ارکاٹ کا محاصرہ اور فرانسیسیوں کا زوال

ارکاٹ کا محاصرہ اور فرانسیسیوں کا زوال
ارکاٹ کا محاصرہ اور فرانسیسیوں کا زوال

  

xمصنف : ای مارسڈن 

 ڈوپلے کی مراد پوری ہوئی۔ نئے نظام نے فرانسیسیوں کو مشرقی ساحل پر شمالی سرکار کا علاقہ عطا کیا۔ خود ڈوپلے کو کرناٹک کا گورنر بنایا۔ ڈوپلے کے ماتحت چندا صاحب کو وہاں کا نواب مقرر کیا۔ چندا صاحب نے بھی فرانسیسیوں کو کرناٹک کا ایک بڑا علاقہ اور بہت سا نقد روپیہ نذر کیا۔

 چندا صاحب اور فرانسیسیوں نے محمد علی کو ترچنا پلی میں محصور رکھا تھا۔ اس نے انگریزوں سے راہ رسم شروع کی اور مدد کی درخواست کی۔ انگریز گورنر کے پاس اتنا سامان نہ تھا کہ اپنے دونوں قلعوں کی حفاظت بھی کرتا اور ترچنا پلی سے فرانسیسیوں کا محاصرہ بھی اٹھاتا۔ پس اس نے تھوڑی سی سپاہ، ہتھیار اور سامان رسد محمد علی کے پاس روانہ کی اور ایک خط اس کے نام بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ ”آخر تک مقابلے پر جمے رہو اور میرے اوپر بھروسہ رکھو میں اور کمک بھیجتا ہوں۔“ کلائیو اس سپاہ کے ساتھ تھا۔ یہ ایسی دلاوری کے ساتھ لڑتا بھڑتا ترچنا پلی کے اندر گیا اور وہاں سے واپس نکلا کہ اس کے صلے میں اسے کپتانی کا عہدہ مل گیا۔

 کلائیو نے مدراس پہنچ کر گورنر سے ذکر کیا کہ محمد علی کا حال بہت خستہ ہے اور اب وہ زیادہ مقابلہ نہ کر سکے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ فرانسیسیوں کی فوج کچھ ترچنا پلی میں ہے، کچھ پانڈے چری میں، کچھ بُسی کے ساتھ دور و دراز حیدر آباد میں پڑی ہے۔ کرناٹک کے پایہ تخت ارکاٹ میں اتنی فوج نہیں ہے کہ وہ اس کی حفاظت کر سکے۔ میں چاہتا ہوں کہ ارکاٹ جاﺅں اور اسے فتح کرنے کی کوشش کروں۔ اگر یہ تدبیر چل گئی تو چندا صاحب ترچنا پلی چھوڑ کر ارکاٹ لینے کے لیے آئے گا اور اس صورت میں محمد علی کی خلاصی ہو جائے گی۔

 گورنر کو کپتان کلائیو کی صلاح پسند آئی اور اس نے تجویز منظور کر لی۔ صرف 200گورے اور 300 ہندوستانی سپاہی تھے جو کلائیو کے ساتھ جا سکتے تھے اور وہ بھی بالکل ناتربیت یافتہ جن میں سے اکثروں نے کبھی لڑائی کا نقشہ تک بھی نہ دیکھا تھا۔ لیکن کلائیو نے ان ہی کو غنیمت جانا۔ مدراس سے ارکاٹ کی طرف کوچ کرتا جاتا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ان کو قواعد وغیرہ سکھاتا جاتا تھا۔ کلائیو کو6 دن سفر میں لگے لیکن جس وقت وہ شہر میں ایک دروازے سے داخل ہوا۔ اسی وقت چندا صاحب کی سپاہ دوسرے دروازے سے بھاگ گئی۔

 چندا صاحب نے جو سنا کہ دارالخلافہ ہاتھ سے جاتا رہا تو اس نے جیسا کہ کلائیو کا خیال تھا۔ 10 ہزار سپاہی دے کر اپنے بیٹے رضا صاحب کو مع کچھ فرانسیسی فوج کے ارکاٹ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ انگریزوں کے قبضے سے اسے چھڑا لے۔ 50 دن تک اس فوج نے ارکاٹ میں کلائیو اور اس کے سپاہیوں کو گھیرے رکھا اور قلعہ لینے کے لیے بڑا زور مارا مگر ایک پیش نہ گئی۔

 جب تقریباً 2 مہینے گزر گئے تو مدراس کے گورنر نے کلائیو کی مدد کے لیے کچھ فوج بھیجی۔ رضا صاحب نے بھی سنا کہ کلائیو کے لیے کمک آئی ہے ۔ اس نے سنبھل کر پھر حملہ کیا کہ اس بار قلعے کو لے ہی لے مگر اس کے 400 آدمی مارے گئے اور اسے پسپا ہونا پڑا۔ اب اس کا دل ٹوٹ گیا اپنی بچی کھچی فوج لے کر ارکاٹ سے چلا گیا کیونکہ اسے یہ بھی اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ایک طرف سے کلائیو اپنی سپاہ لے کر قلعے سے نکلے اور دوسری طرف سے انگریزوں کی کمک آ پہنچے اور وہ دونوں کے بیچ میں گِھر جائے۔

 ارکاٹ کا محاصرہ مشہور ہے۔ اس کی تاریخ 1751ءہے۔ یہاں سے دکن میں انگریزوں کی سرگزشت کا رنگ پلٹا ہے۔ اب انگریزوں نے زور پکڑنا شروع کیا اور فرانسیسیوں کا زوال ہونے لگا۔ میجر لارنس اور کلائیو ترچنا پلی پر چڑھے چلے گئے۔ بڑی سخت لڑائی ہوئی۔ فرانسیسیوں کو شکست ہوئی اور وہ قید ہو گئے۔ ترچنا پلی انگریزوں کے ہاتھ آئی اور انہوں نے اپنے دوست محمد علی کو کرناٹک کا نواب بنایا۔ چندا صاحب بھاگ کر تبخور پہنچا اور وہاں کے مرہٹہ راجہ کے حکم سے قتل کیا گیا۔

 اس کے بعد کپتان کلائیو ولایت گیا، وجہ یہ تھی کہ سخت محنت کے سبب بہت بیمار ہو گیا تھا۔ شاہ انگلینڈ نے بطور اعزاز اس کو اپنی فوج میں کرنیلی کا عہدہ عطا کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک تلوار قیمتی 500پونڈ جس کے قبضے میں ہیرے جڑے ہوئے تھے نذر کی۔ کلائیو شہرت اور دولت سے مالا مال ہو گیا اور انگریز اسے شیرارکاٹ کہنے لگے۔

 اب انگریز اور فرانسیسی کمپنیوں نے فرمان جاری کیے کہ طرفین کے ملازم آئندہ آپس میں نہ لڑیں۔ ڈوپلے فرانس میں واپس بلا لیا گیا اور صلح ہو گئی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -