جندول،لاک ڈاؤن میں نرمی،بازاروں خریداروں کا رش

جندول،لاک ڈاؤن میں نرمی،بازاروں خریداروں کا رش

  

جندول(نمائندہ پاکستان) جندول سب ڈویژن سمیت لویر دیر کے مختلف مارکیٹوں میں لاک ڈون نرمی کے بعد عید کیلئے خریداری زور شوار سے جاری کاسمٹک کپڑوں اور شوز چپل میکر کے دوگانوں پر خواتین کا رش مگرپردے اور حیاء کا جنازہ نکالا جارہا ہے دوکانوں میں مردوں کو نمبر نہیں مل رہا ہے جو مرد بھی خریداری کرسکے جس پر علماء حق سمیت مقامی انتظامیہ اور دیگر مزہبی لوگ خاموش تماشائی بن بیٹھے ہے۔تفصلات کے مطابق لوئر دیر ایک اسلام پسند ضلعوں میں شمار کیا جاتاتھا جہاں ملک بھر سے زیادہ خواتین پردے کا احتمام کیا کرتا تھا جو اج کل لویر دیر میں ہزاروں کے تعدادازاد خیال عورتیں پیدا ہوگئی ہے جو جندول سمیت لوئر دیر کے تمام بڑے بازروں میں صبح سے لیکر شام تک مارکیٹوں میں گھوم رہی ہے اور قیمتی کپڑے اور شوز وغیرہ خرید رئیوریو میں مصروف رہتے ہے۔ یاد رہے ایک وقت تھا جس کے جلسوں اور جلوس میں خواتین شامل ہوتاتھا تو ان پر کل کر تنقید کیا جاتا تھا کہ فحاشی پلا رہی ہے مگر اج کل اسلام اور پردہ پسند علاقوں میں علاقائی عورتوں نے یورپ جیسا ماحول پیدا کیا ہے جس پر علماء حق اور اسلامذہب کے پیروکاروں سمیت انتظامیہ نے مکمل خاموشی اختیار کرلیا ہے جو قابل تشویش ہے۔مقامی بازاروں میں مردوں کے جگہ انکے خواتین ہزاروں کے تعداد میں ثمرباغ، معیارو،منڈا تمرگرہ خال،کمبڑ میدان،تلاش وغیرہ میں مارکیٹوں کے اندر بند دوکانوں میں غیر مردوں سے کپڑوں، جوتوں سیمت دیگر سامانوں کی خریداریوں میں مصروف رہتے ہے جو بعد میں پختون معاشرے کیلئے کسی بھی ناخوش گہوار واقع کا سبب بن سکتے ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -