اور اب توہین عدالت، سووموٹو!

 اور اب توہین عدالت، سووموٹو!
 اور اب توہین عدالت، سووموٹو!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گزشتہ روز ایک ٹیلیویژن پر بریکنگ نیوز کے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری جو ٹکرز کی صورت میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب کی جیلوں میں قید، قیدیوں نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ کو ایک چٹھی لکھی جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے بانی، سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں کھانے، ورزش اور چہل قدمی کی جو سہولتیں دی گئی ہیں، ان کو بھی دی جائیں کہ وہ بھی پاکستان ہی کے شہری ہیں، یہ ٹکرز صرف جمعہ کو دو تین بار نظر آئے اور پھر سکرین سے غائب ہو گئے اور تلاش کے باوجود نہیں ملے اور نہ ہی تردید کی شکل میں مزید کوئی ٹکر آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فیک نیوز تھی اور احساس ہونے پر روک لی گئی اگر یہ بات نہیں تو پھر خوف کی وجہ سے ایسا ہوا ہوگا کہ بانی کو یہ سب سہولتیں عدالت کے حکم یا ہدایت پر دی گئی ہیں اور عدالت بھی اسلام آباد ہائی کورٹ ہے، اس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر سینٹ کے رکن سابق وفاقی وزیر فیصل  واؤڈا اور قومی اسمبلی کے رکن مصطفٰے کمال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

دونوں حضرات 5 جوان کو سپریم کورٹ کے سہہ رکنی لارجر بنچ کے سامنے پیش ہوں گے جو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قیادت میں سماعت کرے گا،جو ٹکرز دکھائے گئے اور ان کی بناء پر خبر بنی وہ یوں تھی کہ ڈپٹی سیکریٹری جیل خانہ جات نے ایک خط کے ذریعے آئی جی محترم کو آگاہ کیا کہ عمران خان کو دی جانے والی سہولتیں  پرنز قواعد 1978ء کی خلاف ورزی ہے اور باقی قیدی بھی یہ سہولتیں مانگ رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا نہ تو تردید ہوئی ا ور نہ ہی کوئی وضاحت سامنے آئی اس خبر کا فالو اپ بھی نگاہ سے نہیں گزرا اس لئے یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ یہ خبر روک لی گئی اور اس کی وجہ خبر رکوانے یا روکنے والے ہی جانتے ہیں۔ میں باہر بیٹھ کر حیران تو ہو سکتا ہوں اور یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ یہ سب سہولتیں بی کلاس سے کہیں ماورا ہیں لیکن مجبوری یہ کہ مرشد کے معتمد بیرسٹر حضرات بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے اور وہاں سے ہدایات دی جاتی رہیں صرف یہی نہیں خان صاحب سے جو ملاقاتیں ہوتی ہیں وہ بھی عام روایات اور مروجہ طریق کار سے ماورا ہیں کہ قواعد کے مطابق گھر والوں سے ایک ہفتہ کے بعد ملاقات طے ہے۔ لیکن یہاں محترم قیدی نمبر 804 کی فہرست کے مطابق ان کے پارٹی رہنما ملتے رہتے اور تمام امور پر گفتگو کرتے ہیں، یوں بھی زیادہ حضرات کا تعلق پیشہ وکالت سے ہے اور ان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دے کر یہ سہولت حاصل کی گئی ہے اور یوں مخالفین کا یہ الزام ان پر نہیں آتا البتہ بالواسطہ عدالتی حکم پر تنقید سمجھی جاتی ہے اور عدالتی حکم یا ہدایت پر آج کل تنقید 440 وولٹ بجلی کا جھٹکا ہے جو عدالت کے ذریعے لگوا دیا جاتا ہے۔

میں انہی سطور میں ایک سے زیادہ بار بتا چکا ہوں کہ میں نے طویل عرصہ کورٹس رپورٹنگ بھی کی اور اس دور میں جب نامور وکلاء اور شہرت یافتہ جج حضرات تھے صرف عدالت میں ہونے والی کارروائی ہی رپورٹ ہوتی تھی آج کی طرح سماعت کے بعد پریس کانفرنس نہیں ہوتی تھیں اور پھر ہم سب توہین عدالت سے ہمیشہ خوفزدہ رہے کہ یہ ایک ایسا اختیار ہے جس کے تحت فاضل عدالت جواب لئے بغیر بھی سزا دے سکتی ہے اور ایسا کئی بار ہوا ہے، ایک واقعہ تو ہماری فیڈریشن کے صدر منہاج برنا (مرحوم) کا بھی ہے کہ صنعتی تعلقات کی عدالت میں ہم سب کے خلاف ان فیئر لیبر پریکٹس کی سماعت ہو رہی تھی۔ جسٹس (ر) عبدالحمید چیئرمین (سربراہ عدالت) تھے یہ مقدمہ 1974ء میں اس وقت روزنامہ مساوات کے ایڈیٹر عباس اطہر (مرحوم) نے ہم سب کے خلاف دائر کیا کہ فیڈریشن نے اس اخبار سے 39 کارکنوں کی برطرفیوں کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی چنبہ ہاؤس میں بنی عدالت میں ایک روز منہاج برنا صاحب نے کسی نا انصافی پر احتجاج کیا تو جسٹس (ر) عبدالحمید برہم ہو گئے انہوں نے اسی وقت برنا صاحب کو توہین عدالت کے الزام میں چھ ماہ کی قید سنا دی۔ ہم سب حیران رہ گئے تاہم برنا صاحب کو وہاں سے میں ساتھ لے گیا، انہوں نے متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی کی منت سماجت اور نوکری کے واسطے کی وجہ سے رحم دلی کا مظاہرہ کیا اور گرفتاری دے دی میں نے اپنے بیرسٹر دوست ڈاکٹر خالد رانجھا سے رجوع کیا اور رات ہی کو درخواست ضمانت تیار کرلی اور صبح ہی صبح دائر کی جو سماعت کے لئے جسٹس شفیع الرحمان کے روبرو پیش ہوئی اور انہوں نے مختصر سماعت کے بعد ہی برنا صاحب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا یہ درخواست اور ضمانت پھر کبھی سماعت کے لئے نہ لگی۔ برنا صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے اور توہین عدالت کی سزا بھی ساتھ ہی لے گئے۔

میں عدالتی امور سے واقف ہوتے ہوئے قائل ہوں کہ عدالتی کارروائی ہی رپورٹ ہونا چاہئے لیکن اب یہ روایت ختم ہے خود وکلاء حضرات سماعت کے بعد پریس کانفرنس کر لیتے اور فاضل جج دوران سماعت مسلسل بولتے اور کئی بار غیر متعلقہ باتیں بھی کر گزرتے ہیں حال ہی میں 190 ملین پاؤنڈ والے کیس میں خان صاحب کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی گئی فاضل عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی قرار دیا کہ سماعت کے دوران یا   فیصلے میں جو آبزرویشنز دی گئی ہیں وہ کیس پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ اب قانون دان حضرات اور فاضل جج صاحبان خود ہی فیصلہ  کر لیں کہ بڑی عدالت کی کارروائی سے چھوٹی عدالت کیونکر متاثر نہیں ہو گی؟ ایک تازہ ترین مثال بھی عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ کسی پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عمران خان کو انتخابی عمل کے حوالے سے نااہل قرار دینے کی استدعا کی۔ سہ رکنی بنچ بنا، سربراہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تھے۔ اس درخواست کی ابتدائی سماعت ہوئی  اور پھر درخواست زیر التوا چلی گئی اب قریباً ایک سال کے وقفہ کے بعد یہ درخواست بھی سماعت کے لئے مقرر کی گئی لیکن فاضل چیف جسٹس نے سماعت کرنے سے گریز کیا اور سابق سہہ رکنی لارجر بنچ توڑ دیا کہ دو فاضل جج حضرات نے ویب سائیٹ پر یہ رائے دی تھی کہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔ چیف جسٹس کی طرف سے بنچ کی سربراہی میں کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تھا۔ اب نئے بنچ میں ان دو جج حضرات سمیت خود چیف جسٹس بھی سماعت سے الگ ہو گئے ہیں اور اب سماعت نیا لارجر بنچ کرے گا۔ میں اس بارے میں قانون اور آئین کے ماہر وکلاء کی رائے کا منتظر ہوں۔

اب آخر میں بصد ادب توہین عدالت کے سووموٹو کیس کے بارے میں کچھ بات عرض کر لوں اس سے پہلے ہی غیر مشروط معانی کا طلب گار ہوں مگر سوال یہ ہے کہ جس مسئلہ پر یہ کارروائی شروع کی گئی وہ مسٹر جسٹس بابر ستار کے خلاف میڈیا مہم اور 190 ملین پونڈ کیس میں درخواست ضمانت کی منظوری کے فیصلے پر رائے کے حوالے سے ہے اس حوالے سے عرض ہے کہ ٹھوس عدالتی رائے کے مطابق کسی بھی فیصلے پر دیانت دارانہ رائے (تنقید) دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ خود فاضل چیف جسٹس پاکستان نے اپنے خلاف میڈیا مہم کا نوٹس لینے سے گریز کا اعلان کیا تھا، بات ختم کرنے سے پہلے صرف ایک عرض کروں گا جو سوال ہے غیر مشروط معافی پہلے مانگ چکا، سوال یہ ہے کہ فاضل جسٹس بابر ستار کی مبینہ دہری شہریت کے حوالے سے کارروائی شروع کی گئی۔ الزام ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی توہین آمیز مہم شروع کی گئی،کیا اس کے لئے توہین عدالت کی کارروائی ضروری تھی یا پھر سول مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کا ہونا چاہئے تھا؟ جس میں ہرجانہ بھی طلب کیا جاتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری کسی دوسرے شہری کے حوالے سے ایسا کرے تو اسے نوٹس دے کر دعویٰ کرنا اور ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس کی شہرت متاثر اور عزت داغدار ہوئی۔

مزید :

رائے -کالم -