مہنگائی، غربت،خودکشی زندگی سے جان چھڑانے کا آسان”نسخہ“

مہنگائی، غربت،خودکشی زندگی سے جان چھڑانے کا آسان”نسخہ“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 میلسی(نامہ نگار)خودکشی کرنے کی شرح میں اضافہ ہوگیا جنوبی پنجاب اور میلسی میں  خودکشی کے لیے گذشتہ تین ماہ میں مختلف روایتی طریقے  استعمال کیے گئے  تفصیل  کے مطابق گھریلو جھگڑے کے غصے ،کو ئی پشیمانی،حالات کی تنگی،ایسے اسباب سمجھے جاتے ہیں جس میں انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان انتہائی اقدام یعنی اپنے جان لینے جیسا عمل کر گذرتا ہے ماہرین کے مطابق نوجوان جوڑوں کا نہ مل سکنا پنجاب میں خودکشی کی ایک اہم وجہ ہے سائنسدانوں میں یہ بحث جاری ہے کہ خودکشی کوئی بیماری ہے یا کمزور قوت ارادی والوں کا(بقیہ نمبر15صفحہ7پر)

 فوری ردعمل۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی شناخت اور پھر مدد کی ضرورت ہے دو روز قبل روزگار کی پریشانی سے تنگ آکر میلسی کے نوجوان نیڈھمکی نہر میں کود کر خود کشی کی۔اس سے پہلے بھی اس چھوٹے سے شہر میں متعدد واقعات رو نما ہو ئے۔مذہبی علما رہنمائی کرتے ہیں کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اس لیے اسے ذہنی بیماری نہیں کہا جا سکتا۔میڈیا کارکن فہیم مغل نے تب خود کشی کی تھی جب اس کی جیب میں بچے کے دودھ لانے کے لیے پیسے نہ تھے۔قانون میں خودکشی کی کوشش پر 325 کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کی قید کی سزا اور ایک لاکھ جرمانے تک کی سزا ہے۔ذہنی کونسلنگ اور تربیت سے پر یشان حال لوگوں کو اس انتہائی اقدام سے بچایا جا سکتا ہے۔بنیادی طور پر غربت اور گھریلو مسائل کے علاوہ ازدواجی اور دیگر گھریلو تنازعات اس کی وجہ بنتے ہیں۔زیادہ تر نوجوان مرد اور نوجوان خواتین ایسا کرتی ہیں۔جن کی عمریں 16 سے 25 سال تک کی ہوتی ہیں۔ان میں طالب علم بھی شامل ہیں