اکتوبر انیس سو ننانوے کے اقدام پر کا روائی کے طالب مشرف کا ٹرائل نہیں چاہتے

اکتوبر انیس سو ننانوے کے اقدام پر کا روائی کے طالب مشرف کا ٹرائل نہیں ...

            تجزیہ:سعید چودھری

وفاقی حکومت کی طرف سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کے اعلان کے بعد بعض حلقے زور دے رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف12اکتوبر1999 ءکے اقدام پر بھی کارروائی کی جائے۔حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف ان کے 3نومبر2007ءکے اقدام پر سنگین غداری کا مقدمہ تیار کیا ہے ،پرویز مشرف نے 3نومبر2007ءکو ایک عبوری آئینی فرمان(پی -سی -او)جاری کرکے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے43جج فارغ کردئیے تھے ،جبکہ12اکتوبر 1999ءکو میاں محمد نواز شریف کی جمہوری حکومت برطرف کرکے آمریت مسلط کی تھی اور آئین کو طاقت کے ذریعے سبوتاژ کیا تھا،وہ کون لوگ ہیں جو جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 12اکتوبر1999ءکے اقدام پر کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں؟پرویز مشرف کے ٹرائل سے ”پنڈورا بکس“کھلنے کی باتیں کون کررہے ہیں؟ کیا پرویز مشرف کے12اکتوبر1999ءکے اقدام پر آرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے؟12اکتوبر 1999ءکے فوجی اقدام کے حوالے سے دو اہم قانونی نکات ایسے ہیں جو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی راہ میں حائل ہیں ،ایک یہ کہ اس وقت کی سپریم کورٹ نے12اکتوبر1999ءکے فوجی اقدام کو جائز قرار دیا تھا،اس حوالے سے سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی سپریم کورٹ نے مارشل لاءکو جواز فراہم کرکے خود کو بھی آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کا سزاوار بنالیا تھا،اس سلسلے میں 18ویں آئینی ترمیم سے قبل آئین خاموش تھا۔2010ءمیں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 6میں تبدیلی کی گئی کہ کوئی عدالت بشمول سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس ،سنگین غداری کے اقدام کو جائز قرار نہیں دے سکتی،18ویں ترمیم میں پہلی مرتبہ یہ نکتہ بھی شامل کیاگیا کہ طاقت کے ذریعے دستور توڑنے یا توڑنے کی کوشش کرنے والے کا ساتھ دینا بھی سنگین غداری ہے،اس کے لئے آئین میںCOLLABORATINGکا لفظ استعمال ہوا ہے،یوں کسی آمر کی حکومت میں شامل ہونااور دیگر طریقوں سے اس کا ساتھ مل کر کام کرنا بھی آرٹیکل 6کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے،18ویں آئینی ترمیم سے قبل مارشل لاءکو جائز قرار دینے والی عدلیہ اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج بظاہر آرٹیکل 6کے زمرہ میں نہیں آتے ،بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکل 12اس چیز سے تحفظ دیتا ہے کہ کوئی فوجداری قانون مو¿ثر بہ ماضی نہیں ہوسکتا،تاہم سنگین غداری کے جرم میں سزادینے کا قانون مجریہ1973ءیہ واضح کرتا ہے کہ اس کا اطلاق1956سے ہوگا،یہ واحد نافذ العمل قانون ہے جس کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے ۔اب یہ بات بحث طلب ہے کہ 18ویں ترمیم سے قبل فوجی آمر کا ساتھ دینے والے ججز بھی آرٹیکل 6 کے شکنجہ میں آئیں گے یا نہیں؟سنگین غداری کے قانون کو دیکھا جائے تو اس کا جواب ہے آئیں گے اور اگر آئین کے آرٹیکل 12کو سامنے رکھا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے ،تاہم بنیادی حقوق کے آرٹیکل 8کے تحت آرٹیکل 12کو قانون پر فوقیت حاصل ہے،آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ بنیادی آئینی حقوق کے منافی بنائے گئے قانون کالعدم ہوں گے۔اب آتے ہیں دوسرے نکتہ کی طرف کہ پرویز مشرف کے خلاف 12اکتوبر1999ءکے اقدام پر کارروائی کیوں نہیں ہوسکتی؟ جنرل پرویز مشرف نے21اگست2002ءکو لیگل فریم ورک آرڈر جاری کرکے اپنے اقدامات کو تحفظ دیا۔31دسمبر2003ءکو چند ایک معمولی ترامیم کے ساتھ پارلیمنٹ نے لیگل فریم ورک آرڈر کی توثیق کردی اور 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پرویز مشرف کے12اکتوبر1999ءکے مارشل لاءسمیت تمام اقدامات اور جاری کردہ قوانین کو تحفظ دے دیا،پارلیمنٹ کی توثیق اور آئینی ترمیم کے باعث پرویز مشرف کے مارشل لائ1999ءاور ان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی جبکہ پرویز مشرف کے3نومبر 2007ءکے اقدام کی تو عدلیہ نے توثیق نہیں کی،پارلیمنٹ نے بھی اس اقدام پر مہر تصدیق ثبت نہیں کی بلکہ3نومبر2007ءکو موجود عدلیہ نے تو3نومبر2007ءکے پی سی او کے خلاف حکم امتناعی بھی جاری کردیا تھا ،یہ حکم امتناعی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے جاری کیا تھا،ان حالات میں پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر2007ءکے اقدام پر کارروائی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

جو لوگ پرویز مشرف کے خلاف اکتوبر1999ءکے اقدام پر بھی مقدمہ چلانے کا شور مچا رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیںجو یہ کہہ رہے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے سے پنڈورا بکس کھل جائے گا ،ان کا مقصد حکومت کو اس بات سے خوفزدہ کرنا ہے کہ اس ٹرائل میں دیگر جرنیلوں کے نام بھی آئیں گے جسے فوج برداشت نہیں کرے گی،یہ شور مچانے والوں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں کچھ تو وہ ہیں جو پرویز مشرف کے ساتھی رہے ہیں، باقی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پرویز مشر ف کے جانے کے بعد اقتدار کے مزے لوٹے،آئین کی بالا دستی کے نعرے بھی لگائے لیکن پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی نہیں کی،دوسرے لفظوں میں پرویز مشرف کے خلاف12 اکتوبر 1999ءکے اقدام پر آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرنے والے بادی النظر میں ان کا ٹرائل نہیں چاہیے´3نومبر کے اقدام کے حوالے سے پرویز مشرف نے قوم سے جو خطاب فرمایا تھا اس میں انہوں نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ ”مَیں نے پی سی او جاری کرنے کافیصلہ کیا ہے“انہوں نے فوج اور دیگر حلقوں سے مشوروں کی بات تو کی لیکن پی سی او جاری کرنے کو اپنا فیصلہ قراردیا تھا،3نومبر 2007ءکے اقدام کے حوالے سے سپریم کورٹ31 جولائی2009ءکو فیصلہ دے چکی ہے کہ یہ فردِ واحد پرویز مشرف کا اقدام تھا،ان حالات میں پنڈورا بکس کھلنے کی باتیں ایک ڈراوا ہیں ویسے بھی یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کن لوگوں کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کرتی ہے۔ہاں ٹرائل کورٹ میں پرویز مشرف پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش کرسکتے ہیں اب یہ عدالت دیکھے گی کہ اس نے معاملے کو کس حد تک لے کر جانا ہے،عام طور پر عدالتیں ملزم کے اس بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی ہیں جس میں وہ دیگر لوگوں کو بھی شریک ِ جرم قراردیتا ہے ،اگر پرویز مشرف نے پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش کریں گے کہ فلاں فلاں بھی ان کے ساتھ شامل تھا تو یہ ان کا اقبالِ جرم تصور کیا جاسکتا ہے۔

مزید : تجزیہ