تھوک اور پسینے سے گیند چمکانے پر پابندی کے باعث ’بال ٹمپرنگ‘ کا فریضہ کئے سونپے جانے کا امکان ہے؟ شائقین کیلئے دلچسپ خبر آ گئی

تھوک اور پسینے سے گیند چمکانے پر پابندی کے باعث ’بال ٹمپرنگ‘ کا فریضہ کئے ...
تھوک اور پسینے سے گیند چمکانے پر پابندی کے باعث ’بال ٹمپرنگ‘ کا فریضہ کئے سونپے جانے کا امکان ہے؟ شائقین کیلئے دلچسپ خبر آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس کے باعث تھوک اور پسینے پر پابندی کی وجہ سے گیند چمکانے کیلئے ’بال ٹمپرنگ‘ کی اجازت دئیے جانے کا قوی امکان ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی میچ آفیشلز کو سونپنے پر غور کیا جا رہا ہے جو اس سے قبل بال ٹمپرنگ کرنے والوں پر نظر رکھتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے آسٹریلیا میں گیند کو تھوک یا پسینے سے چمکانے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور ایسے میں بیٹ اور بال کے درمیان توازن برقرار رکھنے کیلئے مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں جبکہ گیند ساز کمپنی کوکابورا نے اسے چمکانے کیلئے ویکس بھی متعارف کرا دی۔ عام طور پر گیند کو کسی بھی مصنوعی چیز سے چمکانا بال ٹمپرنگ کے زمرے میں آتا ہے لیکن اب نہ صرف گیند کو ویکس سے چمکایا جائے گا بلکہ یہ کام امپائرز سے ہی لیا جا سکتا ہے۔

ایک تجویز یہ بھی تھی کہ پلیئرز امپائرز کی نگرانی میں گیند کو چمکائیں تاہم آسٹریلوی علاقے ڈارون میں امپائرز ہی گیند کو چمکائیں گے، ڈارون کرکٹ نے 6 جون سے ہی اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، منیجنگ ڈائریکٹر لاچلین بیئرڈ نے کہاکہ تھوک اور پسینے پر پابندی کی صورت میں متبادل راستوں کی تلاش کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اپنے تمام ممبر بورڈز سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، ویکس ایک ایسا طریقہ ہے جس میں امپائرز کو بھی شامل ہونا پڑے گا اور ان سب چیزوں پر اس وقت غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ٹاپ لیول کرکٹ میں گیند کو چمکانے کیلئے ویکس صرف آئی سی سی کی منظوری کے بعد ہی استعمال کی جا سکے گی۔ بیئرڈ نے کہاکہ تھوک کے استعمال پر پابندی درست قدم ہے، اگر آپ موجودہ دور میں کرکٹ ایجاد کرتے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس انداز میں گیند کو چمکانا کھیل کا حصہ ہوتا، بہرحال ہمیں توقع ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے کرکٹ آسٹریلیا سے واضح گائیڈ لائن حاصل کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا ہے۔

مزید :

کھیل -