دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سب سے بڑے اسلامی ملک میں کھانے کے لیے چمگادڑوں کی فروخت دوبارہ شروع

دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سب سے بڑے اسلامی ملک میں کھانے کے لیے ...
دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سب سے بڑے اسلامی ملک میں کھانے کے لیے چمگادڑوں کی فروخت دوبارہ شروع

  

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے متعلق تو اب جسے معلوم نہیں تھا وہ بھی جان گیا ہے کہ وہاں لوگ چمگادڑیں، سانپ اور نجانے کیا کچھ کھاتے ہیں لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیاءمیں بھی لوگ چمگادڑیں اور دیگر جنگلی جانور کھاتے ہیں۔ کورونا وائرس پھیلنے پر باقی ممالک کی طرح انڈونیشیاءمیں بھی ان جانوروں کے گوشت کی فروخت بند کر دی گئی تھی لیکن ابھی کورونا وائرس جوں کا توں ہے بلکہ پہلے سے زیادہ پھیل رہا ہے اور انڈونیشیاءمیں چمگادڑیوں، سانپوں، چوہوں، چھپکلیوں اور دیگر جانوروں کے گوشت کی مارکیٹس کھول دی گئی ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈونیشیاءمیں ایک توہومون مارکیٹ ہے جو ملک کی جنگلی جانوروں کے گوشت کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ووہان میں جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے سے جو کچھ ہوا، انڈونیشیاءنے اس سے سبق نہیں سیکھا اور چند روز توہومون مارکیٹ بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ یہاں آوارہ کتے اور بلیوں کے ساتھ لوگوں کے پالتو کتے اور بلیاں بھی چوری کر کے لائے جاتے اور کاٹ کر ان کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -