پاکستان میں قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت

پاکستان میں قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت
پاکستان میں قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت
سورس: RawPixel

  

پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف  کی فراہمی کا نظام بےحد تضادات کا شکار ہے۰ موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر ، کرپشن ، جانبداری، غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے۔‏ تاثر یہ بھی ہے کہ گزشتہ سالوں میں بین الاقومی رینکنگ میں عدلیہ کی کارکردگی اور ساکھ انڈیکس میں نیچے آئی ہے۔ اس پر فل کورٹ ریفرنس بنتا ہے تاکہ عام سائل کیلئے اصلاحات ہوں۔‏عدالت اگر چاہتی ہےکہ فیصلوں کی عزت ہوتو عوام کےکیسوں پر جلد فیصلے کریں۔معنی خیز قانون سازی اور اصلاحات کیلئے تجاویز دیں۔سیاسی معاملات سے دور رہیں۔ازخود نوٹس ضرور لیں،لیکن متعلقہ ہائی کورٹ بھیجیں تاکہ وہ فیصلہ کرے ،سپریم کورٹ اپیل سن سکے ۔انصاف کریں تاکہ تاریخ آپ کے ساتھ انصاف کرسکے۔

 ملزمان کی مجرمان میں عدالتی ٹرائیل کے ذریعے تبدیلی کی شرح انتہائی کم ہے جس کی وجہ غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن کا علیحدہ نہ ہونا ہے ، سول نظام تو بیٹھتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ مقدمات سول جج کی عدالت میں سالوں چلتے ہیں ،  ہم نے انہیں کسی وقت کا پابند نہیں کیا ' اصلاحات کی دہائی ضرور دی لیکن پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو نہ ہوسکی اور ہوئی بھی تو سیاسی مقاصد حائل آئے اور وہ نتیجہ خیز نہ ہوئی۔

 قانون تو بحث کے بعد ہی بنتے ہیں اور تو اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے عدالتی اکابرین نے بھی مشوروں سے اجتناب ہی برتا ہے۔ عدالتی بڑے 75 سالوں میں مثالی برتاؤ اور زیادہ عرصہ غیر جانبدار رہنے سے قاصر رہے یا یوں کہیں انہیں رہنے نہیں دیا گیا اور انکے ساتھ ' یا ہمارے ساتھ ' اور ' یا ہمارے خلاف' والا معاملہ رہا۔نظام پے در پے ایک متفقہ سمت کا متلاشی رہا اور آئین ہونے کے باوجود اسکا تحفظ قومی کاز اور مقصد نہ بن سکا۔ رہی سہی کسر نیب نے پوری کردی۔ 

برطانیہ نے بھی سول نظام میں خرابیوں کو 1995 میں ایک سپریم کورٹ کے جج لارڈ ولف کے نام پر ولف ریفارمز کے ذریعے سیدھا کیا۔انہوں نے کیس مینجمنٹ کا نظام متعارف کروایا جس سے ایک کاؤنٹی یا قصبے /ضلعے میں ایک ہی عدالت کے ذریعے جدید ذرائع کے ساتھ مقدمات کا اندراج اور اخراج شامل تھا۔  اس تمام کاروائی کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا خودکار نظام وضع کیا۔ کیس سے پہلے کچھ شرائط لازماً قرار دیں،  ٹرائیل سے پہلے سمجھوتے کے امکان اور اس کے لئے ایک نظام کو متعارف کیا اور چھوٹے اور درمیانے اور بڑے مقدمات کے لئے گزارشات مرتب کیں اور انصاف کے حصول کے متبادل ذرائع کو استعمال کرنے کے لئے (اے ڈی آر ) آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیشن کا پورا نظام کھڑا کیا۔اس نظام کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت ، سمجھوتہ اور صلح صفائی اور باہم رضامندی سے عدالت جائے بغیر مقدمات کا حل موجود تھا۔ ہم ابھی تک ایسی اصلاحات کے پاس سے بھی نہیں گزرے گرچہ ہمارا دیہی پنچائت کا نظام اسی اصول پر کار فرما تھا لیکن ہم نہ اِدھر کے رہے نہ ادھر کے۔  

سنہ  2018 میں پاکستان میں ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستانی عدالتوں میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات فیصلوں کے منتظرہیں۔ قانونی ماہرین کے اندازے کے مطابق ایک مقدمے کا فیصلہ آنے میں اوسطاً مہینے نہیں سالوں درکار ہیں اور 10 سال سے زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اعلیٰ عدالتوں میں اس وقت ججوں کی کل تعداد آسامیوں کی نسبت  کم ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کی تحقیق کے مطابق جنوری 2018 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں اس وقت بھی کیسوں کے فیصلوں میں تاخیر کی بڑی وجہ ججوں کی تعداد کی کمی اور ججز پر کام کا دباؤ ہے، ایک  نچلی عدالت کے جج کو دن میں 150 سے 200 کیسز سے نپٹنا پڑتا ہے۔  لا اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات کے مطابق اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سول اور فیملی کیسز کے لیے ججوں کی تعداد کو بڑھا کر تقریباً 2000 کرنا ہوگا تاکہ ایک جج پر 500 مقدمات کی ذمہ داری ہو۔ لیکن تنقید کاروں کے مطابق نظام میں ہول سیل اصلاحات اور سمت کی تبدیلی کے بغیرکیا ججز کی تعداد میں اضافہ معاملات زندگی میں بہتری لا سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائی کورٹ میں پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے اصلاحات متعارف کروائیں لیکن وہ سلسلہ قومی جہت نہ بن سکا۔ 

پاکستان کے فوجداری نظام کو دیکھا جائے تو اسکے بنیادی ڈھانچے میں دائمی خرابیاں سرائیت کر چکی ہیں اور مرض دائمی ہے۔ پاکستان پارلیمان کی منظوری سے فوجی عدالتوں کے ذریعے ملک دشمنوں کو تہہ تیغ تو کر ہی رہا تھا لیکن یہ انتظام بھی عارضی ہے۔ ہم ابھی تک دہشت گردوں اور لاپتہ افراد کے لئے مناسب عدالتیں یا نظام وضع کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ طاقتور ممالک کو ہمارے نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا سود مند لگتا ہے۔ دیمک کی طرح چاٹتی خرابیاں نظام کو مفلوج کر چکی ہیں جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ معیاری ٹرائیل ایک خواب ہی بن گیا ہےاور اسں خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے قومی سوچ اور قومی اقدامات درکار ہیں۔ 

مزید :

بلاگ -