17 سال قبل سارس وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض کے خون کا معائنہ، سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کی اُمید پیدا ہوگئی

17 سال قبل سارس وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض کے خون کا معائنہ، سائنسدانوں ...
17 سال قبل سارس وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض کے خون کا معائنہ، سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کی اُمید پیدا ہوگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کا راستہ روکنے والی ایک اور اینٹی باڈی کا سراغ لگا لیا۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف واشنگٹن سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں سارس کا شکار ہونے والے ایک مریض کا خون لے کر اس میں موجود اینٹی باڈیز پر تحقیق کی۔ اس آدمی کو 17سال قبل پھیلنے والی وبائی بیماری سارس لاحق ہوئی تھی اور اس کے خلاف لڑنے والی اینٹی باڈیز تاحال اس کے خون میں موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق سارس نامی وباءبھی کورونا وائرس کی ایک قسم کی وجہ سے پھیلی تھی چنانچہ سائنسدانوں نے اس مریض کے خون پر تجربات کیے جن میں ’ایس 309‘ نامی اینٹی باڈی کا پتہ چلا جو حالیہ پھیلی ہوئی کورونا وائرس کی قسم کے خلاف بھی مو¿ثر ثابت ہوئی۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”تجربات میں ثابت ہوا ہے کہ سارس کے صحت مند ہونے والے مریض کے جسم میں پائی جانے والی یہ اینٹی باڈی کوروناوائرس کو انسان کے خلیوں میں داخل ہونے سے مکمل طور پر روک دیتی ہے اور اسے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ یہ دراصل اس پروٹین کو ’ڈس ایبل‘ کرتی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے کورونا وائرس انسانی خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -