کورونا کے معاشی اثرات،ہزاروں کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ، بحران کب تک جا ری رہے گا؟برطانوی ماہرین نے رپورٹ جاری کردی

کورونا کے معاشی اثرات،ہزاروں کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ، بحران کب تک جا ...
کورونا کے معاشی اثرات،ہزاروں کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ، بحران کب تک جا ری رہے گا؟برطانوی ماہرین نے رپورٹ جاری کردی

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)معاشی ماہرین کاکہنا ہے کہ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے شدید ترین مالی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وبا اور کئی کئی ہفتوں کے لاک ڈاون سے ہزاروں کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔اور یہ بحران آئندہ اٹھارہ ماہ یعنی ڈیڑھ سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا کے نتیجے میں معاشی بحران پر ورلڈاکنامک فورم نے 347 ماہرین سے رائد لی ہے۔ ان ماہرین کی جانب سے دیئے گئے ردعمل سے پریشان کن اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ماہرین کی رائے ہے کہ معاشی بحران کم ازکم 18 ماہ موجود رہے گا۔ ماہرین میں سے دو تہائی کی رائے کے مطابق ہزاروں کمپنیاں دیوالیہ ہوجائیں گی جبکہ کئی صنعتیں بحالی میں ناکام رہیں گی ۔معاشی ماہرین  کے مطابق اس بحران نے زندگیاں اورروزگار تباہ کردیئے جبکہ  ماضی کی کوتاہیاں کھل کرسامنے آگئیں۔

خیال رہے دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 48 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں جبکہ اس کے بعد برطانیہ میں ہوئی ہیں۔

دنیا بھرکےسائنسدان اس موذی وائرس کے علا ج کیلئے سرتوڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔برطانیہ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے سائسندانوں کو 84 ملین پاؤنڈ کے فنڈز فراہم کرے گی۔ 

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان نے کہا ہے کہ بچے بظاہر کووِڈ 19 سے شدید بیمار نہیں پڑ رہے اور لگتا ہے کہ اگر بچوں کو انفیکشن ہو بھی جائے تو ان میں اسے آگے پھیلانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -