قبائلی عوام کی ملک و قوم کیلئے قربانیاں،خدمات قابل تحسین:فیصل کریم کنڈی

قبائلی عوام کی ملک و قوم کیلئے قربانیاں،خدمات قابل تحسین:فیصل کریم کنڈی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        پشاور(سٹاف رپورٹر)گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ ضم اضلاع کو ترقی کے دھارے میں لانے اورضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے وزیراعظم سے بات کی جائیگی۔صوبائی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ضم اضلاع کی ترقی اور انضمام کے بعد مسائل کے حل کیلئے وفاق سے متعلقہ فورمز کے ذریعے معاملہ کو اٹھائے،متعلقہ فورمز پر بات کرکے ہی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، میری کوشش ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلے نہ بڑھیں کیونکہ وفاق کے ساتھ بیان بازی سے صوبے اورصوبے کے عوام کانقصان ہوگا،قبائلی عوام اور نوجوانوں کی ملک و قوم کیلئے قربانیوں و خدمات قابل تحسین ہیں،  نوجوان ہماراقیمتی آثاثہ ہیں، ملکی وعلاقائی مفاد میں نوجوان نسل کے رائے اورمشورے کااحترام کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کے روز گورنرہاوس میں ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے 27  رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت خیال زمان کررہے تھے جبکہ شاہ نواز، محمد رضوان، امان اللہ، طارق عزیز اور وحید خان سمیت دیگر بھی وفدمیں شامل تھے۔ وفد کے شرکائنے فیصل کریم کنڈی کوگورنر کاعہدہ سنبھالنے پرمبارکباد دی اور گلدستہ اور پورٹریٹ پیش کیا۔ وفد نے فاٹااصلاحات کے قبائلی علاقوں کو درپیش بعض مسائل سے آگاہ کیا اور کہاکہ صوبے میں ضم ہونے سے نہ پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں کم ہوگئی اور سینٹ کی مخصوص سیٹس ختم ہوگئی ہیں اس کے علاوہ ضم اضلاع کیلئے سالانہ 100 ارب روپے دینے کے وعدہ پر عملدرآمد بھی نہیں ہورہاہے۔شرکاء  نے قبائلی طلباء  کیلئے ملک بھر کی مخصوص یونیورسٹیوں میں مخصوص کوٹہ نہ دینے، ٹیکس وصولی، ضم اضلاع میں تعلیمی اداروں میں مقامی افراد کی بجائے غیرمقامی افراد کی بھرتیوں اورانضمام کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے تحفظات سے گورنرکو آگاہ کیا۔ اس موقع پر گورنرنے کہاکہ صوبائی حکومت کو دعوت دی ہے کہ وہ صوبہ بھربشمول ضم اضلاع کے حقوق کیلئے مل کر وفاق کیساتھ کیس لڑنے کو تیارہیں تاکہ نہ صرف ضم اضلاع بلکہ صوبے کے عوام کو سہولیات ومراعات میسر ہوسکے،صوبائی حکومت کو سنجیدگی کیساتھ مسائل کے حل کیلئے وفاق کیساتھ بات کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کیلئے خصوصی کوٹہ مقررکیاگیا ہے تاکہ وہاں کی پسماندگی کو دور کیاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے کو این ایف سی میں خصوصی طور پر1 فیصداضافی دیاگیا لیکن معلوم نہیں کہ صوبائی حکومت نے وہ رقم کہاں خرچ کی۔ ٹیکس کے حوالے سے گورنرنے کہاکہ قبائلی عوام کے تحفظات کو وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے اور توقع ظاہر کی کہ قبائلی نوجوان ضم اضلاع سمیت صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ گورنرنے ضم اضلاع میں مقامی افراد کی بھرتیوں، ملک بھرکی مخصوص یونیورسٹیوں میں قبائلی طلباء کیلئے مخصوص نشستوں سے متعلق مسائل کے حل کیلئے بھی وفد کو اپنی جانب سے تعاون کایقین دلایا۔ 

مزید :

صفحہ اول -