محکمہ انکم ٹیکس ری فنڈ فوری ادا کرے: وفاقی چیمبر

  محکمہ انکم ٹیکس ری فنڈ فوری ادا کرے: وفاقی چیمبر

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی طر ف سے 2014سے زیر التو انکم ٹیکس ریفنڈ اگلے ہفتے تک جاری کرنے کے اعلان پر مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صرف 2014سے نہیں بلکہ 2014سے قبل کے زیر التو انکم ٹیکس ریفنڈ بھی فوری جاری کریں تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ چل سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ صنعتی اور برآمدی شعبے کے بقیہ ریفنڈز کی ادائیگی کا فیصلہ قابل تعریف ہے جس سے ایک لاکھ ٹیکس دہندگان مستفید ہو نگے مگر حکومت کاروباری برادری کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے 2014سے قبل کے زیر التو انکم ٹیکس ریفنڈ بھی فوری جاری کرئے۔ڈاکٹر محمد ارشد نے مزید کہاکہ حکومت صنعت کے کیش اور لیکویڈیٹی سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے حل کروانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے۔صنعتی شعبے اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کیلئے حکومت کو ترجیح بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے۔ایف پی سی سی آئی ریجنل چیئرمین نے مزید کہاکہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوء اربوں روپے کے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈرا بیک جاری نہ ہونا ملکی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے مزید تجویز دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور اس میں نجی شعبہ کو اعتماد میں لیا جائے۔ڈاکٹر محمد ارشد نے کہاکہ کرونا وباء کے ملکی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ اثرات منفی شرح نمو، جاریہ اور مالی توازن میں بگاڑ، سپلائی چین میں رکاوٹ اور بے روزگاری میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کو دیگر ممالک کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ موجودہ دور میں کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرسکتا۔

صحت اور معاشی سرگرمیوں کے مابین توازن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کو کورونا کے اثرات کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی بچانا ہے۔

مزید :

کامرس -