میڈیا توہین عدالت پر مبنی مواد نشر کرنے سے باز رہے:سپریم کورٹ

میڈیا توہین عدالت پر مبنی مواد نشر کرنے سے باز رہے:سپریم کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        اسلام آباد(آئی این پی)  سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا  اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل واڈا اور مصطفی کمال نے بظاہر توہین عدالت کی،دونوں  آئندہ سماعت پر پیش ہوں اور توہین عدالت کے نوٹسز کا جواب دو ہفتوں میں دیا جائے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میڈیا کو توہینِ عدالت پر مبنی مواد نشر کرنے سے باز رہنا چاہیے۔سپریم کورٹ کی جانب سے  سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا اور مصطفی کمال توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، دونوں کو اپنے کیے کی وضاحت کا موقع دیتے ہوئے شوکاز جاری کیا جاتا ہے۔ تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا کہ توہینِ عدالت پر مبنی مواد نشر کرنے والے یا دوبارہ توہینِ عدالت مواد نشر کرنے والے میڈیا ادارے بھی توہین ِ عدالت کر رہے ہونگے۔ میڈیا کو توہینِ عدالت پر مبنی مواد نشر کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے فیصل واڈا اور مصطفی کمال کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5 جون تک ملتوی کردی تھی، عدالت عظمی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی  (پیمرا)سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا تھا۔  عدالت نے فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس کا مکمل ٹرانسکرپٹ پیمرا سے طلب کرلیا۔عدالت نے کہا کہ توہینِ عدالت پر فیصل واوڈا،مصطفی کمال کو شوکاز نوٹس جاری کررہے ہیں۔ دونوں کو 2 ہفتوں میں وضاحت پیش کرنے کا ایک موقع دیا جا رہا ہے۔ فیصل واوڈا اور مصطفی کمال آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں بھی پیش ہوں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر لیے گئے  از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ میں شامل تھے۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -