پٹرولیم ریلیف کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ کیا جائے!

پٹرولیم ریلیف کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ کیا جائے!
پٹرولیم ریلیف کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ کیا جائے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر اور سیاسی انتشار عروج پر ہے ایسے ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن کی75سالوں میں تاریخ نہیں ملتی، میں نے اپنے گزشتہ کالم میں پاک چائنہ دوستی کے حوالے سے چائنہ کی طرف سے1971ء میں ایسے ہی سیاسی عدم استحکام اور سیاسی قیادت اور اداروں کی رسہ کشی میں صائب مشورہ دیتے ہوئے پاک آرمی اور سیاسی قیادت کو مشورہ دیا تھا۔ سیاسی استحکام لائیں آپ کا دشمن آپ کی سیاسی چپقلش سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔1971ء میں دشمن پاکستان کی سازشیں عروج پر تھیں، تخریبی سرگرمیوں نے کام دکھایا اور سیاسی قیادت کو ایک میز پر بیٹھنے دیا اور نتیجہ پاکستان دو لخت ہو گیا اِس وقت صورت حال ہے ہر ادارہ ضد پر اَڑا ہوا ہے، میں نہ مانوں کی سیاست جاری ہے اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک بھارت سمیت ایسیطاقتیں موجود ہیں جنہوں نے پہلے دن سے پاکستان کو قبول نہیں کیا ہے،پاکستان کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں پہلے دن سے بھارت،امریکہ اور اسرائیل تک کی ایجنسیوں کو پاک فوج اور اس کی قوت خوفزدہ کر رہی تھی اس کے لئے انہوں نے1971ء سے آج تک پاکستانیوں کو خریدنے، راز جاننے سمیت پاک فوج کی ساکھ متاثر کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ اللہ کا شکر پاکستانی فوج اور اس کے اداروں نے دنیا بھر کی طاغوتی قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنایا۔افسوس موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے9مئی کا سانحہ ایک دن کا منصوبہ نہیں ہے۔ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں دشمن کی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جو کچھ ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا۔اب سوال اٹھ رہا ہے ادارے جو کچھ کر  رہے ہیں پی ڈی ایم اور اس میں شامل جماعتیں جو روش اختیار کر رہی ہیں سپریم کورٹ کا اگر فیصلہ الیکشن کرانے کا ہے تو اچھا ورنہ استعفیٰ دے۔یہی حال پی ٹی آئی کا ہے، ریلیف مل جائے تو عدلیہ اچھی ورنہ احتجاج، اداروں کے باہم دست گریبان ہونے کی وجہ سے عوام کی جو درگت بنی ہوئی ہے کمر توڑ اور جان لیوا مہنگائی میں گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی،عمران خان کی گرفتاری ردعمل اور پھر رہائی تک مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور تقریروں کو زیر بحث لانا مقصود نہیں۔ چیف جسٹس کے عمران خان کو خوش آمدید کہنے اور 14مئی کے الیکشن نہ ہونے کے کیس کے فیصلے کو23 مئی تک ملتوی کرنے کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے اس بات کا تذکرہ ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ 9مئی کا واقعہ کیوں ہوا دشمن کتنے دیر سے ایسے حالات پیدا کرنے کے لئے کوشاں تھے آلہ کار کون کون بنا، کیسے بنا، کس کا کیا کردار تھا اب9مئی کے واقعات کے ذمہ داران اور کرداروں کی گرفتاری ہو چکی ہے۔


آرمی ایکٹ  کے تحت مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔ میرا صحافتی اور قانون کے طالب علم اور محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے سوال ہے؟ گرفتار ہونے والے تین  ہزار  ہیں یا پانچ ہزار ان کو اگر تمام کو نشانِ عبرت بنانے کے لئے پھانسیاں دے دی جائیں، عمران خان کو دوبارہ پابند ِ سلاسل کر دیا جائے، عمر قید دے دی جائے تو دشمن جو بیج بو چکا ہے، سازش  جو کر چکا ہے ختم ہو جائے گی؟ آئندہ نفرت کا بیج کوئی نہیں بوئے گا اس پر سوچنے کی ضرورت ہے،جذبات سے زیادہ ہوش میں رہ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔عمران خان کو فتنہ کہہ لیں،دجال کہہ لیں اس سے محبت  کرنے والوں کو پاگل اور جنونی کہہ لیں آگ جو نئی نسل کو لگ چکی  ہے یہ حکمت سے بچانے کی ضرورت ہے۔مشکل ترین حالات میں جب سیاسی قیادت کو عوام کی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں ہے، سرکاری ملازمین اور پنشنر کی زندگی اجیرن ہو کر  رہ گئی ہے۔ سرکاری ملازمین اور نجی اداروں کے ملازمین کو میں نے روتے ہوئے دیکھا ہے،مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہے، یوٹیلٹی بل نے جان نکال رکھی ہے، سرکاری تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا، نجی اداروں کے ملازمین اور مزدوروں کے لئے مراعات، اعلانات تک محدود ہیں، ابتری کی صورت حال میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہے۔ پٹرول اور ڈیزل بارہ بارہ روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل30روپے کمی پر عوام خوش ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہیں یہ بجٹ کا تحفہ نہ ہو، بجٹ کے بعد دوبارہ دو گنا کر کے اضافہ نہ کر دیا جائے، میری ذاتی رائے ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بروقت اقدام ہے اب اس کا براہ راست فائدہ عوام کو دینے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔کرایوں میں کمی سمیت دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا چاہئے۔ آخری بات جو کرنی ہے وہ وفاقی بجٹ کے اعلان میں عوامی ریلیف یقینا الیکشن کا سال ہے، سیاسی بجٹ ہو گا۔ سرکاری ملازمین شدید مشکلات میں ہیں مہنگائی300فیصد بڑھ چکی ہے ان کی تنخواہیں کم از کم50فیصد بڑھنی چاہئے۔مزدوروں اور نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں کو50ہزار کرنے کے اعلان کو عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔حکومت وقت اور اداروں سے درخواست کرنی ہے سوشل میڈیا موجودہ حالات میں سب سے بڑا فتنہ ہے، چاروں اطراف سوشل میڈیا سازشوں کو پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اس کے آگے پُل باندھنے کے لئے منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔کور کمانڈر ہنگامی اجلاس کے فیصلوں کی تفصیل تو مجھے پتہ نہیں۔ ایک خبر جو میں نے پڑھی ہے کور کمانڈر نے بھی سیاسی قیادت کو وہی مشورہ دیا ہے جو1971ء اور 2023ء میں چائنہ نے دیا ہے۔سیاسی استحکام لایا جائے ورنہ دشمن کی سازشوں کو روکنا ممکن نہیں، اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔
٭٭٭٭٭
اشفاق انجم کالم 

مزید :

رائے -کالم -