حکومت کی عدم توجہہ، یو اے ای میں لاکھوں پاکستانی فلائٹس بندش سے پریشان

حکومت کی عدم توجہہ، یو اے ای میں لاکھوں پاکستانی فلائٹس بندش سے پریشان

  

بنوں (تحصیل رپورٹر) خیبر پختونخواہ حکومت کی بے حسی اور یو اے ای سے پشاور کیلئے فلائٹس کی بندش سے صرف متحدہ عرب امارت میں 69ہزار پاکستانی محصور،11لاکھ سے زائد صرف پختونوں کے وطن واپسی کے دروازے بند جبکہ 12702پاکستانی اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو نے پڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے پشاور کے لئے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کی پروازوں کی بندش پختونوں کیساتھ انتہائی ظالمانہ اقدام ہیں کیونکہ فیصل اباد، لاہور اور کراچی کے لئے پی ائی اے کی پروازیں چلائی جارہی ہے لیکن پشاور کے لئے پی ائی اے کی پروازیں بند ہیں اس میں ابوظہبی سفارت خانہ کے قونصل چانسلر سبطین اور پاکستان میں اورسیز پاکستانی آفیسر معید حسن کی پختون دشمن روایہ اپنانے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ان دونوں کو اپنے عہدوں سے ہٹایا جائے۔پاکستان کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے ہزاروں اورسیز پشتون فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے اس سال اپنے رشتہ داروں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔ان خیالات کا اظہار پختون کیمونٹی چیئرمین متحدہ عرب امارت کے چیئرمین (صدراتی تمغہ امتیاز) یافتہ حاجی دراز خان کے زیر قیادت اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل پرپشاور میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے فضل الہی، پاکستان تحریک انصاف این اے 35 قومی اسمبلی سابق امیدوار مولانا سید نسیم علی شاہ، پی ٹی ائی ضلع بنوں صدر مطیع اللہ خان،پاکستان تحریک انصاف لیبر ونگ صوبائی صدر مرتضی حسین،یوتھ لیبر منسٹر خیبر پختونخواہ بخت رضاء، سینئر نائب صدر اورسیزپاک خیبر کریم آفریدی، اورسیز پاک خیبر ونگ دبئی رہنماء محمد شریف آفریدی، چیف اف شارجہ ٹھیکیدار حاجی قمرزمان خان اور العین ٹھیکیدار برادری کے مشر شہزاد خان عرف خان قریشی ودیگر رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔پختون کیمونٹی چیئرمین متحدہ عرب امارات (صدراتی تمغہ امتیاز ایواڈ یافتہ) حاجی دراز خان اور پاکستان تحریک انصاف ایم پی اے فضل الہی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان اور گورنر کے پی کے شاہ فرمان بھی پختون ہیں لیکن متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہوئے لاکھوں سمندر پار پختون مزدوروں کو وطن لانے کے لئے کوئی کردار داد نہیں کر رہے ہیں۔ نمل یونیورسٹی کو چلانے والے، شوکت خانم ہسپتال کو چندہ بھیجنے والے اور پاکستان تحریک انصاف پاکستان کا دھرنا کامیاب کرنے والے اورسیز پاکستانی ہیں لیکن آج افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان سمندر پار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے اور یو اے ای سے پشاور کے لئے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کی پروازیں چلانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں جوکہ افسوس ناک بات ہیں۔اورسیز پاکستانی وزیر مملکت زلفی بخاری کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پشتون باہر ممالک میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ 70 فیصد سے زائد خیبر پختونخواہ کے پشتون قوم سے تعلق رکھتے ہیں پاکستان کے لئے قیمتی زر مبادلہ کمانے والے ہزاروں اوورسیز پشتون وہاں سے پشاور کیلئے فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے اس سال اپنے رشتہ داروں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو سکیں گے چند ایک آنے والے پشتونوں کو بھی خیبر پختونخواہ میں ائیر پورٹ ہونے کے باجود کراچی، فیصل آباد، لاہور اور ملتان اُتارا جا رہا ہے جہاں ان کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پشاور ائیر پورٹ کو یہ بہانہ بنا کر بند کر دیا گیا ہے کہ یہاں کوئی قرنٹائین سنٹر موجود نہیں ہیں اگر سنٹر موجود نہیں تو پشاور کے سینکڑوں کالجز اور یونیورسٹیاں آخر کس مقصد کے لئے خالی کر دی گئی ہیں اور پھر حکومت کورونا کے خلاف اخر کیا جنگ لڑ رہی ہے ان میں ہزاروں کی تعداد میں یہ اوورسیز عید منانے کے لئے ہر سال مشکل سے چھٹی لے کر گھر آتے ہیں لیکن پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس کی وجہ سے امارات میں بھی حالات درست نہیں اور یہاں سے لوگ اپنے گھروں کو عزیزوں کے پاس آنے کے لئے بے چین ہیں لیکن پاکستان کے لئے اور خصوصی طور پر پشاور ائیر پورٹ کی بندش کی وجہ سے ان لوگوں کے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ عید منانے کی امید ختم ہوتی نظر آرہی ہے اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی پشتونوں کو کابل ائرپورٹ پر اُترنے کی بات کرتے ہیں جبکہ ہماری صوبائی حکومت اپنے ہی صوبے کے عوام کیلئے پشاور ائرپورٹ پر پروازیں اُترنے کی اجازت نہیں دے رہے یہ صورت حال دنیا کو کیا پیغام دے رہی ہے دوسری طرف ہیڈ آف چانسلر ابوظہبی سبطین اور اوورسیز پاکستانی آفیسر معید حسن پاکستانیوں کیلئے مسائل پیدا کر رہے ہیں امارات سے پشاور کے لئے فلائیٹ شروع کی جائیں تاکہ پشتون بھائیوں کو جو ایمر جنسی میں ملک آنا چاہتے ہیں ان کی وطن واپسی ممکن بنائی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -