دیا مربھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ ملکی مفاد میں ہے: میاں زاہد حسین

  دیا مربھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ ملکی مفاد میں ہے: میاں زاہد حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم کے پہلے مرحلے کی تعمیر کے آغاز کا فیصلہ موجودہ حالات میں درست اور ملکی مفاد کے عین مطابق ہے۔ یہ ڈیم زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہو گی جس سے سماجی اور اقتصادی ترقی یقینی بنائی جا سکے گی۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں اس وقت پانی کی کمی 12 ملین ایکڑ فٹ ہے جو اس ڈیم کے تعمیر کے بعد نصف رہ جائے گی کیونکہ اس میں 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہو گا، بارہ لاکھ ایکڑ سے زیادہ بنجر زمین سیراب ہو سکے گی جبکہ1960 میں تعمیر ہونے والے تربیلا ڈیم کی زندگی میں پینتیس سال کا اضافہ ہو جائے گا۔اس ڈیم کی تعمیر سے تعمیراتی سامان تیار کرنے والی صنعتیں اور خدمات فراہم کرنے والے شعبے ترقی کریں گے جبکہ ساڑھے سولہ ہزار افراد کو روزگار بھی ملے گا۔تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد ملک نے زبردست ترقی کی مگر بعدمیں آنے والی حکومتوں نے پن بجلی کو نظر انداز کرتے ہوئے درآمدی ایندھن سے بجلی بنانے والے مہنگے منصوبوں کو ترجیح دی جبکہ سرمایہ کاروں کو بے اندازہ منافع دیا جس سے بجلی بہت مہنگی ہو گئی، خوفناک گردشی قرضہ نے جنم لیااور ملک کا اقتصادی مستقبل سخت خطرات سے دوچار ہو گیا۔سن 2000 میں پن بجلی کی اہمیت کا ادراک کیا گیا اورکافی ورکنگ کے بعد وژن 2020 کے نام سے ایک منصوبہ بنایا گیا جس میں 2020 تک مختلف ڈیم بنا کر بجلی کی پیداوار میں بیس ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر اس منصوبے پرقومی اہمیت کے حامل دیگر درجنوں منصوبوں کی طرح عمل درآمد نہ ہو سکا۔اگر اس منصوبے پر عمل کیا جاتا تو ملک میں پانی یا سستی بجلی کی کوئی کمی نہ ہوتی، آلودگی اور آئل امپورٹ بل کم ہوتا اور پیداواربرآمدات اور روزگار بڑھ رہا ہوتا۔سی پیک کے آغاز سے پن بجلی کے منصوبے دوبارہ فوکس میں آ گئے کیونکہ چینی حکومت اور سرمایہ کار قلیل المدتی فوائد سمیٹنے کے بجائے طویل المیعاد فوائد پر نظر رکھتے ہیں۔انھوں نے رینٹل پاور کے چکر میں پڑنے کے بجائے گیس،کوئلے اور پانی سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو ترجیح دی۔ اس وقت پن بجلی کے متعدد منصوبے زیر تعمیر ہیں جن کے مکمل ہونے پر پن بجلی کی پیداوار دگنی ہو کر دس ہزار میگاواٹ ہو جائے گی تاہم وژن 2020 کے اہداف 2030 تک بھی حاصل کر لئے گئے تو یہ ایک معجزہ ہو گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں منصوبے بہت بنائے جاتے ہیں مگر عمل درآمد کم ہوتا ہے۔حکومت کوشش کرے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر وقت پر ہو تاکہ اربوں روپے کا زیاں نہ ہو اور بیوروکریسی کو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تاریخ دہرانے کا موقع نہ ملے۔

جیکب آباد میں رائس ملز پر چھاپہ، ذخیرہ کی گئی گندم برآمد

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -