کرغزستان میں غیر ملکی طلبہ پر حملے،5پاکستانیوں سمیت 14زخمی

 کرغزستان میں غیر ملکی طلبہ پر حملے،5پاکستانیوں سمیت 14زخمی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

                                                                                                            اسلام آباد،بشکیک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) کرغزستان میں غیرملکی طلبہ کے ہاسٹلز پر مقامی افراد نے حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی، تشدد سے متعدد طلبہ زخمی ہو گئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق کرغزستان کے شہر بشکیک میں مقامی اور غیر ملکی طلبہ کے مابینلڑائی ہوئی جس کی زد میں پاکستانی بھی آ گئے، مقامی افراد نے پاکستانی طلبہ کے ہاسٹلز پر حملہ کر کے وہاں موجود پاکستانیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد زخمی ہو گئے۔حملہ آوروں نے ہاسٹل کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے، واقعے کے بعد پاکستانی طلبہ خوفزدہ ہو گئے، ہاسٹل میں پاکستانی طالبات کو بھی ہراساں کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بشکیک میں مقامی اور غیر ملکی طلبہ کے درمیان جھگڑے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے بعد کرغزستان میں تعینات پاکستانی سفیر حسن علی ضیغم نے پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ حالات معمول پر آنے تک طلبہ گھروں پر رہیں۔حسن علی ضیغم نے کہا کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہیں اور پاکستانی طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ کرغزستان میں موجود پاکستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی طلبہ کی حفاظت کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، جب تک حالات معمول پر نہیں آتے پاکستانی طلبہ گھروں اور ہاسٹلز تک محدود رہیں، ایمرجنسی میں طلبہ اس نمبر 507567667996 پر رابطہ کریں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی طلبہ کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے کا پیغام موصول ہو گیا، پاکستانی سفارتخانہ کرغزستان کے حکام سے رابطے میں ہے۔وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کرغز وزارت صحت کے مطابق 4 پاکستانیوں کو ابتدائی طبی امداد دیکر فارغ کر دیاگیا، ایک پاکستانی جبڑے کی چوٹ کے باعث زیر علاج ہے۔وزارت خارجہ کا کہنا تھا حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنے م وطنوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملیکوبہت سنجیدگی سے لیتی ہے، پاکستانی طالبعلم حیدر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مقامی طلبہ کا مصر کے طلبہ سے جھگڑا ہوا، کرغزستان کے مقامی طلبہ نے اس کے ردعمل میں غیر ملکی سٹوڈنٹس پر حملے شروع کر دیئے، ہمارے ہاسٹلز پر بھی مقامی طلبہ نے حملہ کیا ہے، متعدد پاکستانی طلبہ ان حملوں میں زخمی ہوئے ہیں، پاکستانی حکومت ہمارے تحفظ کیلئے اقدامات کرے۔انہوں نے بتایا ہے کہ پولیس اور فوج کی موجودگی کے باوجود مقامی افراد طلبہ پر حملے کر رہے ہیں، ہاسٹلز کے بعد انہوں نے اب گھروں پر بھی حملے شروع کر دیئے ہیں، یہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالب علم ہیں جن کے والدین پاکستان میں انتہائی پریشان ہیں، میری وزیر اعظم، چیف جسٹس اور دیگر ہائی اتھارٹیز سے ایپل ہے کہ ہماری مدد کی جائے۔پاکستان نے کرغزستان میں پرتشدد واقعات پر اسلام آباد میں تعینات کرغزستان کے سفارتخانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلبکیا۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ اعزاز خان نے کرغز سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کیا اور انہیں کرغزستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کے خلاف واقعات کی رپورٹس پر حکومت پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے حکومت پاکستان کرغز حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے، کرغز حکام نے بشکیک میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکی طلبہ کے خلاف تشدد کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔حکام نے کہا کہ کرغز حکام نے معاملے کی انکوائری کرانے اور قصور واروں کو سزا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے نے ہنگامی ہیلپ لائن کھول دی ہیں، سفارتخانے نے طلباء اور ان کے اہلخانہ کے سوالات کے جوابات دیئے ہیں، سفیر حسن علی ضیغم اعلیٰ کرغز حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، 4 پاکستانیوں کو ابتدائی طبی امداد دیکر فارغ کر دیا گیا، ایک پاکستانی زیر علاج ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنے ہم وطنوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔بشپاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ بشکیک میں غیر ملکی طلبہ کے خلاف پر تشدد واقعات میں کوئی پاکستانی طالبعلم جاں بحق نہیں ہوا۔پاکستانی سفارت خانے کے مطابق کرغزستان حکومت نے کوئی بھی پاکستانی طالب علم کے جاں بحق نہ ہونے کی تصدیق کی ہے، کرغزستان کی وزارت بین الاقومی امور کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ صورتحال سے متعلق کرغزستان کی وزارت بین الاقومی امور نے پریس ریلیز جاری کی ہیں۔قبل ازیں پاکستانی سفیر حسن علی ضیغم نے بھی وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں کوئی پاکستانی جاں بحق نہیں ہوا، سفارتخانہ زخمی طلباء  کی معاونت کر رہا ہیوزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستانی اور دیگر ممالک کے طلباء کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے وزیر اعظم شہباز  شریف نے کہا کہ بشکیک میں پاکستانی سفیر کو پاکستانی طلباء کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستانی سفارت خانے نے ایمرجنسی نمبر فراہم کر دیے ہیں اور  وزیر اعظم مسلسل اپنے آپ کو صورت حال سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن علی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اورکرغزستان میں پاکستانی طلباء  کو ہر قسم کی مدد و معاونت فراہم کرنے اور پاکستانی سفیر کو خود ہاسٹلز کا دورہ کرکے طلباء_  سے ملاقات کی ہدایت کی ہے جبکہ پاکستانی سفیر نے وزیرِ اعظم کوبتایاکہ واقعے میں کوئی پاکستانی جاں بحق نہیں ہوا۔ بعد ازاں وزیر اعظم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں کرغزستان میں میں پاکستان طلبہ کے معاملے پر غور کیا گیا، وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار وفاقی وزیر امیر مقام کو  بشکیک میں پاکستانی سفارتخانے کی معاونت  اور کرغزستان حکومت کے ساتھ بات چیت کے بشکیک جانے کی ہدایت کرد  ی جو رات گئے بشکیک روانہ ہو گئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بشکیک میں پاکستانی طلبہ کے خلاف پرتشدد واقعات پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان بشکیک میں پاکستانی طلبہ کو ہر قسم کی مدد و معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے، وزارتِ خارجہ بشکیک میں پاکستانی طلبہ کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ طلبہ سے رابطے اور ان کے اہلخانہ تک درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے، ہمارے نوجوان کرغزستان میں پاکستان کے سفیر ہیں، مشکل حالات میں تحمل و ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کریں۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق  نے کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پاکستانی طلبا کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے   کرغیزستان میں حالیہ صورتحال میں پاکستانی سفارتخانے کو طلبا کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدیت. کی ہے اور کہا ہے کہ  طلبا ہمارے مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہیں انہیں مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،  کرغزستان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صورتحال پر قابو پالیا ہے، مجرمان کو جلد کیفرکردار تک پہنچائیں گے، حکومت  حملے کے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔   وزیر خارجہ اسحق ڈار کی ہدایت پر کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن ضیغم نے کرغز نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سفیر نے دارالحکومت بشکیک میں پاکستانی طلبہ کی صورتحال اور ان کے اہل خانہ کے خدشات سے آگاہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی سفیر حسن ضیغم نے کرغزستان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ اس موقع پر کرغزستان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ بشکیک میں حکام نے صورتحال پر قابو پالیا ہے اور حالات اب معمول پر آگئے ہیں، جب کہ مقامی پولیس تمام ہاسٹلز کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پاکستانیوں سمیت 14 غیر ملکی شہریوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہیں، اس وقت ایک پاکستانی شہری زیر علاج ہے۔ نائب وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کرغزستان کے صدر خود اس معاملے کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں اور حکومت کل کے حملے کے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔رات گئے پاکستانی طلبا کو  لیکر ایک پرواز کرغزستان کے دارالحکومت  بشکیک سے لاہور  پہنچ گئی۔غیرملکی ائیرلائنز کی پرواز گزشتہ رات 11 بجے بشکیک سے لاہور  پہنچی، غیرملکی ائیر لائنز کی  پرواز  سے 30 پاکستانی طلبا واپس آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق کرغزستان سے ایک اور  پرواز آج پاکستانی طلبا کو  لے کر پاکستان پہنچے گی، پاکستانی طلبا کی واپسی کے لیے ایک ہفتے تک بشکیک سے روز  ایک پرواز  پاکستان پہنچے گی۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لاہور ائیرپورٹ پر پاکستانی طلبا  کا استقبال کے کیا۔ 

طلبہ حملے

مزید :

صفحہ اول -