٹی وی پر عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے فیصلے پر ویلکم کرتے ہیں۔ہم نے دین کا فیصلہ قرآن اور حدیث کی نظر میں کرنا ہے۔دین کا فیصلہ شاہ سلمان کے قانون پر نہیں ہوگا۔شاہ سلمان کے فیصلوں پر چلنا ہے تو پہلے چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں۔سندھ اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جارہا یہ کہہ کر اے سی لائین سے کورونا آجائے گا۔اسلام آباد میں پی پی نیلسن منڈیلا کے پیروکار بن جاتے ہیں۔سندھ پہنچتے ہی یہ سویلین ڈکٹیٹر اور ہٹلر کے پیروکار بن جاتے ہیں۔سندھ حکومت خد اس وقت وینٹیلیٹر پر ہے۔انہیں خد وینٹیلیٹر کی ضرورت ہے۔پی پی ای کٹس، این نائنٹی فاییو ماسک سب کھاگئے۔آج ڈبلیو ایچ او بھی ان کو برا کہہ رہا ہے۔سندھ حکومت اپنی ڈرامے بازی بند کرے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -