موت کے بعد کی زندگی،سائنسدانوں نے پانچ مراحل کا دعویٰ کردیا

موت کے بعد کی زندگی،سائنسدانوں نے پانچ مراحل کا دعویٰ کردیا
موت کے بعد کی زندگی،سائنسدانوں نے پانچ مراحل کا دعویٰ کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) موت کے بعد کی زندگی ایک ایسا موضوع ہے جو نوع انسان کی ابتداءسے شروع ہوا ہے اور غالباً قیامت تک اس پر بحث جاری رہے گی۔ موت اور اس کے بعد کی زندگی کے متعلق ہر دور میں کچھ دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ اب ایسے ہی کچھ دعوے ڈاکٹرز اور سائنسی ماہرین کی طرف سے بھی سامنے آئے ہیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ڈاکٹر کیتھرین مینیکس، جو ’دی اینڈ اِن مائنڈ‘ نامی کتاب کی مصنف ہیں، نے بی بی سی آئیڈیاز کی ایک ڈاکومنٹری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”میرے خیال میں موت اتنی بری چیز نہیں ہے جتنا لوگ اس کے بارے میں خیال کرتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ موت محض ایک پراسیس کا نام ہے۔ موت بھی پیدائش ہی کے جیسا ایک عمل ہے۔“

ڈاکٹر تھامس فلیش مین نے ڈاکومنٹری میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”موت کے پانچ مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مریض میں ایک اچانک تبدیلی آتی ہے اور اس کی تمام تکالیف، دکھ اور پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ بہت پرسکون ہو جاتا ہے۔ بعض مریض اس مرحلے میں پہلے سے زیادہ خوش ہونے کے متعلق بھی بتاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں مریض خود کو اپنے جسم سے باہر نکلتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے جیسے وہ اپنے جسم سے الگ ہو کر اس کے اوپر ہوا میں معلق ہو چکا ہو۔ ایسی حالت میں وہ اپنے جسم کو نیچے سٹریچر وغیرہ پر پڑے ہوئے دیکھتا بھی ہے۔ “

2ہزار مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھنے اور موت سے قبل ان سے سوالات کرنے والے ڈاکٹر فلیش مین نے کہا کہ ”تیسرے مرحلے میں 98سے 99فیصد لوگ بہت پرسکون ہوتے ہیں، صرف ایک سے 2فیصد لوگ بتاتے ہیں کہ انہیں خوفناک آوازیں سنائی دے رہی ہیں یا ہولناک بدبو محسوس کر رہے ہیں یا وحشت زدہ کر دینے والی مخلوقات دیکھ رہے ہیں۔“

ڈاکٹر فلیش مین نے بتایا کہ ”چوتھے مرحلے میں مریض ایک روشنی دیکھنے کے متعلق بتاتے ہیں، ایک ایسی روشنی جو ایک انتہائی تاریک ماحول میں چمکنی شروع ہوتی ہے، مریض بتاتے ہیں کہ یہ روشنی بہت گرم، بہت روشن اور بہت پرکشش ہوتی ہے۔ موت کے قریب جا کر واپس آنے والے 10فیصد لوگوں نے مجھے بتایا کہ انہیں موت کے ان لمحات میں اپنے اردگرد انتہائی خوبصورت ماحول، خوبصورت رنگ، خوبصورت موسیقی اور غیرمشروط محبت کا احساس ہوا۔ یہ موت کا پانچواں مرحلہ ہوتا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -