وزیر تعلیم کو فارغ‘ سکول کھولیں جائیں‘رضوانہ ایوب

    وزیر تعلیم کو فارغ‘ سکول کھولیں جائیں‘رضوانہ ایوب

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) چیئرپرسن سٹی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن میڈم رضوانہ ایوب ایڈووکیٹ نے صدر چوہدری محمد عاشق،جنرل سیکرٹری کامران شاہد،پریس سیکرٹری عمران لئیق قریشی،قاسم،محمد سانول،شیخ نثار احمد،میڈم سحرش ابرار،میڈم صدف جمیل،ندیم،مبشر اعوان،میڈم رابعہ گیلانی،ظفر،طاہر شاہ،حفیظ الرحمن،ارشد بھٹہ،حافظ آیان،محمد حفیظ کھوکھر،میڈم طوبیٰ شیخ،میڈم فرزانہ کوثر،راؤ مصور اور محمد شہباز کے ہمراہ ملتان پریس کلب میں (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر کم آمدن والے سکولز کی کسی فورم پر موثر نمائندگی نہیں تھی اس مقصد کیلئے یہ ایسوسی ایشن قائم کی گئی ہے اس ایسوسی ایشن میں 95فیصد رجسٹرڈ سکول ایسے ہیں جو ماہانہ 500سے1500تک فیس وصول کرتے ہیں اور بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور دیگر سہولیات بھی طلباء وطالبات کو مہیا کرتے ہیں یہ تنظیم ہر سطح پر ایسے سکولز کی نمائندگی کرے گی یہ تنظیم مکمل طور پر غیر سیاسی ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے 90فیصد پوزیشن ہولڈرز سٹوڈنٹس کا تعلق نجی تعلیمی اداروں سے ہوتا ہے ڈاکٹرز،انجینئرز اور دیگر اہم شعبوں میں کام کرنے والے لوگ انہی نجی سکولوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں کسی بھی قسم کی مالی مدد کے بغیر یہ ادارے بہترین کام کرتے ہیں دولاکھ کے لگ بھگ پرائیویٹ سکولز ہیں جن میں تقریباََ 2کروڑ سٹوڈنٹس زیرتعلیم ہیں اور بیس لاکھ کے لگ بھگ اساتذہ ہیں اگر ان نجی اداروں کی آواز نہ سنی گئی تو ملک میں تعلیمی اور معاشی بحران آجائے گا مسلسل سکولز کی بندش سے کم فیسوں والے سکول مالکان اور اساتذہ پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں ان کا ازالہ نہ کیا گیا تو اور 90فیصد سکول بند اور اساتذہ بے روزگار ہوجائیں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت یکم جون سے ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھول دے اور نجی تعلیمی اداروں کیلئے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلام بھی کیا جائے ورنہ سکول مالکان اور اساتذہ مجبوراََ سڑکوں پر ہونگے انہوں نے مزید کہا کہ کیا بازاروں میں بے انتہارش ہے کیا وہاں کورونا کا خطرہ نہیں؟اگر ایک عام بس کنڈیکٹر ایس او پیز کے تحت بس مسافروں کا خیال رکھ سکتا ہے تو ایک استاد کیوں نہیں سکولز میں تو ایس او پیز پر بہترین طریقے سے عمل کروایا جاسکتا ہے بچوں کے والدین بھی پڑھائی کو لیکر پریشان ہیں وفاقی حکومت نے میٹرک اور انٹر کے جو امتحانات منسوخ کئیے ہیں اس سے طلباء کا بہت نقصاب ہوا ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ہمیں صوبائی وزیر تعلیم (مرادراس) کی تعلیم دشمن پالیسیوں سے مکمل اختلاف کرتے ہیں تعلیمی اداروں کو مافیا کہہ کر وزیرتعلیم نے اساتذہ کی توہین کی ہے والدین کو وزیر موصوف نے کہا ہے کہ وہ نجی سکولز کی فیس ادانہ کریں جبکہ سندھ اور کے پی کے حکومت نے والدین کو تاکید کی کی وہ بروقت فیس ادائیگی کو یقینی بنائیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبائی وزیر تعلیم کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے مختلف ممالک کی ریسرچ سٹڈی کے مطابق 1سے 17 سال بچوں میں کورونا کا خطرہ ہونے کے برابر ہے اور سکولز میں اسی عمر کے بچے ہوتے ہیں سکولز کی بندش سے تمام بکس سیلر یونیفارم شاپس کینٹین بچوں کو سکول چھوڑنے والے رکشہ ودیگر حضرات سب کا معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔

رضوانہ ایوب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -