فلسطین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں 

فلسطین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں 
فلسطین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں 

  

پچھلے ایک ہفتے سے نہتے فلسطینیوں پر قابض یہودی فورسز کے ظلم و تعدّی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں لیکن افسوس کہ اقوام متحدہ اپنے ہی فیصلوں پرعمل درآمد نہیں کرا سکتی ہے۔امریکی حکومت کا رویہ بھی اب کھل کر سامنے آ گیا ہے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت کی بدولت سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم بھی صیہونی جارحیت رکوانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بڑی دلیری سے اعلان کیا ہے کہ ہم جب تک چاہیں گے حملے جاری رکھیں گے۔اتوار کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بعض رکن ممالک نے اپنی اپنی تقریروں میں اسرائیل کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں طاقت کے زور پر شہری آبادیوں پر بمباری اور معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرے، مگر  امریکہ بہادر نے ان مطالبات اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کو مشترکہ علامیہ میں جاری نہیں ہونے دیا، جس سے بائیڈن انتظامیہ کی ہیومن رائٹس کے تحفظ کے بارے میں اپنی انتخابی مہم کے دوران لگائے گئے نعرے کا پول بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نماز کی ادائیگی کے وقت فلسطینیوں پرحملے کئے گئے، ظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے خواتین اور بچوں کی تمیز بھی ختم کر دی گئی ہے۔ سب کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے، ہر طرف موت ہے، ہرطرف خون ہے۔ بچے موت کے ڈر سے اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں۔ فلسطینی جب سوتے ہیں تو انہیں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ وہ زندہ اٹھیں گے بھی یا نہیں۔یہ جنگ نہیں،بلکہ بربریت ہے، کیونکہ جنگ تو میدان میں آمنے سامنے ہوکر کی جاتی ہے۔ جنگ میں بھی فوجی طاقتیں آپس میں لڑتی ہیں، اس میں شہریوں یا شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، لیکن یہاں پر تو ظلم کی ایسی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لئے بہت اہم جگہ ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہودی اس پر قبضہ کرکے اسے شہید کرنا چاہتے ہیں۔ اب درحقیقت مسلمانوں کو جس چیز سے خطرہ ہے وہ یہودیوں کا چوتھا اور آخری منصوبہ ہے، جس کے لئے وہ دو ہزار سال سے بے تاب تھے،جس کی خاطر وہ نوے سال سے باقاعدہ ایک سکیم کے مطابق کام کرتے رہے ہیں۔اس منصوبے کے اہم ترین اجزا دو ہیں۔ ایک ہیکل سلیمانی پھر سے تعمیر کیا جائے،دوسرے یہ کہ اس پورے علاقے پر قبضہ کیا جائے جسے اسرائیل اپنی میراث سمجھتا ہے۔بیت المقدس کی فتح کے بعد یہودی فوج کے چیف ربی نے تورات ہاتھ میں لے کر دیوار گریہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ“ آج ہم ملت یہود کے لئے دور مسیحائی میں داخل ہو رہے ہیں۔دوسرا جز اس منصوبے کا یہ کہ ”میراث کے ملک“پر قبضہ کیا جائے۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ کی پیشانی پر یہ الفاظ کندہ ہیں،”اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں“۔دنیا میں صرف اسرائیل ہی ایسا ملک ہے، جس نے کھلم کھلا دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے کا ارادہ عین اپنی پارلیمنٹ کی عمارت پر ثبت کر رکھا ہے۔اس منصوبے کی جو تفصیل صیہونی تحریک کے شائع کردہ نقشے میں دی گئی ہے اس کی رو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریائے نیل تک مصر، اردن، شام، لبنان، عراق کا بڑا حصہ، ترکی کا جنوبی علاقہ اور جگر تھام کر سنیے مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔ اگر دنیائے عرب اسی طرح کمزور رہی جیسی آج ہے اور خدانخواستہ دنیائے اسلام کا ردعمل بھی کچھ زیادہ موثر ثابت نہ ہوسکا، تو پھر خاکم بدہن ہمیں وہ دن بھی دیکھنا پڑے گا جب یہ دشمنانِ اسلام اپنے ان ناپاک ارادوں کو پورا کرنے کے لئے پیش قدمی کر بیٹھیں۔ میں وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا کہ خالی خولی مذمت سے آگے بڑھیں۔بسم اللہ کیجئے اپنے حصے کا کام کیجئے۔اسلامی ممالک کے سربراہوں کو اکٹھا کریں۔بے بس فلسطینیوں اور کشمیری بھائیوں کی مدد میں بیان بازی سے بڑھ کر مدد کریں۔موجودہ حالات میں ترکی کے صدر طیب اردوان بازی لے گئے ہیں۔ انہوں نے زبانی کلامی مذمت نہیں کی، بلکہ سخت الفاظ میں یہودیوں کو للکارا ہے۔ قرآن پاک میں ہے کہ یہود و نصاری کو دوست مت بناؤ۔ ہمیں چاہئے کہ اسلامی دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر یہودیوں کو سخت الفاظ میں للکاریں۔ اور واضح کریں کہ فلسطینیوں کی مدد کے لئے اپنی فوجیں بھیج دیں گے۔ کیا ہم انہیں للکار بھی نہیں سکتے؟ کیا وہ ہمارا دانہ پانی چھین لے گا؟ ہمیں اللہ پر یقین رکھنا چاہئے کہ ہمارا دانہ پانی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں قراردادوں سے آگے نکل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -