فلسطینیوں کیلئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری، وفاقی کابینہ نے آئی پی پیز کو 40فیصد واجبات ادا کرنے کے فیصلے کی بھی توثیق کر دی 

فلسطینیوں کیلئے امدادی سامان بھیجنے کی منظوری، وفاقی کابینہ نے آئی پی پیز ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونیوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فلسطین کیلئے امدادی سامان بھجوانے کی منظوری دیدی گئی۔وفاقی کابینہ نے 14 نکاتی ایجنڈا پر غور کیا۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال جبکہ فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس اہم معاملے پر عالمی رہنماؤں کیساتھ ہونیوالی گفتگو پر کابینہ کو بریف کیا۔وفاقی کابینہ نے ای سی سی اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ ای سی سی نے آئی پی پیز کو 40 فیصد واجبات ادا کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ کرتارپور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استثنیٰ دینے کی اصولی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اقوام متحدہ کی چار گاڑیوں کو پاکستان کے راستے کابل لے جانے کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔کابینہ نے ریلوے پولیس کے دائرہ اختیار سے متعلقہ ایس آر اوز جاری کرنے، الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے، نجی ایئرلائن کو پیسنجر اینڈ کارگو لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی۔اجلاس کے دوران پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی، الیکٹرانک سرٹیفیکیشن ایکریڈیشن کونسل کے ارکان کی تعیناتی اور بیرون ملک پاکستانی مشنز میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی تعینات کرنے کی منظوری بھی موخر کر دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان اجلاس میں وفاقی وزیر غلام سرور پر برس پڑے اور کہا کہ رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں آپکانام نہیں تو پھر پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔شکر ہے بروقت کارروائی کی،یہ حکومت کیلئے بہت بڑا مالی سکینڈل بننے جارہا تھا۔اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہبھی کیا۔اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم نے فلسطین میں اسرائیلی بربریت سے شہید ہونے والوں کیلئے دعا کرائی۔اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزرا کی جانب سے اسرائیلی بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کی،حکومت کا غزہ کے مسلمانوں کو امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا  اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان رنگ روڈ سکینڈل پر وفاقی کابینہ میں پھٹ پڑے اور کہا کہ   پنجاب حکومت کی تحقیقات اور ٹی او آرز میرے خلاف تھے، وزیراعظم سرور خان کو چپ کرواتے رہ گئے،غلام سرور خان نے کہا کہ  ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر میرا نام لیا جا رہا تھا، جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ  آپ کو سوشل میڈیا پر ہی جواب دینا چاہئے تھا، اگر اس معاملے کی تحقیقات نہ ہوتی تو یہ بہت بڑا مالی  سکینڈل بنتا،۔وزیر اعظم کا یہ بھی موقف تھا کہ  معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام بھی سوشل میڈیا پر چل رہا تھا حالانکہ ان کے اوپر براہ راست کوئی الزام نہیں تھا لیکن انہوں نے استعفا دے کر اچھی مثال قائم کی تا کہ وہ تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں،ماضی میں بھی آپ نے دیکھا کہ بابر اعوان،علیم خان،سبطین خان پر الزامات لگے تو انہوں نے استعفا دیا اور خود کو کلیئر کروایا اور دوبارہ کابینہ میں آئے۔آپ پر  تو براہ راست کوئی الزام نہیں تو پھر پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت تھی،اگر کرنا ہی تھی تو پھر استعفا دیکر کرتے ،جس پر غلام سرور نے کہا کہ وہ اب بھی استعفا دینے کو تیار ہیں لیکن اس سارے معاملے کو غلط ہینڈل کیا گیا جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ ایک بات واضح ہے کہ احتساب کے معاملے پر کسی کو کوئی رعایت دینے والا نہیں ہوں جس نے کرپشن کی اور سکینڈل میں ملوث پایا گیا تو پھر وہ نہیں بچے گا اگر جہانگیر ترین جیسا شخص میرا قریبی دوست اور پارٹی کا سینئر رہنما تحقیقات کا سامنا کررہاہے تو سب کو کرنا پڑے گا  کیونکہ وہ شفافیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اجلاس کے بعد  صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کی بنیاد رکھی، اب وزیراعظم عمران خان اس کے امین ہیں وفاقی کابینہ نے اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینیوں کو درپیش طبی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں فلسطین کو انسانی بنیادوں پر طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے مسئلے پر روز اول سے امت مسلمہ کو قیادت فراہم کی ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ کابینہ کو راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے منصوبے میں تبدیلی کی گئی۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ کوئی وزیر یا مشیر اس میں ملوث نہیں ہے۔ زلفی بخاری اعلیٰ اخلاقی بنیاد پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہو گئے، اگرچہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خان کی بھی اس علاقے میں کوئی زمین نہیں ہے۔وزیر اطلاعات نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ حکومت انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کی غرض سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز متعارف کرانے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حزب اختلاف انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کا حق دینے کے حوالے سے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جب راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 2017 میں بنا تھا، اس کا مقصد راولپنڈی میں بھاری ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا تھا تاہم اس کو اٹک رنگ روڈ منصوبہ بنادیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو کسی نامعلوم انجینئر کا فون آیا اور منصوبے میں خرابی سے متعلق بتایا، رنگ روڈ کا معاملہ سامنے آیا تو وزیر اعظم نے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ (ن) لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تو انکوائری ہی نہ کراتی، یہ عمران خان ہیں جو دلیرانہ فیصلے لیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اسکینڈل اربوں روپے کی کرپشن کا نہیں بلکہ وزیر اعظم نے اس منصوبے پر اربوں روپے کی کرپشن روک دی۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کے حکم پر تحقیقات کرائی گئی، ابتدائی تحقیقات میں کوئی حکومتی وزیر اور مشیر اس اسکینڈل میں ملوث نہیں، رپورٹ میں زلفی بخاری یا غلام سرور کا کوئی تذکرہ نہیں، زلفی بخاری نے ذاتی طور پر منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں،شفاف انتخابات کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز ضروری ہیں،قومی اسمبلی میں پیر کے دن سے الیکشن اصلاحات سے متعلق بحث کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈار 2018 میں سینیٹر بنے لیکن آج تک حلف نہیں اٹھایا، ایسا قانون لارہے ہیں کہ اگر 6 ماہ میں حلف نہیں اٹھائیں تو رکنیت منسوخ ہوگی

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -