حکومت کی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی انتشار وافتراق کا خطرہ،اہل حدیث جماعتوں نے حکومتی پابندیوں کو مسترد کردیا

حکومت کی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی انتشار وافتراق کا ...

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر کی اہل حدیث جماعتوں نے جمعۃ الوداع اور عید کے اجتماعات پر کسی بھی قسم کی پابندی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علماء کرام پر بلاجواز مقدمات اور گرفتاریاں قابل تشویش ہیں، حکومت کی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی انتشار وافتراق کا خطرہ ہے

ی جماعتوں کا اہم اجلاس حافظ عبدالغفار روپڑی امیرجماعت اہلحدیث پاکستان کی زیرصدارت جامع القدس چوک دالگراں لاہور میںمنعقد ہواجس میں علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیرچیف آرگنائزر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان، پروفیسر میاں عبدالمجید ناظم اعلیٰ جماعت اہلحدیث پاکستان، علامہ زبیراحمدظہیر سربراہ اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان، علامہ سید ضیاءاللہ شاہ بخاری امیرمتحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان، ملک عبدالرئوف ملک صدرمتحدہ علماءکونسل پاکستان، پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی، حافظ محمد ذوالفقاراحمد رہنماتحریک دعوت توحید ، مولانا محموداحمد قاسمی سربراہ جمعیت علمائے پاکستان،مولاناشکیل الرحمان ناصر،سیدمحمودغزنوی، مولانا زاہدمحمود ہاشمی امیر جماعت غرباء اہلحدیث پنجاب، مولانا شاہدمحمودجانبازو دیگرشخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جمعۃ الوداع کے بھرپور طریقے سے اور عید کے اجتماعات سنت نبویﷺ کے مطابق کھلے میدانوں میں پورے تزک واحتشام سے منعقد ہوں گے ان پر کسی قسم کی کوئی بھی پابندی قابل قبول نہیں۔ حکومت کی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی انتشار وافتراق کا خطرہ ہے ۔ حکمرانوں نے کرونا وائرس کی آڑ میں مساجد، مدارس اور عبادت گاہیں بند کرکے اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہےحالانکہ دینی جماعتوں اور علماء نے حکومت کا ہر سطح پر ساتھ دیالیکن اس کے باوجود علماء کرام پر بلاجواز مقدمات اور گرفتاریاں قابل تشویش ہیں ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کو عزیز رکھا امن کی خاطر عوام میں شعور پیدا کیا لیکن حکومت اس کو ہماری کمزوری سمجھتی ہے ہمیں ایس او پیز کی آڑ میں نمازوں، عبادات اور اعتکاف سے روکا گیااور ایک مذہبی طبقے کو کھلے عام اجتماعات اور جلوس کی اجازت دی جن میں ایس او پیز اور ضابطوں کو حکومت کی سرپرستی میں پامال کیا گیا۔اس موقع پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جانبداری کا مظاہرہ کرکے مذہبی طبقات کے نیک جذبات کو مجروح کیا ان حکومتی رویوں نے مذہبی اور مسلکی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جوقابل مذمت ہے۔ اہل سنت کی تمام دینی جماعتوں نے عوام سے کہا کہ احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے جمعۃ الوداع اور عید کے اجتماعات کھلے میدانوں میں بھرپور طریقے سے منعقد کیے جائیں۔اجلاس میں بھارت کی انتہاءپسندانہ عزائم کی بھرپور مذمت کی گئی کیونکہ بھارت ایل او سی پر حملے کرکے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم کو چھپانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔ نیزاجلاس میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحمیدہزارویؒ،پروفیسر حافظ ثناءاللہ خاںؒ ،قاری محمد ادریس العاصم کی اہلیہ اور رانا نصراللہ کے والدمحترم کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -