تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ فروغ تعلیم کا مشن مشکل ہے نا ممکن نہیں!

  تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ فروغ تعلیم کا مشن مشکل ہے نا ممکن نہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اتنے بچے سکول سے باہر نہیں ہیں جتنے پاکستان میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار جین میریٹ نے اسلام آباد میں تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور برطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ سمیت دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تعلیم کے بحران کا سامنا ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اتنے بچے سکول سے باہر نہیں ہیں جتنے پاکستان میں ہیں،غربت سے نمٹنے میں تعلیم بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ تعلیم نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کئے ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17-2016ءسے 22-2021ءتک سکول نہ جانے والے بچوں کی کل تعداد 22.02 ملین سے بڑھ کر 26.21 ملین ہو گئی ہے ،یعنی 6 برسوں میں پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی فہرست میں 40 لاکھ سے زیادہ بچوں کا اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر سال اس تعداد میں تقریباً 7 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں ہونے والی تعلیمی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کا سکول نہ جانا بہت بڑا چیلنج ہے۔ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا قوم کے لیے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ تعلیمی ایمرجنسی کے کامیاب نتائج کے لیے تمام وزرائے اعلیٰ سے ملیں گے اور وہ تعلیمی شعبے کی نگرانی خود کریں گے۔ دوسری طرف لاہور میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ہائرایجوکیشن سیکٹر ریفارمز سے متعلق اجلاس ہوا جس میں لیپ ٹاپ سکیم کی منظوری دی گئی۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے ترجیحی بنیادوں پر ہر ضلع میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی اور تحصیل کی سطح پر کالج بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی مسائل ہر سطح پر ہی گھمبیر ہیں، بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے، اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع موجود نہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان خواندگی میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔رپورٹس کے مطابق ملک میں اِس وقت شرح خواندگی لگ بھگ 63 فیصد ہے جبکہ صوبوں میں سب سے کم شرح خواندگی بلوچستان میں تقریباً 54 فیصد ہے، پنجاب میں 66 فیصد، سندھ میں 62فیصد اور خیبرپختونخوا میں شرح خواندگی 55 فیصد ہے،خواتین کی شرح خواندگی لگ بھگ 52فیصد جبکہ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد کے قریب ہے۔بنگلہ دیش کی شرح خواندگی 74.91 فیصد ہے جو کہ پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ سال پیش کیے گئے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں 32 فیصد بچے سکول سے باہر تھے اور اِن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر تھا جہاں 44 فیصد بچے سکول نہیں جا رہے تھے۔ سروے میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2022ءمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی تعلیمی اخراجات کا تخمینہ جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تھا جبکہ دنیا کے دیگر ممالک تعلیم پر اِس سے کہیں زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ شرح پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ 

اندریں حالات پاکستان میں حقیقی معنوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کے لئے سکول جانا یقینی بنائے۔ آئین کی شق A 25 کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ نظامِ تعلیم کی کمزوری تو پرائمری سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں سہولیات کی شدید کمی ہے، اساتذہ کی ٹریننگ کا بندوبست نہیں کیا جاتا، انہیں ماڈرن ٹیکنالوجی سے روشناس نہیں کرایا جاتا، سلیبس پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ”سنگل نیشنل کریکلم“ ایس این سی کا شور اُٹھا، اس کو مرتب کرنے کے لئے بہت سے لوگوں کی خدمات حاصل کی گئیں، اسے بغیر مناسب منصوبہ بندی کے نافذ بھی کر دیا اسی لئے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

آج کے نوجوانوں کی تربیت کرنے والے اساتذہ کرام کو شاعر مشرق ”علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کا نوجوانوں سے خطاب“ کو بطورِ خاص مد ِنظر رکھنا چاہئے :

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے

وہ کیا گر دُ وں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں

کُچل ڈالا تھا جس نے پاو_¿ں میں تاجِ سرِ دارا

تمدّن آفریں، خلاّقِ آئینِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا

سماں،الف_±قرَ و فَخری’ کا رہا شانِ امارت میں

بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت رُوے زیبارا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ مُنعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

غرض مَیں کیا کہُوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیاتھے

جہاںگیر و جہاںدار و جہاںبان و جہاںآرا

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں

مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا

تجھے آباسے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تُوگُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا

مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

غنی!روزِسیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کُن

کہ نُورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را

”علامہ اقبالؒ کا نوجوانوں سے خطاب “، ہمیں اپنی زندگی کا جزوِ لاینفک بنا لینا چاہئے۔ یہ علم کے ایسے موتی ہیں جو اساتذہ کرام سمیت قومی رہنماو_¿ں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے منشور کا حصہ بنانے چاہئیں۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ جب تک نوجوانوں کی بہترین تربیت اور ان کی اخلاقیات سنوارنے کی طرف بحیثیت قوم ہم توجہ نہیں دیں گے ، ترقی کا تصور بھی محال ہے۔ بطورِ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چند ماہ کارکردگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نیک نیتی سے کام کیا جائے تو پھر برسوں کا سفر ہفتوں میں طے کیا جا سکتا ہے۔ 

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒنے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ نوجوان قومی چمن کے سدا بہار پھول ہیں۔ یہ پاکستان، نوجوانوں کی بدولت ہی صرف سات سالہ جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا تھا لیکن آج محدود ذرائع آمدنی کے باعث کاروبارِ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ، جس کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد بے راہ روی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ مہنگائی نے اخلاقی قدروں کو بھی پامال کر دیا ہے۔بدمعاشی اور غنڈہ گردی جو پہلے محدود ہوا کرتی تھی، اس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔بے راہ روی کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے محال استعمال بھی ہے۔ اس کے ساتھ تعلیم کی کمی اور مذہب سے دوری بھی ، اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پھر رشوت، کرپشن، لاقانونیت، نفرت، راتوں رات امیر بننے کی خواہش ہمارے نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف تیزی سے مائل کر رہی ہے۔سب سے اہم یہ کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کی اخلاقی تربیت پر بھی وہ توجہ نہیں دے رہے ، جس کی ضرورت ہے۔جب تک میں اپنے بچے کی اخلاقی تربیت پر خود توجہ نہیں دوں گا تو وہ کیسے سدھرے گا؟

آج نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ان میں سے کئی تو ایسے ہیں جن کے والدین بھی ان سے خوفزدہ ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ زیادہ بے خوفی سے مجرمانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔لمحہ_¿ فکریہ ہے کہ ان میں اب کچھ لڑکیاں بھی شامل ہوتی جا رہی ہیں، جس کے باعث معاشرہ بگاڑ کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس کے سد ِباب کے لئے قومی سطح پر سخت ترین لا ئحہ عمل بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے ہی بچے ہیں، یہ قوم کا مستقبل ہیں۔ جس قوم کے نوجوان بے حیائی، بے غیرتی اور لاابالی پن سمیت شراب، نشے اور جوئے کی لت اور راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھنے لگےں، ایسے ملک کا مستقبل کیسے تابناک ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ان نوجوانوں کی اخلاقیات کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں ، انہیں ہنر مند بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر، ایسے ٹریننگ پروگرام اور کورسز ترتیب دیں کہ یہ نوجوان باعزت روزگار کما سکیں اور اپنے پاو_¿ں پر کھڑے ہو کر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنا بہترین حصہ ڈال سکیں۔ 

نوجوان قومی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب تک نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ آج انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سرِشام گلی محلوں میں چوک چوراہوں پر دکھائی دیتی ہے۔یہ نوجوان گروپوں اور ٹولیوں کی صورت میں ہوتے ہیں، جن کی اکثریت غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہے،جس کی وجہ سے جھگڑے اور سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان نوجوانوں میں سے اکثریت کے والدین بھی ان سے خوفزدہ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی بات مانتے ہیں اور نہ ہی احترام کرتے ہیں جس کے باعث یہ زیادہ بے خوفی سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ کوئی چھوٹا ”ڈان“ تو کوئی بڑا ”ڈان“ کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ان گروپوں میں سے کچھ تو بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں، کچھ ایسے طالب علم بھی ہوتے ہیں جو پڑھائی پر مکمل دھیان نہیں دیتے ، جس کے باعث معاشرہ تیزی سے بے راہ روی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چند سال میں ایسے گروپوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے سدِباب کے لئے حکومتی سطح پر سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں کے سربراہوں، تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کو خصوصی اختیارات تفویض کرنا ہوں گے۔ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ جس طرح تمام طالب علم ایک جیسی یونیفارم میں سکول آتے ہیں، اسی طرح ان کے بالوں کے سٹائل مختلف ہونے کی بجائے ایک ہی ہوں، فوجی کٹنگ کو طلبہ کی یونیفارم اور شخصیت کا حصہ بنا دیا جائے۔ طلبہ کی ایک جیسی یونیفارم اور کٹنگ ہو گی تو اس سے ان کی شخصیت نکھرے گی۔صرف حلیہ درست ہونے سے آدھی سے زیادہ نسل نظم و ضبط کی پابند ہو جائے گی اور جو طلبہ تعلیمی اداروں میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے والدین کو بلا کر انہیں آگاہ کیا جائے۔ اگر وہ طالب علم والدین کے کہنے سننے میں نہیں ہیں تو انہیں سمجھایا بجھایا جائے۔ اگر اس پر بھی اخلاقیات بہتر نہیں ہوتیں تو پھر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اوّل تو بالوں کا سٹائل بہتر ہونے سے ستر، اسّی فیصد طالب علموں کی اخلاقیات بہتر ہو جائیں گی، رہی سہی کسر والدین کے ساتھ میٹنگ کرنے سے پوری ہو جائے گی اور سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، بالخصوص ایسے میں جبکہ طلبہ کو معلوم ہو گا کہ اگر خود کو بہتر نہ کیا گیا تو انہیں کس قدر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رہی ان نوجوانوں کی بات جو شام ہوتے ہی، ٹولیوں اور گروپوں کی صورت میں گلی محلوں میں دکھائی دیتے ہیں، ان کے بھی پہلے حلیے درست کروائے جائیں، انہیں بھی فوجی کٹنگ کا پابند بنایا جائے ، دوسرے ان پر ٹولیوں یا گروپوں کی صورت میں بیٹھنے پر پابندی لگائی جائے ۔ جو نوجوان اپنے والدین کے کہنے سننے میں نہیں یا جن کے والدین ہی نہیں، ان کے سرپرستوں کی ذمہ داری ہو کہ وہ ان بچوں کی اخلاقیات درست کریں۔ اگر یہ بچے ان کی بات نہیں مانتے تو حکومتی سطح پر ایک ادارہ بنا کر یا کسی بھی ادارے کو یہ ذمہ داریاں تفویض کر کے، اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرےں۔ اسی طرح ہر تعلیمی ادارے میں طلبہ کے مسائل کے حل اور ان کی کیرئیر کونسلنگ کے لئے کم از کم ایک استاد کو مختص کیا جائے۔ طلبہ کی کیرئیر کونسلنگ کے لئے باقاعدہ ہر ماہ بزمِ ادب کی طرز پر تقریب کا اہتمام ہو جس میں کسی ایسی معزز شخصیت کو مدعو کیا جائے جو اپنے تجربات سے طلبہ میں علم کے حصول اور ملک سے محبت کا جذبہ اجاگر کرے۔ اس طرح تیار ہونے والی نسل ملک سے محبت ، اداروں کا احترام اور فرائض کی انجام دہی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔

بدقسمتی سے آج ملک میں ہر چیز لگژری ہو چکی ہے۔ معیاری تعلیم اور طبی سہولتیں ناپید ہو رہی ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور نجی یونیورسٹیوں کی فیسوں پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ اب تو اکیڈمیوں اور ٹیوشن سنٹروں کی فیسیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے من مانی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تعلیمی ادارے فیسوں کے علاوہ بھی آئے روز مختلف مد میں طلبہ سے رقوم وصول کرتے رہتے ہیں۔ان کے اخراجات روز بروز بڑھ رہے ہیں اور تعلیمی معیار گرتا جارہا ہے۔ایک زمانے میں سرکاری سکول بہترین ہوتے تھے ، ہر کوئی وہیں تعلیم حاصل کرتا تھا، لیکن اب ان کی حالت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دگرگوں کیا جا رہا ہے۔معاشرے میں آج استاد کو وہ مقام میسر نہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں ہے۔ استاد کو معاشرے میں تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے ، اسے معاشی فکر سے آزاد کیا جائے،اسے احترام اور مراعات ملنی چاہئیں ، انہیں بھی حکومت کی طرف سے پلاٹ بلکہ گھر ملنے چاہئیں۔آج اساتذہ کرام کو اپنے حق کے لئے بھی عدالتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے ، پھر بھی انہیں ان کا حق دینے کے لئے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ( سابقہ ایم سی ایل ) کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کی مثال ہی لے لیجیے ، جنہیں لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود گزشتہ بارہ ،پندرہ سال سے پروموشن نہیں دی جا رہی۔ ان اساتذہ کرام کو ریٹائرمنٹ پر حکومت ِپنجاب کی طرف سے اپنی چھت فراہم کرنے کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب کو چاہیے کہ ایکس ایم سی ایل کے اساتذہ کرام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کروائیں۔ ایم سی ایل کے ریٹائرڈ ہونے والے سینکڑوں اساتذہ کرام کو کئی سال گزر جانے کے باوجود، واجبات ادا نہیں کئے جاتے۔اسی طرح اور بھی مسائل ہیں جو حل طلب ہیں، لیکن متعلقہ افسر اپنی ذمہ داریاں کماحقہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ پنجاب کے نوجوان اور باصلاحیت وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو اللہ تعالیٰ ایسی خوبیوں سے نوازا ہے جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں، انہوں نے جس طرح امتحانی نظام کو بہتر کیا، اس پر یقینا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں، وہ فوری طورپر مسئلے کو سمجھنے اور فوراً ہی اس کے حل کے لئے احکامات جاری کرتے ہیں، جتنی تیز رفتاری سے رانا سکندر حیات کام کرتے ہیں، اس پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ رانا سکندر حیات صاحب کو چاہیے کہ وہ ایم سی ایل کے اساتذہ کرام کے مسائل کے حل کے لئے کوئی جامع پروگرام بنائیں، نیز یہ کہ جو سرکاری افسر اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کرتے، ان کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ افسر اگر ریٹائرڈ ہو جائیں یا ٹرانسفر ہو جائیں تو بھی ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ اسی طرح اے جی آفس میں سرکاری ملازمین کے بقایاجات کی بروقت ادائیگی نہ کرنے والے ملازمین کو بھی نشانِ عبرت بنانے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص وہ سرکاری ملازمین جو بھاری بھرکم رقم بطور رشوت وصول کرنے کے چکر میں اپنے فرائض بروقت انجام نہیں دیتے ، ان کے خلاف بھی سخت ترین تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔

پنجاب یونیورسٹی نے گزشتہ سال پٹرول مہنگا ہونے پر یونیورسٹی بس استعمال کرنے والے طلبہ و طالبات سے پندرہ سو روپے ماہانہ وصول کرنے شروع کر دیئے ہیں جبکہ طلبہ و طالبات کو مفت یا پھر معمولی رقم کے عوض یونیورسٹی ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرتی تھی، اب جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کئی مرتبہ کم بھی ہو چکی ہیں تو پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ طلبہ کو یہ سہولت پہلے کی بنیادوں پر فراہم کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہئے کہ جس طرح سپیڈو ، اورنج ٹرین اور میٹرو بس میں طلبہ کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے ، پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت ملنی چاہیے۔

تعلیمی نصاب پر نظر ثانی بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اوّل یا دوئم جماعت تک طلبہ کی صرف چند کتب ہی ہونی چاہئیں، وہ بھی سوال و جواب کے طرز پر۔ یہ کتب طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو مدِنظر رکھ کر بنائی جائیں،تاکہ طلبہ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جلا ملے۔ تیسری سے پانچویں جماعت تک نصاب میں مزید ایک دو کتب کا اضافہ کر دیا جائے۔جماعت ششم سے دسویں تک نصابی کتب میں سائنس ، کمپیوٹر سمیت ٹیکنیکل تعلیم کو شامل کیا جائے۔ایک کتاب میں 40 ، 50 سے زیادہ سوالات نہ ہوں۔یہ سوالات ششم سے دسویں جماعت تک نصابی کتب میں اس طرح ترتیب سے دیئے جائیں کہ دسویں پاس طالب علم معاشرے کا ایک فعال شہری بن سکے ، اس کے پاس اتنا علمی مواد ہو کہ وہ اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کر سکے ، اسے تحریر اور تقریر پر دسترس حاصل ہو۔ جب تک ہم رٹے رٹائے طوطے پیدا کرتے رہیں گے ، ملک کو خوشحالی سے روشناس نہیں کروا سکتے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب نئی نسل اپنی مخفی صلاحیتوں کو از خود استعمال کرنے کے قابل ہو۔

پاکستان میں ایک وقت تھا جب سب بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے تھے،ایک نظامِ تعلیم تھا، امیر غریب ہر کسی کا بچہ وہیں تعلیم حاصل کرتا تھا اور زندگی میں آگے بڑھتا تھا،اس وقت تعلیم کا معیار بھی کہیں بہتر تھا۔ پھر پرائیویٹ سکول بننے لگے، تعلیم ”مہنگی“ ہونے لگی، آہستہ آہستہ میٹرک کی جگہ او اور اے لیولز نے لے لی اور اب آئی بی سسٹم کا چرچا ہے۔اسی طرح اعلیٰ تعلیم پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیپ ٹاپ دینا اچھی روایت ہے لیکن اس سے بڑھ کر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ابھی بھی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا معیار بعض پرائیویٹ جامعات سے کہیں بہتر ہے لیکن وسائل نہ ہونے کے سبب وہ اپنے طلبا کو بہترین تعلیمی سہولیات دینے سے قاصر ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کہیں وسائل نہیں ہیں اور کہیں اتنی بد نظمی ہے کہ جامعات کے معاملات چل کر نہیں دے رہے۔گزشتہ ڈیڑھ سال سے پنجاب کی 28 جامعات مستقل وائس چانسلرز کے بغیر چل رہی ہیں۔ سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کے دورِ حکومت میں جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل عدالت کے ذریعے رکوا دیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حلف لینے سے شاید ایک دن قبل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کیںکہ فوراََ مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل شروع کیا جائے لیکن ابھی تک تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی، اس پر عمل نہیں ہوا گزشتہ پنجاب کیبنٹ کی میٹنگ میں اسے ایجنڈے پر رکھا گیا جس میں پنجاب کی جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کاعمل شروع کرنے کی بات کی گئی۔یہ کس قدر اچنبھے کی بات ہے کہ سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلر لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ اصولی طور پر تو ایسا نظام وضع ہونا چاہئے کہ کسی بھی وائس چانسلر کی میعاد مکمل ہونے سے پہلے ہی اگلے وائس چانسلر کا انتخاب کر لیا جائے اس سے کسی بھی یونیورسٹی کا نظام متاثر نہیں ہو گا۔

 اہل اربابِ اختیار کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ہر سطح پر تعلیمی نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہر سال سکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد میں سات لاکھ کا اضافہ ہوتا رہا تو سوچیں آج سے پانچ دس سال بعد کیا حالات ہوں گے، اور پھر جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو ان کا معاشرے میں کیا کردار ادا ہو گا؟ یہ لمحہ فکریہ ہے، اس پر واقعی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔بہت سے ایسے ادارے ہیں جنہوں نے پسماندہ علاقوں میں سکول ایڈاپٹ کر رکھے ہیں اور مخیرحضرات کی مدد سے بہترین طریقے سے ان کا نظام چلا رہے ہیں، حکومت ان کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے پر غور کرے، علاقے کے ہر بچے کی سکول میں رجسٹریشن یقینی بنائی جائے۔ملکی ترقی کا خواب تعلیم کے سہارے ہی شرمندہ_¿ تعبیر ہو سکتا ہے۔ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کے ساتھ ساتھ خلوصِ دل اور نیک نیتی کے ساتھ معیاری اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظامِ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں گے تو پھر ہی اس کے بہتر نتائج آئندہ چند سالوں میں ظاہر ہوں گے۔قوم کے ہر فرد کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری تندہی سے انجام دینی ہو گی ،تب کہیں جا کر ہم اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکیں گے۔

 تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔ قوم اپنے عزم اور حوصلے سے کسی بھی چیلنج پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان چیلنجوں پر قابو پاکر ایٹمی قوت بنا ، اگر ہم یکسو ہو کر چلیں تو پاکستان ہر شعبے میں اپنا نام پیدا کرے گا۔ پاکستان مشکل حالات کے باوجود کئی بڑے عزائم کو پایہ_¿ تکمیل تک پہنچا چکا ہے۔ فزکس کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کیا ،جو لوگ ایٹمی پرگروام کو خواب کہتے تھے انہوں نے اس کی عملی تعبیر دیکھ لی۔حال ہی میں چاند کی طرف خلائی مشن بھیج کر اسلام آباد واضح کر چکا ہے کہ عزم اور عمل یکجا ہو کر بڑے نتائج دیتے ہیں۔ معاشی مشکلات میں گھرے پاکستان کا فروغِ تعلیم کا مشن مشکل سہی، ناممکن نہیں۔ اخلاص و انہماک سے کام کر کے ہمیں اپنے اداروں کو ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر عبدالقدیر اور ان جیسے دیگر آفتابوں کی آماجگاہ بنانا ہے۔ ہماری بقا و ترقی کی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم تعلیم کے پھیلاﺅ کے ساتھ اس کے اعلیٰ معیار کو بھی یقینی بنائیں۔  ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -