پیسے کی فصل کاٹنے کیلئے پہلے ”خدمت“ کا بیج بونا ہو گا۔ خدمت کو اپنا شعار بنایئے

پیسے کی فصل کاٹنے کیلئے پہلے ”خدمت“ کا بیج بونا ہو گا۔ خدمت کو اپنا شعار ...
پیسے کی فصل کاٹنے کیلئے پہلے ”خدمت“ کا بیج بونا ہو گا۔ خدمت کو اپنا شعار بنایئے

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:72

پیسہ ایسی چیز ہے جس کی ہر کوئی خواہش کرتا ہے۔ بہت سے لوگ پیسہ حاصل کرنے کیلئے پرانے طریقوں کو استعمال کرتے ہیں لیکن وہ پیسہ نہیں کما سکتے۔ آپ نے ہرکہیں دیکھا ہو گا لوگ پیسے کے متعلق کیسا رویہ رکھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ لوگ بہت کم پیسہ کما پاتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جب تک بیج نہ بویا جائے فصل نہیں ہو گی۔

پیسے کی فصل کاٹنے کیلئے پہلے ”خدمت“ کا بیج بونا ہو گا۔ پہلے خدمت کو اپنا شعار بنایئے تب پیسہ حاصل ہو گا۔

میں کار میں دوسرے شہر جا رہا تھا، میری کار کا پٹرول ختم ہونے کو تھا، میں ایک پٹرول پمپ پر رکا۔ یہ پٹرول پمپ دیکھنے میں عام سا تھالیکن وہاں پٹرول ڈالونے والی کاروں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ کچھ دیر کے بعد میری باری آئی تو تب مجھے پتہ چلا کہ یہ پٹرول پمپ اتنا مقبول کیوں ہے؟ میری کار میں جب پٹرول ڈالا جا چکا تو ایک ملازم نے میری کار کو صاف کرنا شروع کر دیا۔ اس نے کار کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد مجھ سے کہا: جناب میں آپ کی کارکو اندر سے بھی صاف کرنا چاہتا ہوں، آج کا دن کچھ گردآلود ہے۔ اس نے فوراً ہی میری کار کو اندر سے بھی بالکل صاف ستھرا کر دیا۔

اس خاص قسم کی خدمت نے مجھے بہت متاثر کیا او رپھریہ پٹرول پمپ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔ میں اسی راستے سے تقریباً 8 مرتبہ گزرا ہوں اور وہاں سے ہی پٹرول ڈلواتا ہوں۔ اسی پٹرول پمپ سے مجھے ہمیشہ ہی اچھی سروس ملی ہے۔ اسی خدمت کی وجہ سے یہ پٹرول پمپ صحرا میں ہونے کے باوجود بہت زیادہ کما رہا ہے۔ دراصل پہلی دفعہ جب ملازم نے میری کا رکی صفائی کی تھی تو اس نے اسی وقت خدمت کا بیج بو دیا تھا۔

”پہلے خدمت کو اپنا شعار بنایئے پھر ہمیشہ کیلئے پیسہ کمایئے۔“

”خدمت کا جذبہ ہر حالات میں آپ کی مدد کرتا ہے۔“

میرے ساتھ ایک صاحب کام کیا کرتے تھے، ان کا نام ایف ایچ تھا۔ وہ عام سے لوگوں کی طرح تھا۔وہ پیسہ کمانے کے طریقوں کو اپنانے کی بجائے کہا کرتا تھا کہ اسے رقم کی شدید ضرورت ہے۔ اس کا پسندیدہ موضوع ہوتا تھا کہ وہ اس کمپنی میں سب سے کم تنخواہ لیتا ہے۔ اس کا کہنا تھا آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کا رویہ بھی عجیب تھا وہ کہتا یہ ایک بڑی کمپنی ہے، ا س کا کروڑوں کا کاروبار ہے، یہ اپنے ملازموں کو بڑی بڑی رقمیں تنخواہ کے طور پر دیتی ہے۔ اس لیے کمپنی کو چاہیے کہ مجھے بھی بہت زیادہ تنخواہ دے۔

وہ اپنی تنخواہ کے بارے میں بہت دفعہ میرے ساتھ گفتگو کر چکا تھا۔ ایک دن وہ اپنی تنخواہ بڑھوانے کیلئے کمپنی کے اعلیٰ افسر کے پاس گیا۔ جب وہ آدھ گھنٹے بعد واپس آیا تو بہت تلخ ہو رہا تھا جس سے معلوم ہوا کہ اس کی تنخواہ نہیں بڑھی۔

اس نے مجھ سے پوچھا: اے نوجوان مجھے بتاﺅ کیا میں پاگل ہوں؟ جب میں نے افسر سے کہا کہ میری تنخواہ بڑھاﺅ! تو اس نے مجھ سے کہا کیا تم ایمانداری سے یقین رکھتے ہو کہ تمہاری تنخواہ بڑھنی چاہیے؟

میں نے ایف ایچ کو کئی وجوہات بتائیں کہ آپ کی تنخواہ تب بڑھے گی جب سب لوگوں کی تنخواہ بڑھے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ دوسرے لوگوں کو زیادہ تنخواہ کیوں دی جاتی ہے جبکہ مجھے پیسوں کی ان سے بھی زیادہ ضرورت ہے؟ جبکہ ان لوگوں کا کہناہے کہ میری تنخواہ اس وقت بڑھے گی جب میری کارکردگی بہتر ہو گی، آخر میری کارکردگی میں کیا نقص ہے؟ جب میری تنخواہ بڑھے گی تو میں بہتر کام کروں گا۔ دراصل ایف اےچ بے چارہ ان لوگوں جیسا ہی اندھا تھا جو نہیں جانتے کہ رقم کیسے کمائی جاتی ہے؟ ایف ایچ کا کہنا تھاکہ کمپنی اسے زیادہ تنخواہ دے تو پھر وہ بہتر کام کرے گا یہی اس کی غلطی تھی۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ نظام کس طرح کام کرتا ہے؟ آپ بہتر کارکردگی کے وعدے پر اچھی تنخواہ نہیں لے سکتے بلکہ پہلے کارکردگی بہتر کریں پھر اچھی تنخواہ پائیں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -