انٹر بینک میں ڈالر کاروبار کے اختتام پر مہنگا لیکن گزشتہ حکومتوں میں ڈالر کی صورتحال کیا رہی ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں 

انٹر بینک میں ڈالر کاروبار کے اختتام پر مہنگا لیکن گزشتہ حکومتوں میں ڈالر کی ...
انٹر بینک میں ڈالر کاروبار کے اختتام پر مہنگا لیکن گزشتہ حکومتوں میں ڈالر کی صورتحال کیا رہی ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد ڈالر 200 روپے کی سطح کو عبور کر گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 61 پیسے اضافہ ہواجس کے بعد ڈالر 200 روپے کی سطح پر پہنچ کر بند ہو گیا ۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 201.50 وپے پر فروخت ہو رہاہے ۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ڈالر کی قدر میں 15 فیصد کمی ہوئی ، ڈالر مجموعی طور پر 9 روپے 43 پیسے مہنگا ہوا، 12 اکتوبر 1999 کو ڈالر 51 روپے 75 پیسے پر تھا جبکہ 15 نومبر 2007 کو ڈالر 61 روپے 18 پیسے پر بند ہوا ۔

ن لیگ کے دور حکومت میں روپے کی قدر میں 15 فیصد یعنی 17 روپے 10 پیسے کمی ہوئی ، 5 جون 2013 کو ڈالر 98 روپے 51 پیسے پر تھا ، جو کہ یکم جون 2018 کو بڑھ کر 115 روپے 61 پیسے پر بند ہوا۔

عمران خان کے دور حکومت میں روپے کی قدر میں 33 فیصدکمی ہوئی ، پی ٹی آئی دور میں روپے کی قدر میں 60 روپے 28 پیسے کمی واقع ہوئی ، ڈالر 18 اگست 2018 کو 124 روپے 4 پیسے پر تھا ، جبکہ 10 اپریل 2022 کو ڈالر کی قیمت 184.68 روپے تک پہنچ چکی تھی ۔

شہبازشریف کے دور میں روپے کی قدر میں 8.5 فیصد کمی ہوئی ، وزیراعظم شہبازشریف کے دور میں ڈالر مجموعی طور پر اب تک 17 روپے 8 پیسے مہنگا ہو چکاہے ، 11 اپریل 2022 کو ڈالر 182 روپے 92 پیسے پر تھا جو کہ 19 مئی 2022 تک ڈالر 200 روپے کی سطح عبور کر چکاہے ۔

مزید :

بزنس -