حبیب جالب انقلابی شاعر،ہمیشہ عوام کو بیدار کیا:مقررین

حبیب جالب انقلابی شاعر،ہمیشہ عوام کو بیدار کیا:مقررین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        لاہور(خبر نگار)لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) اور حبیب جالب فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ”جالب عوامی میلہ“ گزشتہ روز الحمرا ء نور جہاں آڈیٹوریم ہال نمبر 1 میں  ہوا۔ پروگرام کا آغاز قاری عبد الرحمن جامی نے تلاوت قران پاک سے کیا اور نعت رسول مقبول ؐ کا شرف حذیفہ اشرف عاصمی نے حاصل کیا۔ میلے میں روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی،معروف قانون دان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر حامد خان،پیپلز پارٹی کے رہنماء بیرسٹر عامر حسن،مزدور کسان پارٹی کے جنرل سیکرٹری پروفیسرڈاکٹرتیمور،برابری پارٹی کے چیئرمین گلوکار جواد احمد،بابا نجمی،اسد حسین جعفری، آغا راحت،صائمہ ممتاز اور دیگر نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض صفدر علی نے انجام دیئے۔ مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ حبیب جالب کی آواز اب تک گونج رہی ہے ان کی نظمیں اور غزلیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آج کے لئے لکھی گئی تھیں۔1962ء میں ایوب خان کے بنائے ہوئے دستور کے خلاف حبیب جالب نے آواز اٹھائی اور کہا کہ ”ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا“اور ان کی آواز پورے ملک میں پہنچی اور عوام نے 1962ء کے دستور کو مسترد کردیا۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں عوام سے جو وعدے کرتی ہیں ان کو ہر حال میں پورا کیا جانا چاہیے۔حامد خان کا کہنا تھا کہ حبیب جالب کی کہی ہوئی باتیں آج بھی سچ ہیں میری حبیب جالب سے 1992ء میں مقامی اسپتال میں ملاقات ہوئی جہاں وہ اپنے آخری ایام میں زیر علاج تھے۔پروفیسر ڈاکٹر تیمور کا کہنا تھا کہ حبیب جالب کو زندگی بھر ڈرانے دھمکانے کے علاوہ ان کو کوڑے مارے گئے ان کی کردار کشی کی گئی مگر وہ ایک انقلابی شخصیت تھے کسی بھی حربے سے نہیں ڈرے وہ دنیا سے چلے گئے مگر ان کا انقلابی پیغام آج بھی زندہ ہے۔بیرسٹر عامر حسن نے نے حبیب جالب کا کلام پڑھ کر سنایا۔ برابری پارٹی کے چیئرمین گلوکار جواد احمد نے جالب اور برابری کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔