جنرل پرویز تا جسٹس بابر - ادارے کا تحفظ

 جنرل پرویز تا جسٹس بابر - ادارے کا تحفظ
 جنرل پرویز تا جسٹس بابر - ادارے کا تحفظ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

وہی بربط، وہی مضراب، محمل بھی وہی، لیلیٰ بھی وہی، ایک ہی دھن ایک ہی لے، مارگزیدہ بسمل بھی وہی، لب میگوں میں تغیر نہ کہیں صہبا کا تبدل۔ واقعات میں پیش کیے دیتا ہوں، آپ بتائیے گا کہ 10 سال قبل کے پاکستان اور حالیہ اسلامی جمہوریے میں کیا کچھ فرق موجود ہے۔ میں سائل آپ منصف۔ روزنامہ ڈان 19 نومبر 2019 میں جنرل پرویز مشرف سے متعلق واقعات کی زمانی ترتیب کے چند اقتباسات۔ 18 اپریل 2013 کو ان کی درخواست ضمانت مسترد، عدالتی حدود سے فرار۔ 2 جنوری 2014 کو سنگین غداری کیس میں پیش ہونے کی بجائے عسکری ادارہ امراض قلب میں داخل۔ 7 جنوری 2014 کو ادارے کی طبی رپورٹ کہ ان کے دل کی 3 شریانیں بند اور دیگر 8 بیماریاں لاحق ہیں. 16 جنوری کو ان کی صحت جاننے کو عسکری ادارہ امراض قلب کو میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم. پورے بورڈ نے ان کی حالت کو سنگین قرار دے کر تجویز کیا کہ انہیں مرضی کے مقام پر علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔ 28 جنوری 2014 کو بورڈ کی رپورٹ پر استغاثہ کا عدم اعتماد۔ سربراہ عسکری ادارہ امراض قلب کو جرح کے لیے طلب کرنے کی درخواست۔ اس درخواست پر عمل ہونا تھا نہ کبھی ہوا۔

اچانک ایک دن جنرل راحیل شریف نے اس سنگین غداری کیس پر یوں دھمکی آمیز بیان جاری کیا: "حالیہ دنوں میں ادارے پر ہونے والی تنقید کے رد عمل میں فوج اپنے وقار اور اپنے ادارے کے فخر کا تحفظ کرے گی". اس بیان کے بعد کیا عدالتی کارروائی میں کچھ جان رہ جانے کا کوئی امکان رہ گیا تھا؟ چنانچہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو 18 مارچ 2016 کو "مریض" موصوف اپنے پسندیدہ مقام دبئی کو بغرض "علاج" روانہ ہو گئے۔ 3 بند شریانوں اور 8 دیگر بیماریوں کے شکار مریض کا علاج وہاں سارہ شریف نامی رقاصہ کے ساتھ رقص کی صورت میں دیکھا گیا۔ رقاصہ کے اس "علاج معالجے " کی دھوم مچی تو روزنامہ پاکستان نے اس کی تفصیل 26 جنوری 2017 کو شائع کی۔

 دیکھا آپ نے؟ دو دفعہ کے آئین شکن کے جانشین نے اپنے پیش رو کو کیا خوب تحفظ دیا۔ دو دفعہ حلف کی خلاف ورزی کرنے والے کی پیروی میں عسکری معالجین اپنے ادارے کا تحفظ کرتے کرتے معلوم نہیں اپنا ایمان کیسے برقرار رکھ پائے ہوں گے۔ دنیا بھر کے معالجین کا حلف نامہ ملاحظہ فرمائیں:۔۔۔"میں اپنے طبی پیشے کی اعلیٰ اور مقدس روایات کو پوری طاقت سے آگے بڑھاؤں گا... میں عمر, بیماری, معذوری, جنس, مسلک, قومیت, لسانیت, سیاسی وابستگی اور نسل کو پیشہ وارانہ ذمہ داری پر کسی طرح سے اثر انداز نہیں ہونے دوں گا". انہی معالجین کی رپورٹ پر دل کی 3 بند شریانوں اور 8 دیگر بیماریوں کا مریض پاکستان سے نکلتے ہی رقص کے لائق کیسے ہو گیا؟ قارئین سے میرا یہی سوال ہے.

سب جانتے ہیں کہ سرکاری ملازمت بذریعہ گپ شپ ملے نہ ملے، لیکن ہر شے کو دستاویزی شکل میں محفوظ ضرور رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر غزالی مرحوم نے ساری زندگی ادارہ تحقیقات اسلامی میں گزاری۔ لیکن برسوں بعد وہیں اپنی آخری ترقی بطور پروفیسر کے لیے بورڈ میں پیش ہوئے تو میں نے خود دیکھا کہ وہ اپنی تمام اصل اسناد اور کاغذات متعلقہ سپرٹینڈنٹ کو پھر دکھا رہے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ تقرری ہو جانے پر متعدد فارم بھرنا پڑتے ہیں جن میں ذاتی کوائف کا باریک بینی سے اندراج ہوتا ہے۔ انہی حقائق کے سہارے سینیٹر فیصل واؤڈا نے فاضل جسٹس بابر ستار کی شہریت کے بارے میں استفسار کیا جو ہر کسی کا آئینی حق ہے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے پریس ریلیز جاری کیا کہ جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس گرین کارڈ ہے۔ فیصل واؤڈا کو کنفیوژن یہ ہے کہ "اگر یہ چیز کہیں ریکارڈ میں لکھی ہوئی ہے تو اسے شائع کر دینا چاہیے. اور اگر انہوں نے زبانی بات کی ہے تو جسٹس بابر ستار پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ دوسرا سوال جسٹس اطہر من اللہ پر ہے کہ اگر رائٹنگ میں نہیں تو وربل میں تو دنیا میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس پریس ریلیز میں ہے کہ وہ ایک لا فرم کے ساتھ امریکہ میں کام کرتے ہیں اور ان کے پاس امریکہ کا مستقل رہائشی کارڈ ہے۔ اگر یہ درست ہے تو انہوں نے اس کی کوئی پروفائلنگ تو کی ہوگی۔ کوائف جمع کرائے ہوں گے۔ اب کنفیوژن یہ ہے کہ یہ کچھ ریکارڈ میں لکھا ہونا چاہیے جو دکھا دیا جائے ".(روزنامہ ایکسپریس 29 اپریل 2024).

 آفرین ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر فرماتے ہیں: "میرے خلاف کہیں زیادہ باتیں ہوئیں. کمشنر راولپنڈی نے مجھ پر الزام لگایا تو سارے میڈیا نے اسے چلا دیا۔ لیکن ]اپنی ذات پر تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے [ میں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دوں گا"۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق پر بھی آفرین جن پر پی ٹی آئی کے رؤف حسن نے کھلم کھلا لکھا: "وہ ٹاؤٹ ہے ". ان دونوں اعلیٰ ظرف اور وضع دار ججوں نے سب کچھ نظر انداز کر دیا۔ تاہم چیف جسٹس اپنے ادارے کے تحفظ کی خاطر میدان میں آگئے۔ لیکن فیصل واؤڈا کا سوال بڑا سادہ تھا جس کا مختصر سا حقیقی جواب ہوتا تو بات ختم ہو جاتی، سوال یہ تھا: "مجھے جسٹس بابر ستار اور جسٹس اطہر من اللہ کے مابین محکمانہ کارروائی کی نقلیں دی جائیں "۔ انہیں نقلوں کی بجائے مبہم سا غیر متعلق جواب ملا۔ یوں اگر وہ تلملاہٹ میں پریس کانفرنس کر گزرے تو بھی ان کا مطالبہ باقی ہے، ختم نہیں ہوا۔ یہ مطالبہ توہین عدالت کے موٹے لفافے میں نہ لپیٹا جائے،  جواب چاہیے۔

قاضی فائز عیسیٰ اپنے ادارے کا تحفظ ضرور کریں۔ عدلیہ کا احترام ہم سب کی ضرورت ہے۔ لیکن توقع ہے کہ چیف جسٹس اپنے ادارے کا تحفظ جنرل راحیل شریف والا تحفظ نہیں کریں گے۔ صرف سال پہلے دور بندیال میں انہوں نے لگ بھگ تین اجلاسوں کے بعد خود کہا تھا کہ اجلاسوں کی روداد میں رد و بدل کر دیا جاتا ہے۔ عدلیہ کی یہ "محکمانہ روایت" اگر باقی ہے تو چیف عدلیہ کے کس وقار کا اور کیسے تحفظ کریں گے؟ چیف سے درخواست ہے کہ پہلے یہ گھناؤنی روایت دفن کی جائے۔ عدلیہ کے وقار کا آغاز یہیں جسٹس بابر ستار اور جسٹس اطہر من اللہ کے مابین محکمانہ کارروائی کا جائزہ لے کر کیوں نہ کیا جائے؟ فیصل واؤڈا کا سوال، نہ کہ پریس کانفرنس، ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے. ہر کسی کی خواہش ہے کہ عدلیہ کا وقار بہرحال برقرار رہے۔ لہذا فیصل واؤڈا کو قاعدے کے مطابق جواب دیا جائے، بتایا جائے کہ اپنی تقرری کے وقت جسٹس بابر ستار نے اپنے کوائف میں وہ کیا کچھ لکھا تھا جس کی توثیق جسٹس اطہر من اللہ نے کی تھی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ جسٹس فائز عیسیٰ، جنرل راحیل شریف کی پیروی کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -