مکڈونلڈز میں ملازمین کو سیکس کے لیے مجبور کیے جانے کے انکشافات،مقدمہ دائرکردیاگیا

مکڈونلڈز میں ملازمین کو سیکس کے لیے مجبور کیے جانے کے انکشافات،مقدمہ ...
مکڈونلڈز میں ملازمین کو سیکس کے لیے مجبور کیے جانے کے انکشافات،مقدمہ دائرکردیاگیا

  

دی ہیگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرمیں فاسٹ فوڈزکی مقبول ترین چین میکڈونلڈز کے حوالے سے انتہائی تشویشناک الزامات سامنے آگئے ہیں۔  اور اس ریسٹورنٹ کے خلاف نیدرلینڈ میں ایک عالمی ادارے میں مقدمہ بھی دائر کردیا گیاہے۔مزدوروں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ میکڈونلڈ ز کے ملازمین میں جنسی زیادتیاں ، ریپ اور سیکس کیلئےمجبور کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں مقبول امریکی فوڈ چین کمپنی مکڈونلڈز پر مزدوروں کی ایک عالمی تنظیم نے جنسی ہراسانی، ریپ اور جنسی تعلقات کو بطور کلچر اختیار کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کردیا۔

اگرچہ میکڈونلڈز کے خلاف کھانا انتہائی مہنگا بیچنے، ملازمین سے نامناسب سلوک،ہراسانی یا صنفی امتیازجیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں تاہم پہلی بار میکڈونلڈپر اس قسم کے الزامات لگائے گئے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ملازمین کے ساتھ یہ نارواسلوک کیاجارہاہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوڈ ورکرز کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل یونین آف فوڈ ورکرز (آئی یو ایف) نے مکڈونلڈز کے خلاف یورپی ملک نیدر لینڈ میں واقع ایک عالمی ادارے کے دفتر میں تحریری شکایت درج کروادی۔

مزدوروں کی عالمی تنظیم نے نیدرلینڈ میں واقع آرگنائزیشن فار اکانامک کو آپریشن اینڈ ڈیویلپمینٹ (او ای سی ڈی) کے دفتر میں مکڈونلڈز کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں مزدوروں کی تنظیم ے فوڈ چین ریسٹورنٹس کمپنی پر سنگین الزامات عائد کیے۔

رپورٹ کے مطابق مزدوروں کی عالمی تنظیم کی جانب سے مکڈونلڈز کے خلاف دائر کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مکڈونلڈز ریسٹورنسٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو جنسی بنیادوں پر تضحیک کا نشانہ بنانے سمیت انہیں نہ صرف ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ انہیں جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی مزدور تنظیم نے مکڈونلڈز کے خلاف دائر درخواست میں تحریری ثبوت بھی پیش کیے اور بتایا کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، برازیل، چلی، کمبوڈیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک میں موجود مکڈونلڈز کے ریسٹورنٹس میں نوجوان اور کم عمر ملازمین کو جنسی ہراسانی، جنسی تفریق اور ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مزدوروں کی تنظیم کے مطابق مکڈونلڈز ریسٹورنٹس میں ریپ کو پروان چڑھانے، جنسی ہراسانی یا پھر ملازمین کو جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے مجبور کرنے جیسے عوامل کمپنی کا حصہ بن چکے ہیں اور وہاں پر ان چیزوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مکڈونلڈز انتظامیہ نے کام کی جگہ پر ملازمین کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے اور پوری دنیا میں فوڈ چین ریسٹورنٹس میں ملازمین کا استحصال جاری ہے، انہیں صنفی تفریق کا نشانہ بنانے سمیت انہیں مارا پیٹا اور ہراساں کیا جاتا ہے۔

مزدوروں کی عالمی تنظیم نے اپنی شکایت میں فرانس کے ایک مکڈونلڈ ریسٹورنٹ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہاں کے مینیجر نے خواتین ملازمین کے کپڑے تبدیل کرنے والے کمرے میں خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے۔

اسی طرح شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد ممالک میں ملازمین نے جب اپنے ساتھ ہونے والے جنسی و صنفی استحصال کی شکایت اعلیٰ عہدیداروں سے کی تو ان کا مذاق اڑایا گیا یا پھر انہیں ہی سزا کے طور پر ملازمت سے برطرف کرنے سمیت ان کی ڈیوٹی مختصر کردی گئی۔

دوسری جانب میکڈونلڈ نے ان تمام الزامات کومسترد کردیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -بزنس -